Fatah Makkah Ki Muhabbat Ameez Or PurAmaan Khushboyeen

فتح مکہ کی محبت آمیز اور پرامن خوشبوئیں

ذراتصورمیں لائیےوہ دن جب اللہ کےرسولﷺ حزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب فرما رہے تھے کہ اے مکہ تو دنیا بھر میں اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر محبوب اور برکت والی زمین ہےاگر مجھے یہاں کےلوگ نکلنےپرمجبور نہ کرتے

Fatah Makkah Ki Muhabbat Ameez Or PurAmaan Khushboyeen
مولانا امیر حمزہ:
رمضان المبارک کی 20 تاریخ کو مکہ فتح ہوا، حضور نبی کریمﷺ فاتح بن کر اپنے آبائی شہر میں داخل ہوئے مگر آٹھ سال قبل کا تذکرہ بے حد ضروری ہے جب اللہ کے رسولﷺ اسی شہر سے نکال دیئے گئے تھے۔ ذرا تصور میں لائیے وہ دن جب اللہ کے رسولﷺ حزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب فرما رہے تھے کہ اے مکہ تو دنیا بھر میں اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر محبوب اور برکت والی زمین ہے اگر مجھے یہاں کے لوگ نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں کبھی بھی تجھے چھوڑ کر نہ جاتا۔
(مستند احمد)
اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضرت محمدﷺ کے دل کی یہ کیفیت دیکھی تو حضرت جبرئیل کوبھیجا جو مولاکریم کا پیغام لائے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فرمایا!
(میرے رسولﷺ) وہ اللہ جس نے آپﷺ پر قرآن نازل فرمایا وہ آپ کو ایسا یقین دلاتا ہے جو شک و شبے سے بہت بالا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اللہ ہر صورت آپ کو یہیں واپس لائے گا جہاں سے آپ کو نکالا جا رہا ہے۔

