Duayen Qubool Kyun Nahi Hoti

دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں ؟؟

قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے آدمی کاکھانا پینا اور اس لباس حلال کمائی کا ہو،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی دعا کی قبولیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

duayen qubool kyun nahi hoti

سید سلیم شاہ
اسلام میں دعا کی بہت بڑی فضیلت واہمیت آئی ہے لیکن عام طور پر لوگ دعا کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری مساجد میں جہر کے ساتھ اجتماعی طور پر لمبی لمبی دعائیں ضرور پڑھی جاتی ہیں اور بڑے بڑے اجتماعوں اور جلسوں میں بھی کثرت دعا کی گونج سنائی دیتی ہے مگر قبولیت نام کی کوئی چیز نظرنہیں آتی ۔دعا کے آداب کیا ہیں اور اس کی قبولیت کی شرائط کیا ہیں؟ان باتوں کو جاننے سے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہیں ۔


بلکہ وہ صرف الفاظ کی رٹ لگانے کو دعا سمجھتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس طرح کی تمام دعائیں اللہ کے نزدیک شرف قبولیت حاصل نہیں کر پاتی ہیں ۔اور بے اثر روبے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں ۔قرآن وحدیث کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور بن مانگے بھی دیتا ہے جو اس کے احکام پر پابندی سے عمل کرتے ہیں اور اس کی آخری کتاب قرآن کو پڑھتے ہیں اور اس کی آیت پر غوروفکر کرتے ہیں ۔


اگر ایسے لوگوں کو دعا مانگنے کا موقع نہ بھی مل جائے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو دعا مانگنے والوں سے بھی زیادہ دیتا ہے ۔اس سلسلہ میں انتہائی غور طلب حدیث اس طرح آئی ہے ۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بنان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص قرآن میں اس قدر مشغول ہوجائے کہ وہ میری یاد کے لیے الگ سے وقت نہ نکال سکے اور مجھ سے اپنی حاجت نہ طلب کر سکے تو میں مانگنے والوں کو جتنا دیتا ہوں اس سے زیادہ اس کو دوں گا۔

نیز اللہ کے کلام کا درجہ دنیا کے تمام کلا م موں کے مقالے میں ایسے ہی بلند ہے جیسے کہ خود اللہ کا درجہ اس کی مخلوق کے مقابلے میں (ترمذی )دین کی حقیقت اللہ کی یاد اور اس کے بندے کی طلب کانام ہے۔ قرآن ان دو چیزوں کی طرف رہنمائی ہے اصل میں سورتہ فاتحہ بندہ مئومن کی دعا ہے ۔دنیاوآخرت کی کوئی طلب ایسی نہیں ہے جو ایک بندہ مئومن اللہ سے طلب کرسکتا ہے اور قرآن میں اس کا ذکر نہ ہو ،بلکہ وہ انسان کے جذبات واحساسات کی پوری تسکین پاتا ہے اور اس کا وجود سراپا دعا بن جاتا ہے ۔
ایسا آدمی خواہ اپنی کوئی ضرورت الگ سے طلب کرے یانہ کرے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کے ذریعہ مانگو کیونکہ اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے اور بہترین عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے ۔(تحف الاحوذی)
”میری مشکل اس دنیا میں نہ آساں کرسکا کوئی ،مصیبت میں جو کام آیا میراپروردگار آیا“
لیکن قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے آدمی کاکھانا پینا اور اس لباس حلال کمائی کا ہو،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی دعا کی قبولیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اس سلسلہ میں مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس کے آخری حصہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے حوالے سے یہ قابل غورار شاد فرماتے ہیں :آپ نے ایسے شخص کا ذکر فرمایا ،جو لمبا سفر کرتا ہے جس کے با ل غبار آلود ہیں ،وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کہتا ہے اے میرے رب ،اے میرے رب ،حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے ،اس کا پینا حرام ہے ،اس کا لباس حرام ہے ،اور اس کی غذا حرام ہے ،تو اس صورت میں اس کی دعا کیونکہ قبول ہوگی۔

(شرح مسلم)آج کل مسلمان ہر جگہ انفرادی واجتماعی دعائیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔لیکن ساتھ ہی یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہورہی ہیں ۔اور ہماری مشکلیں دور نہیں ہورہی ہیں ۔اس حدیث میں اسی الجھن کا پورا جواب موجود ہے ۔اصل یہ کہ دعائیں کیسے قبول ہوں اور مشکلیں کیسے دور ہوں جبکہ لوگ جو کھا رہے ہیں جو پی رہے ہیں وہ سب حرام کی کمائی کا ہے ۔
وہ نہ خود حرام کا موں سے باز آتے ہیں اور نہ دوسروں کو ان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں کی کثرت سے جب مصیبتیں آتی ہیں ۔
اور مشکلیں دامن گیر ہوجاتی ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی بھی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں ۔سود ،رشوت ،بدعنوانی ،لوٹ کھسوٹ اور ملاوٹی چیزوں کی خرید وفروخت کا بازار گرم ہے ۔اس صورت حال میں مشکلوں اور مصیبتوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے اپنی اصلاح کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے محض ہاتھ اٹھانا ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق دے اور زیادہ سے زیادہ سے اللہ پاک سے دعائیں کرنے والا بنائے آمین !۔

Your Thoughts and Comments