Badshah Or Darwesh

بادشاہ اور درویش

کسی بادشاہ سے ایک درویش کی ملاقات ہوئی۔بادشاہ نے کہا اگر تمہیں کوئی حاجت ہوتو بیان کرو۔اس نے جواب دیا کہ میں اپنے غلاموں کے غلام سے کچھ نہیں مانگتا

Badshah or Darwesh
کسی بادشاہ سے ایک درویش کی ملاقات ہوئی۔بادشاہ نے کہا اگر تمہیں کوئی حاجت ہوتو بیان کرو۔اس نے جواب دیا کہ میں اپنے غلاموں کے غلام سے کچھ نہیں مانگتا۔بادشاہ نے پوچھا یہ کس طرح؟درویش نے کہا میرے دو غلام ہیں اور یہ دونوں تیرے آقا ہیں۔ایک حرص اور دوسرے امید وتمنا۔
رسول ﷺ نے فرمایا(فقر اس کے اہل کے لیے موجب عزت ہے)اس لیے جو چیز اہل کے لئے موجب عزت ہوتی ہے وہ نااہل کے لئے باعث ذلت بن جاتی ہے۔

فقیرکی عزت اس میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل حرکتوں سے بچائے اور اپنے اہل حال کو خلل سے محفوظ رکھے نہ بدن مصیبت وذلت میں مبتلا ہو اور نہ جان پر خلل وآفت کا گزر ہو۔درویش کی ظاہری حالت،ظاہری نعمتوں میں مستغرق اور باطنی حالت ،باطنی نعمتوں سے آراستہ ہوتی ہے تاکہ اس کا جسم روحانیت اور اس کا دل ربانی انوار کا منبع بن جائے نہ خلق سے اس کا تعلق ہو اور نہ آدمیت سے اس کی نسبت باطنی۔
یہاں تک کی وہ خلق سے تعلق اور آدمیت کی نسبت سے بے نیاز ہو جائے اور اس جہان کی ملکیت اور آخرت میں درجات کی خواہش سے دل کو تونگری حاصل نہ ہو اور یہ جانے کہ اس کے فقر کی ترازو کے پلڑے میں دونوں جہان مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے۔درویش کی ایسی حالت کے بعد اس کا ایک سانس بھی دونوں جہان میں نہ سماسکے گا۔

Your Thoughts and Comments