Baghair Walii Ke Nikah - Article No. 2843

بغیر ولی کے نکاح - تحریر نمبر 2843

عورت کے نکاح کے لیے ولی کا ہونا ضروری ہے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں اگر عورتوں کے درمیان مردوں کا واسطہ نہ ہوتو یہ بات عیاں ہے کہ

بدھ دسمبر

baghair walii ke nikah

عورت کے نکاح کے لیے ولی کا ہونا ضروری ہے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں اگر عورتوں کے درمیان مردوں کا واسطہ نہ ہوتو یہ بات عیاں ہے کہ ہر کام میں بے راہ روی اور عریانی وفحاشی کا خطرہ ہے ۔مغرب زدہ افراد کی حالت یہ ہے کہ ان کے ہاں مَردو زن کا اختلاط ‘کھلے عام ملاقاتیں اور دیگر کئی برائیاں پائی جاتی ہیں اوراسی اختلاط وغیرہ کے باعث لڑکی اور لڑکا گھر سے فرار اختیار کرجاتے ہیں جبکہ لڑکی والوں کے گھر خبر بھی نہیں ہوتی اور وہ عدالت کی طرف رجوع کرکے نکاح کر لیتے ہیں اور جو عورت اس طرح کھلے عام اپنا نکاح خود جا کرکرتی ہے اوراس میں ولی کی اجازت شامل نہیں ہوتی تو اس کا نکاح درست نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کے زانیہ ہونے کی علامت ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دواور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو تم ان کو اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو‘جب وہ آپس میں اچھّی طرح راضی ہوں ۔


اس آیت کا شان نزول ہے کہ سیّدنا معقل بن یسار کی بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی حتیٰ کہ عدت گزر گئی رجوع کا موقع نہ رہا اور وہ عدت کے گزرنے کے بعد آپس میں راضی ہو گئے اور دوبارہ نکاح کرنا چاہتے تھے تو معقل بن یسار جو اپنی بہن کے ولی تھے انہوں نے نکاح کرنے سے نکار کر دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان کو نکاح سے نہ روکو۔


اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا نکاح ولی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔اس لیے فرمایا امام ابوبکر ابنِ العربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔
”اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ولیوں کو اس بات سے روکا ہے کہ جس کے ساتھ وہ برضاور غبت نکاح کرنا چاہتی ہیں ‘انہیں منع نہ کرو‘یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ عورت کو کھلے بندوں نکاح کرنے کا کوئی حق نہیں ۔
یہ حق صرف ولی کا ہے امام ابو حنیفہ کا مذہب اس کے خلاف ہے اگر یہ حق ولی کا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ انہیں منع کرنے سے نہ روکتا۔“
”اور اپنی عورتوں کو مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں“
مولانا عبدالماجددریابادی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر ماجدی ص89حاشیہ818پر رقمطراز ہیں :
خطاب مردوں سے ہے کہ تم اپنی عورتوں کو کافروں کے نکاح میں نہ دو ۔
حکم خود عورتوں کو براہِ راست نہیں مل رہا کہ تم کافروں کے نکاح میں نہ جاؤ ۔یہ طرزِ خطاب بہت پُر معنی ہے ۔صاف اس مات پر دلالت کررہا ہے کہ مسلمان عورتوں کا نکاح مردوں کے واسطہ سے ہونا چاہے۔
”امام مُحمدّ بن علی بن حسین نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب کی رو سے نکاح بذریعہ ولی ہے پھر والی آیت تلاوت کی “
سیّد نا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ولی کے بغیر نکاح نہیں “۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے ‘سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ‘اس کا نکاح باطل ہے ‘اگر اس مَرد نے اس عورت کے ساتھ دخول کیا تو اس عورت کے لیے حق مہر ہے ‘اس وجہ سے جو اس مَرد نے اس کی فرج کو حلال سمجھا اور اگر عورت کی ولایت میں اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں “۔

علاوہ ازیں یہ روایت اور اس کی ہم معنی روایات بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں جن کی تعداد تیس(30)تک پہنچ گئی ہے ۔حافظ ابنِ حجرعسقلانی تلخیص الحبیرص 295اور امام شوکانی نیل الاوطار36پر رقمطراز ہیں :
”امام حاکم فرماتے ہیں ازواجِ مطہرات سیّد ہ عائشہ‘ سیّد ہ اُم سلیم‘ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے یہ روایت صحیح ثابت ہے یہاں تک کہ 30صحابہ رضی اللہ عنہا کے نام ذکر کئے اور متاخرین میں سے امام دمیاطی نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کئے ہیں ۔

امام قاضی شو کافی ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں کہ سیّد نا علی‘ سیّد نا عمر‘ سیّد نا ابنِ عباس‘ سیّد نا عبداللہ بن عمر‘ سیّد نا عبداللہ بن مسعود‘ سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا‘ سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہا‘ حسن بصری‘ سعید بن مسیب‘ ابن شبرمہ‘ ابن ابی لیلیٰ ‘امام احمد‘ امام اسحق بن راہو یہ امام شافعی رضی اللہ عنہا اور جمہور اہل عِلم اس طرف گئے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح ہیں ۔

امام ابن منذر نے فرمایا کسی صحابی سے اس کا خلاف ثابت نہیں ۔(نیل الاوطار 136/6)۔ان دلائل سے معلوم ہوا کہ عورت کے نکاح کے لیے ولی کا ہونا لازمی ہے اور ولایت کا حق صرف مردوں کو ہے ۔
مذکورہ سوال میں ماں کے علاوہ ولی بنانے کے لیے بہن کا ذکر کیا گیا ہے وہ اخراجات برداشت کر سکتی ہے ۔لیکن یاد رہے کہ بہن بھی عورت ہے اس لیے ولایت کا حق وہ بھی نہیں رکھتی ۔
رہا اخراجات کا معاملہ تو یہ دور حاضر کی رسومات ہیں وگرنہ اسلام کے اندر جہیزوغیرہ کے لیے لڑکی والوں پر کوئی پابندی نہیں‘ اسلامی طریقہ کی روسے نکاح کے لیے اخراجات مَرد کے ذمہ آتے ہیں جیسا کہ حق مہر اور ولیمہ وغیرہ کے اخراجات اور نکاح کے بعد عورت کے اخراجات کی ذمہ داری اس مَرد پر ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جاتا ہے ۔والدین کو اس معاملہ میں کسی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔اس لیے دورِ حاضر کی رسومات اور ہندووانہ طرزعمل سے ہٹ کر اگر اسلامی طریقہ کے مطابق نکاح کریں تو کسی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔بہر صورت عورت کا نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں ۔

Your Thoughts and Comments