Atia Khudawandi

عطیہ خداوندی

حضرت سہل بن عبداللہ تشری رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق روایت ہے کہ جب ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو جب بھی وہ بچہ ماں سے کھانا طلب کرتا تو وہ کہتی کہ خدا سے طلب کرو چنانچہ وہ لڑکا محراب میں جا کر سجدہ کرتا اور کھانے کی دعا کرتا۔

Atia Khudawandi
علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ :
حضرت سہل بن عبداللہ تشری رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق روایت ہے کہ جب ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو جب بھی وہ بچہ ماں سے کھانا طلب کرتا تو وہ کہتی کہ خدا سے طلب کرو چنانچہ وہ لڑکا محراب میں جا کر سجدہ کرتا اور کھانے کی دعا کرتا ۔ اس کے ساتھ اس کی ماں چپکے سے اس کے پاس اس طرح کھانا رکھ دیتی تھی کہ اس کو خبر نہ ہوتی تھی ۔
اس سے لڑکے کے دل میں یہ یقین پختہ ہوگیا جو کھانا اسے ملتا ہے خداوندتعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ ایک دن جب وہ لڑکا مدرسے سے واپس آیا تو ماں موجود نہ تھی ۔ اس نے محراب میں جا کرسجدہ کیا اور کھانے کے لئے دعا مانگی تو کھانا مل گیا جب اس کی ماں واپس آئی تو بیٹے سے پوچھا کہ کھانا کہاں سے آیا اس نے کہا جہاں سے روزانہ آتا ہے ۔


اسی طرح جب حضرت زکریا علیہ السلام حضرت بی بی مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لے جاتے تو گرمی کے موسم میں سردی کے پھل اور سردی کے موسم میں گرمی کے پھل پڑے ہوئے دیکھے تھے ۔

جب اس کی وجہ دریافت فرماتے وہ یہ جواب دیتی تھی : یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں ۔
لیکن بزرگوں کی ان روایات کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ درویش خداوند تعالیٰ سے دنیا طلب کرے یاحرام کی خواہش کرے یا عیش وعشرت طلب کرے کیونکہ درویش دل کی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوتا ہے جیاس کہ ایک دنیا دار آدمی مال ودولت کی تباہی سے تباہ ہوتا ہے ۔ لیکن جہاں ایک امیرآدمی اپنے نقصان کا ازالہ کر سکتا ہے درویش کا نقصان اس قسم کا ہے کہ اس کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا اور اس زمانے میں درویشوں کے مزاج کے مطابق ایسی بیوی کا ملنا تقریباََ ممکن ہوگیا ہے جو ضرورت سے زیادہ طلب نہ کرتی ہو یا فضول چیزوں سے پرہیز کرے ۔
یہی وجہ سے کہ بعض حضرات نے تجرد کو پسند کیا اور اپنی پشت پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے :
آخری زمانے میں بہترین شخص وہ ہوگا جس کا بوجھ کم ہوگا “ جب آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا : یارسول ﷺ کم بوجھ سے کیا مراد ہے فرمایا کہ ” جس کے اہل وعیال نہ ہوں ۔
نیزآپ ﷺ نے فرمایا :
تیز چلو کیونکہ بے اہل وعیال تم سے سبقت لے گئے۔

Your Thoughts and Comments