Fatah Makkah Aur Khutba Nabvi SAW

فتح مکہ اور خطبہ نبوی ﷺ

۶ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ قریش دو سال تک صلح حدیبیہ کی شرائط پر عمل کرتے رہے لیکن اس کے بعد خلاف ورزی شروع کردی۔ انھوں نے اپنے حلیف قبیلہ بنوبکر کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے حلیف قبیلہ خزاعہ پر حملہ کردیا جو معاہد حدیبیہ کی سنگین خلاف ورزی تھی۔

Fatah Makkah Aur Khutba Nabvi SAW
سید نصیرالدین احمد:
۶ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ قریش دو سال تک صلح حدیبیہ کی شرائط پر عمل کرتے رہے لیکن اس کے بعد خلاف ورزی شروع کردی۔ انھوں نے اپنے حلیف قبیلہ بنوبکر کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے حلیف قبیلہ خزاعہ پر حملہ کردیا جو معاہد حدیبیہ کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ اس مسئلہ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے پاس اپنا سفیر بھیجا اور تین شرائط پیش کیں کہ ان میں سے کوئی ایک منظور کی جائے۔
(۱) مقتولوں کا خون بہا دیا جائے (۲) قریش فوراً بنوبکر کی حمایت سے الگ ہوجائیں اور (۳) معاہد حدیبیہ کے ٹوٹ جانے کا اعلان کردیا جائے۔ قریش نے تیسری شرط منظور کرلی اور تنسیخ معاہدہ کا اعلان بھی کردیا۔ بعد میں اپنی اس غلطی کے نتائج پر وہ سخت نادم ہوئے۔

انھوں نے تجدید معاہدہ کی خاطر ابوسفیان کو اپنا سفیر بناکر مدینہ بھیجا، لیکن وہ نااْمید واپس ہوئے۔

