Deeni Masail

دینی مسائل

قرآن وحدیث کی روشنی میں۔۔۔۔۔ وہ معذور شخص جو زمین پر سجدہ نہیں کرسکتا کیا اس سے نماز کیلئے قیام ہوجاتا ہے ؟ بعض کُتب اصناف میں یہ تحریر ہے کہ اس آدمی پر قیام فرض نہیں رہتا ۔

Deeni Masail
دین محمد خان قادری
حرام کمائی والے کی دعوت
جس شخص کی سو فیصددولت حرام کی ہوکیا وہ ماد صیام میں روزوں کی افطاری کی دعوت دے سکتا ہے اس کی دعوت میں شرکت کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی شخص کی آمدنی کے مختلف ذارئع ہیں بعض حلال اور بعض حرام تو پھر بھی کوشش کی جائے اس رقم کو روزے کی افطار پر خرچ نہ کیا جائے کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے ” کہ اللہ تعالیٰ طیب وپاک مال کو ہی قبول فرماتا ہے ۔
اگر حرام مال شامل ہو جائے تو چیز مشتبہ ہوجاتی ہے جس سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے اور جس آدمی کی سو فیصد دولت حرام کی ہو ایسے شخص کو افطار کی دعوت پر لوگوں کو بلانا جائز ہی نہیں بلکہ اُس کا علم رکھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی دعوت میں ہر گز شریک نہ ہوں بلکہ حسب طاقت اس کامحاسبہ اور بائیکاٹ کریں تاکہ لوگ اس بُرے عمل سے باز آجائیں ۔

یادرہے کہ نیکی کی راہ پر خرچ ہونے والے مال کیلئے حلال اور طیب ہونا ضروری ہے ۔

حرام مال کی صورت میں نیکی تو کُجا بلکہ بندے پر لعنت کی جاتی ہے ۔ مثلاََ کوئی آدمی حرام رقم سے حج کرتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ بھی لعنت کرے گا ۔ اس نے یہ غلط طریقہ کیوں اختیار کیا ؟
نماز کے قیام کا سقوط
وہ معذور شخص جو زمین پر سجدہ نہیں کرسکتا کیا اس سے نماز کیلئے قیام ہوجاتا ہے ؟ بعض کُتب اصناف میں یہ تحریر ہے کہ اس آدمی پر قیام فرض نہیں رہتا ۔

جس طرح سجدہ ، رکوع اور تکبیر تحریر نماز کے فرائض میں شامل ہیں ۔ اس طرح صاحب استطاعت کیلئے نماز میں قیام بھی فرض ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ کیلئے خشوع وخضوع کے ساتھ قیام کرو۔اس سے نماز میں قیام کا فرض ہونا مراد ہے اور یہ بھی اس کا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حسب طاقت ڈرو ۔ اب اگر کوئی آدمی سجدے پر قادر نہیں لیکن وہ قیام کرسکتا ہے تو اس پر قیام فرض ہوگا ۔
ہاں سجدہ کیلئے ارشارہ کرسکتا ہے کیونکہ کسی ایک فرض کے سقوط سے دوسرے فرض کا سقوط لازم نہیں آتا جیسے کوئی اگر کوئی قیام پر قدرت نہیں رکھتا بیٹھ کرسجدہ کرسکتا ہے تو وہ قیام اس سے سقوط ہوجائے گا لیکن سجدہ کرنا اس پر فرض ہوگا ۔
کسی ٹھوس چیز پر نماز
بعض لوگوں نے معذور آدمی کی نماز کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ 9انچ کے برابر کسی ٹھوس چیز کو زمین پر رکھ لے اور اس پر سجدہ کرے اور اگر اس نے اشارہ سے سجدہ ادا کیا تو وہ ادا نہیں ہوگا حالانکہ کُرسی پر بیٹھنے والا شخص ایسے کر ہی نہیں سکتا ۔

اس سوال میں دو معاملات کو آپس میں گڈمڈ کردیا گیا ہے ۔ کرسی پر وہی شخص نماز پڑھ سکتا ہے ، جو سجدہ حقیقی پر طاقت نہیں رکھتا بلکہ وہ اشارہ سے ہی سجدہ ادا کرے گا البتہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ حقیقی کر سکتا ہے اس کے لئے 9انچ اونچی جگہ پر سجدہ کرنا سجدہ حقیقی کہلائے گا اگر کسی نے لکڑی وغیرہ کا ٹکڑا اور بیچ بنالیا جو سجدہ حقیقی سجدہ ہی کہلائے گا بلکہ اگر کوئی شخص اس قدر سجدہ کی طاقت رکھتا ہے تو اسے اشارہ کی بجائے سجدہ حقیقی کی صورت میں ہی نماز ادا کرنا لازم ہے ۔ العرض کرسی پر بیٹھنے والے کا مسئلہ اور زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ دونوں ایک نہیں بلکہ الگ الگ ہیں۔

Your Thoughts and Comments