(القرآن)
قارئین کرام! اس ضمن میں تورات کی یہ پیشگوئی بھی ہمارے سامنے رہنی چاہئے کہ خدا فاران پر جلوہ گر ہو گا اور آخری نجات دہندہ جسے اس کے شہر سے نکال دیا جائے گا وہ واپس دس ہزار قدوسیوں کے ہمراہ اپنا علاقہ فتح کرے گا۔
جی ہاں!رمضان المبارک کی سترہ تاریخ کو اللہ کے رسولﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ اسی شہر میں داخل ہوئے جہاں ستایا گیا تھا، راستے میں کانٹے بکھیرے گئے تھے اور پتھر مارے گئے تھے۔
بیت اللہ میں سجدے میں گئے ہوئے حضور گرامی کی کمر مبارک پر اوجڑی رکھی گئی تھی۔ گلے میں چادر ڈال کر عقبہ بن ابی معیط نے ”گل گھوٹو“ دینے کی کوشش کی تھی۔ اس شہر سے حضورﷺ کی لخت جگر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس حال میں نکلنے دیا گیا تھا کہ ان کی سواری کو بدکایا گیا۔ وہ گریں اور آنے والے نومولود سے محروم ہو گئیں۔ صحابہ اور صحابیات کو ستایا گیا۔
پھر ہجرت کے بعد بھی مدینہ منورہ پر متواتر حملوں کے پروگرام بنائے گئے۔ معرکے کئے گئے کبھی احزاب کی شکل میں گھیراؤ اور کبھی احد میں آ کر پڑاؤ۔ ایسے شہر کے ساتھ فاتحین وہی کچھ کرتے ہیں جو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ کھوپڑیوں کے مینار بنتے ہیں۔ باپ، بھائی اور اقارب کا کوئی خیال اور لحاظ نہیں ہوتا۔ عورتیں بچے بے دریغ مارے جاتے ہیں۔ شہر برباد اور اس کی گلیاں خون سے رنگین ہوتی تھیں۔
مگر فاتح مکہ حضرت محمدﷺ کی ذات کریم تھی جنہوں نے تاریخ انسانی کا رخ بدل دیا۔ تاریخ کو اک نیا انداز دیا۔ ایسا انداز جس نے فتح کا مفہوم اور معنی ہی بدل دیئے۔ اس کو اک نئی پہچان دی، امن و سلامتی اور عفوودرگزر کی پہچان۔ حضورﷺ نے طاقت و قوت حاصل ہونے کے باوجود مکہ میں امن سلامتی کا پیغام دیا۔ آپﷺ نے مکہ جانے کا فیصلہ اس وقت فرمایا جب مکہ والوں نے حدیبیہ میں کیا ہوا صلح کا پیمان توڑا۔
انہوں نے اللہ کے رسولﷺ کے حلیف بنو خزاعہ پر ظلم کرنے والے قبیلے بنوبکر کا ساتھ دیا تھا۔ اللہ کے رسولﷺ پابند تھے کہ مظلوم قبیلے کے سردار کی فریاد پر اقدام کرتے چنانچہ مدینہ میں ان کا سردار آیا۔ فریاد رسی کا طلب گار ہوا اور پھر مکہ کی جانب اللہ کے رسولﷺ کا اقدام ہونے لگا۔
دس ہزار صحابہ کا عظیم لشکر معرکہ پر روانہ ہوا تو حجفہ کے مقام پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خاندان سمیت آن ملے۔
اسلام قبول کیا اور دس ہزار قدوسیوں کے ہمرکاب بن گئے۔ ابوسفیان کو یقین تھا کہ اس نے جو عہد شکنی کی ہے اب حضورﷺ کا لشکر مکہ کا رخ ضرور کرے گا چنانچہ اس نے مدینہ سے آنے والے راستے پر نگا ہ رکھنے کیلئے حکیم بن حزام اور دوسرے بدیلنامی شخص کو بھیجا۔ پھر ابوسفیان خود بھی ان کے ساتھ چل دیا کیونکہ خبر یہی تھی کہ حضورﷺ آ رہے ہیں۔ اللہ اللہ!
کل جو بے بس بستی سے نکالے گئے تھے وہ اب قوت و سطوت کے ساتھ آ رہے ہیں۔
ادھر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نکلے ہوئے تھے کہ قریش کے لوگوں کو سمجھائیں کہ مقابلہ کرنے کی سوچو گے تو مارے جاؤ گے۔ رات کے وقت جب ہر سو وادیوں اور چوٹیوں پر آگ کے الاؤ نظر آئے تو ابوسفیان گھبرا کر پوچھنے لگا کہ محمدﷺ کریم کا اتنا بڑا لشکر ہے؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خیر اسی میں ہے میرے ساتھ آ جاؤ تجھے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں لے جاتا ہوں۔
چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سواری پر ابوسفیان کو بٹھایا اور حضورﷺ کے خیمے کی جانب چل دیئے۔
راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے انہوں نے پہچان لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوسفیان کو قتل کرنے کی بات کی اور تلوار لے کر لپکے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سواری کو ایڑ لگائی اور حضور کے سامنے پہنچ کر امان کی درخواست کی۔
پیچھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تلوار لے کر پہنچ گئے لیکن حضورﷺ رحمت ا للعالمین کے در پر دشمن بھی آ گیا تو محفوظ اور مامون ہو گیا۔ ابوسفیان نے کلمہ نہ پڑھا۔ حضورﷺ نے مہلت دے دی۔ صبح ہوئی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سفارش پر حضورﷺ نے یہ اعزاز بھی دے دیا کہ جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے بھی امان ہے۔
اللہ کے رسول نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابوسفیان کو تنگ پہاڑی راستے کی بلندی پر لے جا کر کھڑ ا کرنے کیلئے کہا تاکہ قریش اس لشکر کی قوت کا اندازہ کر لیں۔ مقابلہ کرکے مارے نہ جائیں۔ یوں مکہ میں لشکر داخل ہو تو امن کے ساتھ داخل ہو۔ ابوسفیان نے جب لشکر کو درے میں سے گزرتا دیکھا اور آخر پر مہاجرین وانصار کے جانثاروں کے درمیان حضور عالی شان اور ذی شان کا باوقار رستہ دیکھا تو پکار اٹھا عباس! تیرے بھتیجے کی بادشاہت تو بڑی عظیم ہے۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھٹ سے بولے یہ بادشاہت نہیں نبوت ہے۔ ابوسفیان کو بتلا دیا کہ بادشاہت ہوتی تو جبروقہر کا طوفان ہوتا۔ یہ تو رحمت دوعالمﷺ کی پررحمت نبوت ہے۔ اس کا رنگ انسانیت کے ساتھ انتہائی محبت آمیز ہے۔ مکے کے لوگ ہتھیار لے کر جمع تھے۔ وہ ابوسفیان ہی کا انتظار کر رہے تھے۔ ابوسفیان نے خطاب کیا اور کہا لوگو! جو میں دیکھ کر آیا ہوں۔
اللہ کی قسم! تم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ گھروں کو لوٹ جاؤ۔ تمہارے لئے امن کا پروانہ لے آیا ہوں۔ حضرت محمدﷺ کریم کی رحمت کا پروانہ یہ ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو۔ اپنے گھر میں رہے۔ بیت اللہ میں رہے اسے امن ہے۔ ابو سفیان کے جملے کا آخری لفظ ختم ہوا اور لوگ گھروں کو دوڑ پڑے۔
اللہ اللہ! شاہ عرب کا پررحمت نبوی لشکر آ گیا۔ اللہ کے رسولﷺ سرف اور تنعیم کے راستوں سے گزرتے ہوئے ”جبل حجون“ کے پاس تشریف لائے۔
یہاں سے تھوڑے فاصلے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر مبارک ہے۔ میرے حضورﷺ نے یہیں خیمہ لگا لیا۔ اس کے بعد کعبہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں سب کے لئے معافی کا اعلان کر دیا۔ بتوں کو توڑ دیا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کی چھت پر چڑھے۔ اللہ اکبر کا آوازہ گونجا ”لا“ پر عمل ہو چکا تھا۔ اب ”الا اللہ“ کا شاندار نظارہ تھا اور اللہ کی توحید کا نقارہ تھا۔
حضورﷺ نے اپنی اماں اور بابا جان کا مکان جہاں شب و روز گزرے وہ بھی واپس نہ لیا۔ بس خیمے میں گزارہ کر لیا۔ اور واپس انصار کے ساتھ مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے۔ انصار کے خدشے کو دور فرما دیا کہ میں مکہ میں رہوں گا۔ یہ تھی وہ فتح مکہ جس نے وفاؤں کے پاسبان حضرت محمدﷺ کے ہاتھوں ایک نئی تاریخ رقم فرما دی۔ دور جدید کے فاتحین ذرا اپنے انداز دیکھو۔ میرے حضورﷺ کے محبت آمیز پھولوں کی مہک کچھ نہ کچھ کام کر جائے اور یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

Your Thoughts and Comments