Burai K Khilaf Jihad

برائی کے خلاف جہاد

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہوتو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو اپنے دل میں اسے براجانے۔

Burai K Khilaf Jihad
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہوتو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو اپنے دل میں اسے براجانے۔اس لیے کہ یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے ۔ (صحیح مسلم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا ، بنی اسرائیل میں آفات اور شرکی ابتدایوں ہوئی کہ جب ان میں سے کوئی گناہ کاارتکاب کرتا تو روکنے والے دوڑپڑتے ، وغط ونصیحت کرتے ، خدا اور آخرت کی فکر دلاتے، لیکن دوسرے ہی دن وہ اس کے ساتھ بیٹھ کرکھانے پینے لگتے ۔
گویا انہوں نے اسے گناہ کرتے دیکھا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جب اُن کی یہ حالت دیکھی تو ان کے دلوں میں باہمی دشمنی پیداکردی اور پھر ان کے پیغمبر حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ان پر لعنت کرائی اور یہ اس لیے کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے آگے بڑھ گئے تھے۔

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ یں محمد ﷺ کی جان سے تم بھلائی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کافریضہ انجام دو ۔

ظالموں کو اور باطل پرچلنے والوں کو روکو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی وہی سزادے گا جو تم سے پہلے لوگوں کو ملی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں بھی عداوت پیداکر دے گا اور تم ایک دوسرے پر لعنت بھیجنے لگو گے ۔ (ابوداؤد، ترمذی ) اسلام میں یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو کچھ انسانی زندگی میں مشکلات اور تکالیف پیش آسکتی ہیں۔
وہ انسان کے اپنے گناہوں اور برائیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں یعنی انسانوں کو اس کائنات میں جو مصائب درپیش ہوتے ہیں، وہ کسی اور کی طرف سے نازل کردہ نہیں ہیں، بلکہ یہ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں، یوں انسان کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے ۔ ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو پہلے سے گزر چکی ہیں، ایسے اہل خیر موجود ہے جولوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو کم جن کو ہم نے اُن قوموں میں سے بچالیا، ورنہ ظالم لوگ تو ان ہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے، جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کررہے ۔
تمہارا رب ایسانہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالاں کہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ بے شک تمہارا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بناسکتا تھا مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے ، جن پر تمہارا رب کی رحمت ہے ۔ (سورہٴ ھود) گناہوں کی کثرت سے فرد ہی نہیں،ا فراد بھی متاثر ہوتے ہیں، یوں آہستہ آہستہ آخر کار پورا معاشرہ اس برائی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔
لوگ گناہوں سے مانوس ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایساآجاتا ہے کہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے یعنی گناہ کو ضروریات زندگی میں شامل کرکے اسے زندگی کاایک حصہ بنا لیا جاتا ہے ۔حالانکہ کہ حقیقت تو یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت سے افراد یامعاشرہ تو رہے ایک طرف زمین کے جس ٹکڑے پر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اس ٹکڑے پر بھی کسی نہ کسی حوالے سے گناہوں کے بوجھ سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج اجتماعی طور پر اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ایک مرتبہ پھر اپنا محاسبہ کریں اور اپنی آنے والی زندگی کے لیے سوچ بچارکریں جو بہت قیمتی بھی ہے اور دائمی بھی ۔

Your Thoughts and Comments