10رمضان ۸ ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش کو مسلمانوں کے لشکر کی اطلاع ملی تو حیران رہ گئے۔ انھوں نے پھر ابوسفیان، بدیل بن ورقا اور حکیم بن حزام کو بھیجا۔ ابوسفیان پکڑ لئے گئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انھیں پناہ دی اور کہا کہ اِسلام قبول کرلے، ورنہ لوگ ابھی تیری گردن اڑادیں گے۔
ابوسفیان نے اسی وقت اسلام قبول کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کردیا۔
لشکر اسلام کو مکہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دینے سے پہلے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر قریش میں اعلان کروادیا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا یا ابوسفیان کے ہاں پناہ لے گا یا گھر کا دروازہ بند کرلے گا یا خانہ کعبہ میں داخل ہوجائے گا، اْسے معاف کردیا جائے گا۔
یہ عام معافی کا اعلان تھا جس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔20رمضان ۸ہجری کو مسلمانوں نے بِلامقابلہ مکہ فتح کرلیا اور قریش کی مزاحمت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو عصا کی نوک سے ایک ایک بت کو ٹھوکا دیتے جاتے اور ساتھ ساتھ یہ پڑھتے جاتے۔۔۔ ”جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا“۔ یعنی ”حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا، بے شک باطل نابود ہونے والا ہے“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا دروازہ کھلوایا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اندر داخل ہوئے، تکبیریں کہی اور نماز پڑھی۔
فتح مکہ کے بعد مسلمان عملاً عرب کے حکمراں بن چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اب قیصر و کسریٰ کے استحصالی معاشرے تھے جن کی بنیادوں میں اِنقلاب لاکر ان کی تعمیر نو کرنا تھا۔
لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں خطاب اہل مکہ سے نہیں، سب افراد نسل انسانی سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور تمام جتھوں (جماعتوں) کو تنہا چھوڑ دیا۔ خبردار! ہر قسم کا مطالبہ خواہ وہ خون کا مطالبہ ہو یا مال کا۔
میرے پاوٴں کے نیچے ہے (یعنی منسوخ اور ممنوع ہے)۔ البتہ بیت اللہ کی تولیت یاد ربانی اور حاجیوں کو پانی پلانے کے مناصب مستثنیٰ، یعنی جوں کے توں ہیں۔ اے گروہ قریش! آج کے دن اللہ نے تم سے جاہلیت کا غرور چھین لیا اور آباء و اجداد کے بل پر بڑائی حرام کردی۔ کل بنی نوع انسان آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ حجرات کی آیت تلاوت فرمائی۔
لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو۔ بے شک، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے“۔
خطبہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے فرمایا۔ ”تم جانتے ہو کہ میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں“۔
قریش کو اپنے مظالم کا احساس تو تھا، لیکن رحمتہ للعالمین کے رحم و کرم اور عفو و درگزر کا شعور بھی تھا۔ ایک زبان ہوکر بول اٹھے۔ ”آپ بخشش و کرم کرنے والے بھائی اور بخشش و کرم کرنے والے بھائی کے بیٹے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برملا اعلان فرمایا: ”آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ جاوٴ، تم سب آزاد ہو“۔ تاریخ عالم میں اس کمال حْسن سلوک کی کوئی مثال نہیں مل سکے گی۔
یہ عفو عام ان لوگوں کے لئے تھا جو اکیس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووٴں کے خلاف اذیتوں، دْکھوں اور مصیبتوں کے وہ تمام طوفان برپا کرتے رہے تھے جو ان کے بس میں تھے۔ ان کی تلواریں، ان کی برچھیاں، ان کے تیر مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر برستے رہے تھے۔
اس عفو عام کے بعد جب اذان کا وقت آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں، اللہ کے گھر پر چڑھ کر اللہ کی توحید کا اعلان کریں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس کی تعمیل کی۔ اس بات سے نخوت پرست اشراف قریش کو سخت ناگواری ہوئی۔ ان کے نزدیک قریش اور کعبہ کی یہ سخت توہین تھی۔ اختلاف کی ہمت تو نہیں ہوئی، مگر پھر بھی دِل کی بات زبان پر آہی گئی۔ غیرت سے مشتعل ہوکر کسی نے کہا ”خدا نے میرے باپ کی عزت رکھ لی کہ اس آواز کے سننے سے پہلے ان کو دنیا سے اٹھالیا“۔ ایک اور سردار قریش نے کہا ”اب جینا بیکار ہے“۔
ایک اور شخص نے کہا ”محمدﷺ کو اس کالے کلوٹے کے سوا کوئی دوسرا نہیں ملا تھا؟“
فتح مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود حقیقی اہل مکہ کے دِلوں کی تسخیر تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کو تحریک اسلام میں شریک کرنے کی خاطر مقام صفا پر تشریف لے گئے اور ایک بلند جگہ پر لوگوں سے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ مردوں کے بعد عورتوں سے بیعت لی۔
عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت اس طرح لی کہ ان سے ارکان اسلام اور محاسن اخلاق کا اقرار لیتے تھے۔ پھر پانی کے ایک بھرے ہوئے پیالہ میں دست مبارک ڈال کر نکال لیتے تھے۔ پھر عورتیں اس میں ہاتھ ڈال کر نکال لیتیں۔ لوگ جوق دَر جوق اسلام میں داخل ہورہے تھے۔ حق کی فتح اور تسخیر قلوب کا یہ منظر بڑا ہی روح پرور و بصیرت افروز تھا، لیکن شقی القلب لوگوں کے لئے یہ نظارہ انتہائی روح فرسا تھا اور وہ غصہ کی آگ میں جل رہے تھے۔

کچھ روٴسائے مکہ خوف کے مارے بھاگ گئے تھے۔ انھیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دی۔ یہ بات بے حد اہم اور قابل غور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور مسلمان نے کسی شخص کو اسلام میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا۔ سب نے اسلام کے اصول ”لااکراہ فی الدین“ پر سختی سے عمل کیا۔ چنانچہ جن لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا، ان کی آزادی جان و مال اور حقوق شہریت سے کسی قسم کا کوئی تعرض نہیں کیا۔
مکہ معظمہ کا نظم و نسق درست کرنے اور تحریک اسلام کو جاری رکھنے کا اہتمام کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے اور ان دونوں اْمور کی نگرانی کے فرائض حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو تفویض ہوئے۔
قریش تحریک اسلام کے اولین دشمن تھے اور انھوں نے اس کو اپنے وقار و حمیت کا مسئلہ بنالیا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کا مسلمانوں کے خلاف ہتھیار نہ اْٹھانا اور بِلامزاحمت مکہ معظمہ اور بیت اللہ کو ان کے حوالے کردینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کارنامہ ہے جس کی مثال تاریخ شاید ہی پیش کرسکے۔ یہ تاریخ ساز واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال تدبر و منصوبہ بندی میں مہارت پر دلالت کرتا ہے۔

Your Thoughts and Comments