Eid Kay Tehwar Ka Tareekhi Pas Manzar

عید کے تہوار کا تاریخی پس منظر

روح کی بالیدگی دل کی پاکیزگی جسم اور لباس کی طہارت مجموعی شخصیت کی نفاست اور اسلامی اتحاد واخوت کے جذبے سے سر شاہ ہو کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر نذرانہ شکر بجالانے کانام عید ہے۔

Eid Kay Tehwar Ka Tareekhi Pas Manzar
حافظ راہد عارف:
روح کی بالیدگی دل کی پاکیزگی جسم اور لباس کی طہارت مجموعی شخصیت کی نفاست اور اسلامی اتحاد واخوت کے جذبے سے سر شاہ ہو کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر نذرانہ شکر بجالانے کانام عید ہے۔لفظ عید عود سے نکلا ہے جس کے معنی لوٹ کر آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں ۔ یکم شوال المکرم کو عیدالفطر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افطار اور فطر ہم معنی ہیں جس طرح ہر روزہ کا افطار غروب آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے کا افطار عید سعید کے روز ہوتا ہے اس لئے اس یوم مبارک کو عیدالفطر کہتے ہیں ۔

طلوع اسلام سے قبل ہمیں مختلف مذاہب کے دنوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے جنہیں وہ جشن کے طور پر مناتے چلے آرہے تھے ۔

یہودی مذاہب میں عیدیں یا مقدس تہوار بڑا اہم مقام رکھتے ہیں ۔ یہ ایسی مذہبی عبادتیں تھیں جن کے ساتھ خوشی منائی جاتی تھی چنانچہ بائیل میں مختلف عیدوں کا ذکر ملتا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یہودی ہے جو ہر نئے چاند کا پہلا دن عید کی طرح منایا کرتی تھی ۔

یروشلم کے معاہدے اور فتح کی تاریخ پر بھی ایک یاد گار منائی جاتی تھی ۔ قدیم یونانی فصل کاٹنے پر عید مناتے تھے مسیحی برادری حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر یوم عید مناتی ہے ۔
روایات میں آتا ہے کہ مسلمانوں اپنی پہلی عیدالفطر یکم شوال سن2ہجری مدینہ منورہ میں منائی ۔ نبی پاک ﷺنے دوگانہ واجب کی امامت فرمائی اس کے فوراََ بعد ایک نہایت نصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا ۔
عید گاہ کا یہ مقام آج بھی موجود ہے جو مسجدغمامہ کے نام سے معروف ہے۔ یہی وہ مسجد غمامہ سے جہاں آنحضورﷺ اکثر نماز استسقاء امت کے ساتھ ادا کرتے رہے ہیں ۔ ماہ رمضان خداتعالیٰ کی برکتوں رحمتوں نعمتوں اور نوازشوں کا خزانہ ہے ۔ مسلمان صبروتحمل ایثار قربانی اور جذبہ اطاعت کا انمول مظاہرہ کرتے ہیں ۔ رمضان المبارک کے فرض کی کامیاب تکمیل پر خوشی اور اللہ کا شکرادا کرنے کا دن عیدالفطر مسلمانوں کا عظیم الشان تہوار ہے۔ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس دن اپنے مقبول اور عبادت گزار بندوں پر اپنی أن گنت نعمتیں اور برکتیں لوٹاتا ہے اس لئے اسے عید کہتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments