بند کریں
اسلام مضامینمضامین بخشش کی رات

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بخشش کی رات
رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں شب قدر کی اس سے بڑھ کر فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”سورة القدر“ کے نام سے پوری ایک سورت اس کی عظمت میں نازل فرمائی۔اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا،اس رات میں فرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں،یہ رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے اور اس رات میں صبح صادق تک خیروبرکت اور امن وسلامتی کی بارش ہوتی ہے۔
مولانا مجیب الرحمن انقلابی:
رمضان المبارک کے بابرکت و مقدس مہینہ میں شب قدر کی اس سے بڑھ کر فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”سورة القدر“ کے نام سے پوری ایک سورت اس کی عظمت میں نازل فرمائی۔اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا،اس رات میں فرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں،یہ رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے اور اس رات میں صبح صادق تک خیروبرکت اور امن وسلامتی کی بارش ہوتی ہے۔

ایک روایت میں ہے شب قدر میں ملائکہ(فرشتوں) کی پیدائش ہوئی اور اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا،اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور اس رات میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ مقدس رات ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبولیت سے نوازی جاتی ہے اسی مقدس رات میں اللہ رب العزت کی رحمتِ خاص کی تجلی آسمانِ دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے صبح صادق ہوتی ہے،بعض روایات کے مطابق اسی رات (شب قدر)کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی۔

مفسرین نے قرآن مجید میں اس رات کا نام” لیلتہ القدر“ رکھنے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ایک وجہ یہ ہے کہ لیلتہ القدر میں جو لفظ” قدر“ ہے اس کا معنی”تقدیر وحکم“ کے ہیں،چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کیلئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جوحصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے جو کائنات کا تدبیر اور تنفیذ امور کیلئے مامور ہیں اس لیے اس کا نا م لیلتہ القدر رکھا گیا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ”قدر“ کے معنی عظمت و شرافت کے بھی آتے ہیں․․․․چونکہ یہ رات بھی عظمت و شرافت والی رات ہے اس لیے اس کا نام بھی لیلتہ القدر رکھا گیا ہے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس میں بڑی عظیم مرتبہ وشان والی کتاب نازل ہوئی ہے دوسرا یہ کہ ذی مرتبہ فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئی ہے،تیسرا یہ کہ ذی مرتبہ امت پر نازل ہوئی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة القدر میں لفظ قدر تین مرتبہ ذکر کیا ہے ۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”شب قدر“ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے (عبادت کیلئے)کھڑا ہوا،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں(بخاری ومسلم)حضورﷺ نے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔
(ا)لوگوں کی عبادت پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی ظاہر کرنے کو۔
(۲)گناہوں پر اپنے غضب اور غصہ کر ظاہر کرنے کو۔

(۳)وسطیٰ نماز کو دوسری نمازوں سے۔
(۴)اپنے دوستوں کو عام لوگوں کی نظروں سے۔
(۵)اور رمضان کے مہینہ میں شب قدر کو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ”شب قدر“ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو عطا فرمائی ہے پہلی امتوں کو نہیں ملی۔اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ اس امت پر اس انعام واکرام کا سبب کیا ہے؟ بعض احادیث میں ہے کہ حضورﷺ نے پہلی امتوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہت لمبی لمبی عمریں ہوئیں ہیں اور آپﷺ کی ”امت“ کی عمریں بہت تھوڑی اور کم ہیں اگر وہ نیک اعمال یں ان کی برابری بھی کرنا چاہیں تو ناممکن ہیں اس پر حضورﷺ کو بہت رنج وافسوس ہوا،اس کی تلافی کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ رات (شب قدر)مرحمت فرمائی۔

حضورﷺ نے فرمایا کہ اس رات(شب قدر)کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ وہ چمکدار اور کھلی ہوئی ہوتی ہے،صاف وشفاف ،نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی،بلکہ معتدل گویا کہ اس میں (انواروبرکات کی کثرت کی وجہ سے)چاند کھلا ہوا ہے،اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے،نیز اس کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح ہوتا ہے جس طرح چودھویں رات کا چاند،اللہ تعالیٰ اس دن کے آفتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے روک دیتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے