Eid Youm E Tashakur

عید یوم تشکر

فتح وکامرانی اور مسرت کے جشن کو عید سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ہر قوم نے اپنی اپنی تہذیبی، تاریخی، مذہبی اور تمدنی روایات کی روشنی میں ایک ایسے دن کا تعین کیاہے، جو ان کے لیے اجتماعی قومی مسرت کے دن کی حیثیت رکھتا ہے۔

Eid Youm e Tashakur
شہید حکیم محمد سعید:
فتح وکامرانی اور مسرت کے جشن کو عید سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ہر قوم نے اپنی اپنی تہذیبی، تاریخی، مذہبی اور تمدنی روایات کی روشنی میں ایک ایسے دن کا تعین کیاہے، جو ان کے لیے اجتماعی قومی مسرت کے دن کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسلام نے بھی مسلمانوں کے لیے قومی وملی پیمانے پر اظہار مسرت وشادمانی کے لیے دو خاص دنوں کا تعین کیا ہے۔
ایک کاعنوان عیدالفطر ہے اور دوسرے کو عید الاضحی کا نام دیاگیا ہے۔ یوم مسرت کو عید سے تعبیر کرنے کے مختلف اسباب ہیں۔ عودوعنبر اور رنگ ونزہت سے فرحت وسرور کے دن کانام عید ہوگیا۔ دوسری توجیہ وہ بھی ہے ، جو مولاناعبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایمان والوں کے دلوں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول پیہم اور مسلسل ہوتارہے اور انعام ومسرت کے دن باربار آتے رہیں۔

لفظ ” عید“ میں اعادے کامفہوم پنہاں ہے، اسی لیے اسے عید کہاگیا ہے۔
قرآن مجید کی سورة المائدہ کی آیت 114 میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے قصے میں لفظ ” عید“ آیا ہے۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خوشی اور مسرت کے دن کو عید پہلے سے کہاجاتا ہے۔ بہرحال یہ بات اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے لیے فرحت وشادمانی کے اس دن کی تعبیر ایک ایسے عمل خیر کے ساتھ کی جواخلاقی، روحانی اور معاشرتی اعتبار سے بہت مفید نتائج کاحامل ہے۔
ماہ صیام کے اختتام پر جو عید آتی ہے۔ اس کو عید الفطر،یعنی فطرہ دینے کی عید“ کہا گیا اور تکمیل حج پر جو عید آتی ہے، اسے عید الاضحی یعنی ” قربانی کی عید“ کہاگیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ انعام الٰہی پر ااظہار تشکر کانام عید ہے اور اس کی بہترین صورت زکوة وصدقات اور قربانی ہے، جو معاشرے کے محروم افراد کو بھی مسرتوں میں شریک کرکے عید کی خوشی کو حقیقی اور اجتماعی بنادیتی ہے۔

اسلام ہر انفرادی حسن عملکے اجتماع مفاد اور نتائج کی طرف ہمیں متوجہ کرناچاہتا ہے، اسی لیے آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے فطرہ نہیں دیا، اس کے روزے آسمان وزمین کے درمیان معلق رہیں گے۔
دوسری حدیث ترمذی کی ہے، جس میں آپﷺ نے فرمایا: جس نے فطرہ نہیں اداکیا، اس سے کہہ دو کہ وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
گویاعید کی مسرتوں میں ان ی لوگوں کاحصہ ہے، جو دوسروں کے حقوق اداکرتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ہرنعمت پرشاکررہتے ہوں۔

Your Thoughts and Comments