Azmat E Ambiya AS Quran E Hakeem Ki Roshni Main

عظمت انبیاء علیہ السلام قرآن حکیم کی روشنی میں

عصمت انبیاء کامسئلہ ہمیشہ ہی بہت اہمیت کاحامل رہاہے۔آج بھی یہ مسئلہ پوری شد و مد کے ساتھ موجودہے۔ انبیاء پرطعن وتشنیع ‘ان کی شخصیات کو،ان کی عزت ووقار کو مجروح کرنا ،اس حوالے سے اللہ کے دین کونشانہ بنانا

Azmat e Ambiya AS Quran e Hakeem Ki Roshni main
پروفیسرحافظ محمدسعید:
عصمت انبیاء کامسئلہ ہمیشہ ہی بہت اہمیت کاحامل رہاہے۔آج بھی یہ مسئلہ پوری شد و مد کے ساتھ موجودہے۔ انبیاء پرطعن وتشنیع ‘ان کی شخصیات کو،ان کی عزت ووقار کو مجروح کرنا ،اس حوالے سے اللہ کے دین کونشانہ بنانا‘عام لوگوں کودین سے برگشتہ کرنا‘قرآن مجیدکے بارے میں شکوک وشبہات پیداکرنا ، قرآن کی بے حرمتی ‘رسول ﷺ کی بے حرمتی اور ان کی عزت وناموس پہ حملے یہ مسئلہ دن بدن سنجیدگی اختیارکرتاجارہاہے۔
اس اعتبارسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عزت وناموس کی حفاظت کوبہت اہمیت دی ہے۔
انبیاء کی عصمت کا مسئلہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے‘ اس کااندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے کواللہ نے قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پرباربارواضح کیااورانبیاء علیہ السلام کی عصمت کاخصوصی دفاع کیا ہے۔

اس کی کچھ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
یوسف علیہ السلام پرتہمت لگ گئی۔

عزیزِ مصرکی بیوی نے آپ سے اپنی ناپاک خواہش پوری کرناچاہی تویوسف علیہ السلام نے کہا:
”معاذاللہ‘ “میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں۔“ میں ایسی قبیح حرکت کے قریب نہیں جاوٴں گا۔
یوسف علیہ السلام اپنی عصمت وعزت بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ دروازے بندہی نہیں بلکہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کااللہ پرتوکل ہے کہ وہ گناہ سے بچنے کی پوری تدبیر کرتے ہوئے دروازوں کی طرف بھاگتے ہیں۔
عزیز مصر کی بیوی نے بری نیت سے یوسف علیہ السلام کی پیچھے سے قمیص پکڑلی تو قمیص وہاں سے پھٹ گئی۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے مددکی ،تالے ٹوٹ گئے اور دروازے کھل گئے۔
جب دونوں آخری دروازے سے باہر پہنچے توسامنے اس عورت کاخاوند عزیزِمصر کھڑا تھا۔ اس عورت نے اپنے خاوند کودیکھاتوکہنے لگی:
دیکھ۔۔۔۔۔! یہ شخص کتنا بڑامجرم ہے کہ اس نے تیری عزت پرہاتھ ڈالاہے۔
عزیز مصر کی بیوی کا الزام درحقیقت یوسف علیہ السلام کی ناموس اور منصب نبوت پر حملہ تھا لہٰذا یوسف علیہ السلام کی ناموس کی حفاظت کے لئے فورا ً ہی اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر چلائی۔عزیزِ مصر کی بیوی کے رشتہ داروں میں سے ایک بول اٹھا(کہاجاتاہے کہ وہ بچہ تھا بعض جگہ بڑی عمرکالکھاہے)
اس نے کہا۔”اے عزیزمصر! اس شخص کے اخلاق کریمہ کو ہم جانتے ہیں۔
یہ ایسانہیں ہوسکتا۔اگر فیصلہ کرنا ہے تو پھر دیکھ : یوسف علیہ السلام کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تویہ عورت سچی۔اگرقمیص پیچھے سے پھٹی ہے توپھریہ عورت جھوٹی اوریوسف علیہ السلام سچے ہیں۔
جب قمیص کودیکھاگیاتووہ پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔حاکم مصر سارا معاملہ سمجھ گیا۔کہنے لگا:
” اے یوسف !میری عزت کاسوال ہے۔ توکسی سے بات نہ کرنا۔ساری شرارت میری بیوی کی ہے۔
تیرا کوئی گناہ نہیں ہے۔ پہلے یہ بات چندلوگوں تک محدود رہی ‘کسی کوکچھ پتہ نہ تھالیکن پھر آہستہ آہستہ بات پھیلنے لگی۔
مصرکی عورتیںآ پس میں کہنے لگیں‘یہ کیسی عورت ہے۔عزیزمصرکی بیوی ہوکراپنے ہی غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے۔ اس کادماغ خراب ہے۔ اس کو مرتبے کاہی پتہ نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا خواب کی تعبیر بتانے کیلئے جب حاکم مصر کی طرف سے یوسف علیہ السلام کو قیدخانہ سے رہائی کا حکم پہنچاتوانہوں نے فرمایامیں ایسے باہرنہیں آوٴں گا۔
پہلے میرے اوپر لگائے گئے الزام کافیصلہ کرو۔جنہوں نے مجھ پرالزام تراشیاں کیں‘پروپیگنڈے کیے‘مصرکے شہر میں میری عزت کواچھالاگیا‘پہلے اس معاملے کی تحقیق کرو۔جب میرے دامنِ عزت پر لگاداغ دھلے گا‘تب میں رہائی قبو ل کروں گا۔
عزیز مصر نے عورتوں کو جمع کرکے معاملہ پوچھا۔ساری عورتوں نے گواہی دی کہ یوسف سچاہے۔اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔
آخرمیں عزیز مصر کی بیوی کہنے لگی‘ حقیقت یہ ہے کہ حق واضح ہوچکاہے۔ میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا،میں ہی اسے اندرلے کے گئی۔ یہ ساراجرم وگناہ میراہے۔یوسف سچاہے۔ اس کاکوئی گناہ نہیں۔یوسف علیہ السلام جب زندان سے باہر آئے تو عزیز مصر کہتا ہے۔
یوسف تْوہمارا مقرب ہے‘تیرے جیسے صادق وامین ‘بلند اخلاق اور عزت وناموس کے محافظ شخص کی بڑی قدرافزائی ہونی چاہیے۔
ہم تجھے بڑی وزارت اورمقام ومرتبہ دیں گے۔ یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں‘معیشت کا شعبہ مجھے دے دیں۔اللہ نے مجھے صلاحیت دی ہے۔ اس کی حفاظت کاسلیقہ دیا اور علم بھی عطاکیاہے۔ میں یہ کام اللہ کی مدد سے کرکے دکھاوٴں گا۔
اس واقعہ سے اللہ نے یہ نکتہ بھی سمجھایا ہے کہ معاشروں اور حکومتوں کی اصلاح وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے کردار محفوظ ہوں ‘جواپنی عزتوں کومحفوظ رکھیں‘کردار کوپختہ رکھیں‘جب اس طرح کے لوگوں کے ہاتھوں میں امورِ حکومت ہوں تو پھراللہ تعالیٰ ان کے ذریعے قوموں‘ ملکوں اور معاشروں کی اصلاح کرتے ہیں۔

اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں پر لگنے والے الزامات کوبھی صاف کیااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت وشخصیت کوبھی واضح کردیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کے نام پر قرآن مجید میں پوری سورت نازل فرمائی۔ یہ ہے قرآن مجیدکا عصمت انبیاء اور ناموس انبیاء کی حفاظت کاانداز۔ سبحان اللہ!کس قدر عظیم کتاب ہے قرآن مجید جس میں سابقہ انبیاء کی عزت، عصمت اور ناموس کا جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے۔
قرآن مجید عصمتِ انبیاء علیہ السلام کاسب سے بڑامحافظ ہے۔اسی طرح محمدرسول اللہ علیہ السلام پرجب الزامات لگے تو اللہ تعالیٰ نے اسی قرآن مجید کے ذریعے دفاع کیا۔ اس لیے کہ اللہ انبیاء علیہ السلام کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرتے۔ جب اللہ تعالیٰ توہین انبیاء برداشت نہیں کرتے تو مسلمان کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔ مسلمان صرف اپنے نبی محمدﷺ کی حرمت وناموس کے محافظ ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کی عصمت کے محافظ ہیں۔
یہ اْمّتِ محمدﷺ کااعزازہے جوکسی اورکے پاس نہیں۔مسلمان انشاء اللہ نبی آخرالزماں محمد مصطفی ﷺ سمیت تمام انبیاء علیہ السلام کی ناموس کادفاع کرتے رہیں گے۔ چنانچہ یقین سے کہاجاسکتاہے کہ جب ہمارے حکمران امور مملکت پر دلجمعی سے توجہ دیں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ہمارے شامل حال ہوجائے گی۔

Your Thoughts and Comments