Asma Ul Husna : Allah

اسماء الحسنیٰ : اللہ

یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، ابجد کے اعتبار سے اعداد 66تمام اموردین و دنیا کے لیے کفایت کرنے والا، قرآن حکیم کی 6666آیات میںیہ اسم گرامی 2360(دوہزار تین سو ساٹھ) دفعہ آیا ہے

جمعرات مئی

Asma Ul Husna : Allah

پیر شاہ محمد قادری سرکار:
یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، ابجد کے اعتبار سے اعداد 66تمام اموردین و دنیا کے لیے کفایت کرنے والا، قرآن حکیم کی 6666آیات میںیہ اسم گرامی 2360(دوہزار تین سو ساٹھ) دفعہ آیا ہے ۔ کسی اسم الٰہی کی اتنی تکرار نہیں ہوئی اس اسم کے ورد سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا کی تمام حاجات پوری فرماتا ہے۔ اسم ذات اللہ میں بیماریوں کے لیے شفا کی خاص ثاثیر ہے طریقہ یہ ہے کہ کسی چینی کی پلیٹ پر زعفران سے 66مرتبہ لکھیں اور اسے شہد سے دھو کر پلائیں تو مریض جلد شفا پائے۔

حصول مرتبہ اور دولت کے لیے بروز اتوار جب طالع حمل میںہو تو سونے کے مربع پر اسم ذات اللہ کندہ کروا کر یہ انگوٹھی پہنے اور اس پر66بار یہ اسم پڑھ کر دم کر لیا جائے تو مقصد حاصل ہوگا۔

اسم اللہ کو وقت اور جگہ کی پابندی کے ساتھ روزانہ ایک ہزار بار پڑھنے والے کو رعب و دبدبہ حاصل ہو ، دنیا اس کے سامنے سرنگوں رہے، بہتر ہے بعد نماز فجر پڑھے۔ اسی طرح ہر نماز کے بعد 66بار پڑھنے سے تمام امور دنیا میں غیبی امداد حاصل ہو۔

اگر کوئی خاص جگہ مصلے پر بیٹھے، پہلے سات بار درود ماہ شب سہ شنبہ میں نہا دھو کر پاکیزہ لباس پہن کر اور خوشبو لگا کر کسی تنہا جگہ مصلے پر بیٹھے، پہلے سات باردرود شریف پڑھے، پھر تین بار آیت الکرسی پڑھے، اس کے بعد چاروں قل ایک ایک بار پڑھے تو تمام کام انشاءاللہ اکیس روز میں بن جائیں گے۔میں نے ابتداءمیں اسم اللہ کے فضائل بیان کیے،درحقیقت اللہ ہی ہے جو اپنی رحمت سے بندوں کو ، تمام چانداروں کو پالتا ہے۔
اللہ اپنے فضل سے اپنے خاص بندوں کے درجات بڑھاتا ہے۔ اللہ دعاو¿ں کو سنتا مرادیں بخشتا ہے اللہ ہی ہے جو نورالمسٰوٰات والا رض ہے۔انوار الٰہی ہر جگہ درخشاں ہیں ، خود انسان کی آنکھ میں اسی کا نور بصارت کی بنیاد ہے ۔ اگر قلب سلیم ہے تو اس میں بھی اللہ کا نور ہے ہر صحیح الذہن شخص کے ذہن میںبھی اس کا نور ہے عقل و شعور اللہ کے نور سے ہی کام میں مصروف ہیں۔
چھوٹی سی مثال ہے کہ اگر کسی پتھر کو دوسرے پتھر پر مارو اس میں سے بھی نور کی چنگاریاں نکلتی دکھائی دیں گی۔اگر دل پر اللہ کی محبت کی ضرب لگاو¿ تو قلب میں نورانیت کا پیدا ہونا یقینی ہے ۔ جنگل میں سوکھی ہوئی لکڑیاں بھی اس کے نور سے مالامال ہیں کیونکہ ان میں سے نکلنے والی آگ بھی نور کا پرتو ہے۔ زمین اور آسمان کے درمیان بھی اللہ کی نورانیت کی لہریں موجود ہیں۔
اگر چاند، سورج میں اس کا نورنہ ہوتا تو دنیا میں گھپ اندھیرا ہوتا اور ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ،دنیا کا کوئی کام سر انجام نہ پاتا۔ پتھروں اور جواہرات (موتی نگینے) میں بھی اللہ کا نور ہے، اسی طرح آنکھیں کھول کر دیکھنے والوں کے لیے ہر طرف نور ہی نور کی جلوہ فرمائی ملے گی۔اسم اللہ کی صفات کا کیا ٹھکانہ ہے ، شعور و عقل انسانی میں اسی کے نور کے باعث دنیا میں بڑی بڑی ایجادات کا سلسلہ جاری ہے۔
کمپیوٹر اور سپر کمپیوٹر ایجاد ہو رہے ہیں اور انسان زمین و آسمان کے قلابے ملانے میںمصروف ہے۔ اللہ کے نور کے باعث ہی انسان دیگر جانداروں یعنی حیوانات سے اعلیٰ اور اشرف المخلوقات ہے بصورت دیگر ایک لٹھ باز آدمی ہمیں جدھر چاہتا ہانکتا چلا جاتا اور پھر جانوروں کی طرح ڈنڈے کھاتے اور چلاتے رہتے۔ اللہ کے نور سے ہی انسان زندگی کی روشن راہوں کی تلاش کرتا اور ظلمت سے بچتا ہے اور روشنی میں آجاتا ہے۔
انسان اللہ سے اپنے تعلق کے باعث ہی برگزیدہ ہے ۔ آج کے سائنسی دور میں ایک چھوٹی سی چپ (chip)سپر کمپیوٹر کو چلانے کا ذریعہ ہوتی ہے انسان چھوٹی چپ(Chip) بن کراگر سپر کمپیوٹر اللہ تعالیٰ سے اپنارشتہ جوڑل لے تو پھر دنیا میں اس کے راحت و آرام اور آخرت میں فلاح و بخشش کا راستہ آسان ہو جائے گا۔ آپ اپنے رب ، اپنے اللہ سے رشتہ و تعلق جوڑ کر دیکھئے ضرورت صرف اخلاص نیت اور بندہ خدا بننے کی ہے۔

Your Thoughts and Comments