Dozkhi

دوزخی

غزوہ احد میں ایک شخص بڑی بے جگری سے لڑرہا تھا ‘ سوسے زائد زخم اس کو لگ چکے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ اس کی بہادی پر حیران تھے اور رشک کررہے تھے،

Dozkhi
غزوہ احد میں ایک شخص بڑی بے جگری سے لڑرہا تھا ‘ سوسے زائد زخم اس کو لگ چکے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ اس کی بہادی پر حیران تھے اور رشک کررہے تھے ،اللہ تعالیٰ کے حبیب رسول اللہ ﷺ بھی اس کو دیکھ رہے تھے آپ نے تھوڑی دیر اس کو دیکھنے کے بعد فرمایا یہ دوزخی ہے ۔

حالانکہ وہ جہادکررہا تھا ایک صحابی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے کہ جب کملی والے کی زبان مبارک سے یہ بات ادا ہوئی ہے تو کیا بات ہے کہ اس کو آپ دوزخی فرمارہے ، اس نے توسوپچاس کافروں کو قتل کردیا ہے تو قریب ہوکر پوچھا کہ تم اتنی دلیری اور بے جگری سے کیوں لڑرہے ہو ، کیا خاص بات ہے اس نے کہا یہ بات نہیں ہے میں اپنے خاندان کے نام ونمود کے لئے لڑرہا ہوں خاندانی شجاعت اور بہادری جو ہم میں موجود ہے اس کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے لڑرہا ہوں ۔

پہلی بات یہ ہے کہ وہ جہاد کا حصہ دار ہی نہیں تھا‘ جہاد تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے اورپھر اس شخص کو جب زیادہ زخم آئے تو اس نے اپنی تلوار کا دستہ پیروں میں رکھ کر تلوار کی نوک سینی پر رکھی اور دباؤ ڈال کر خود خوشی کر لی تو رسول اکرم ﷺ کافرمان مبارک پورا ہوا کہ یہ دوزخی ہے خود کشی کرنے والا دوزخی ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments