Fikr E Aakhirat

فکرِ آخرت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ، اسے خلافت ونیابت سے سرفراز فرمایا ، عقل وشعور کی لازول نعمت سے مالامال کیا ۔ لیکن انسان اپنی مادی اور سائنسی ترقی کے باوجود آج بے چین ومضطرب نظر آتا ہے ۔ اس کا کیا سبب ہے ؟

Fikr e Aakhirat
محمد تبسم بشیر اویسی :
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ، اسے خلافت ونیابت سے سرفراز فرمایا ، عقل وشعور کی لازول نعمت سے مالامال کیا ۔ لیکن انسان اپنی مادی اور سائنسی ترقی کے باوجود آج بے چین ومضطرب نظر آتا ہے ۔ اس کا کیا سبب ہے ؟
قرآن حکیم وہ صحیفہ آسمانی کتاب ہے جو خالق کائنات نے اس مقدس رسول ﷺ کے ذریعے دنیا کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی جو خود بھی ہر قسم کی خامی سے پاک ہے ۔
اس پاک کتاب میں ہمارے تمام مسائل کا حل ہے ۔
ارشاد بانی ہے : خبردار ! اللہ کاذکر دلوں کا چین ہے ۔ معلوم ہوا کہ سکون اور اطمینان تو اللہ کے ذکر میں ہے لیکن اس ذکر سے غفلت ہی کی وجہ سے ہمیں اطمینان اور چین نہیں مل پارہا ہے ۔ یہ دنیا ، اس کا تمام سازو سامان ، زیب وزینت سب فانی ہیں ۔

یہاں جو بھی آیا ہے اسے ایک نہ ایک روز واپس جانا ہے ۔ یہ ناپائیدار دنیا اس قابل نہیں کہ اس میں جی لگایا جائے اور اس کی محبت میں اپنے خدا کو ہی بھول جائیں ۔


سررکار مدینہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے : اس شخص پر انتہائی تعجب ہے جو جنت پر ایمان رکھتے ہوئے دنیا کے حصول میں سرگرم رہے ۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے : دنیا سبز اور شیریں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے ۔ نبی اسرائیل پر جب دنیا فراخ کر دی گئی تو انھوں نے اپنی تمام تر کوششیں زیوارت ، کپڑوں عورتوں اور عطریات کے لیے وقف کردی تھیں اور ن کا انجام تم نے دیکھ لیا ۔

ہماری بربادی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے آخرت کو بالکل فراموش کردیا ہے ، جب کہ اسلام میں آخرت کے حوالے سے بڑی تاکید آئی ہے ۔
قرآن کہتا ہے کہ دنیاوی زندگی تھوڑی ہے اور اخروی زندگی ہی کام آنے والی اور طویل ہے ، مگر پھر بھی اس دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھنے والا غافل انسان اپنی ساری جدوجہد صرف دنیاوی آسائشوں کے لیے کر رہا ہے ، اسے اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال بھی نہیں آتا ۔
جوں جوں دنیا کی محبت اس کے دل میں گھر بناتی جاتی ہے ، یہ غافل انسان اتنا ہی فکر آخرت سے دور ہوتا جاتا ہے ۔
اس فانی دنیا میں دل لگانے کے بجائے آخرت کی فکر کرنی چاہیے ۔ فکر آخرت کی تاکید فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم پر دوچیزوں کے تسلط سے ڈرتا ہوں ؛ لمبی اُمیدوں اور خواہشات کی پیروی ! بے شک بڑی امیدیں آخرت کی یاد بھلادیتی ہیں اور خواہشات کی پیروی حق وصداقت سے روک دیتی ہے ۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ حضرت عائشہ کے پاس تشریف رکھتے تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آخرت کو یاد کرکے روپڑیں ۔ رسول کریم ﷺ نے دریافت فرمایا : اے عائشہ ! کیوں رورتی ہو ؟
انھوں نے عرض کیا: آخرت کو یاد کر کے روتی ہوں ۔ کیا لوگ قیامت کے دن اپنے گھروالوں کو یاد رکھیں گے ؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تین مقامات پر لوگوں کو اپنے سوا کچھ یاد نہیں ہوگا ۔

جب میزان عدل رکھی جائے گی اور اعمال تولے جائیں گے تو لوگ سب کچھ بھول کر یہ دیکھیں گے کہ ان کی نیکیاں کم ہیں یا زیادہ ۔
نامہ اعمال دیے جانے کے وقت یہ سوچیں گے کہ دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں ہاتھ میں ۔
پل صراط سے گزرتے ہوئے سب کچھ بھول جائیں گے ۔
صحابہ کرام ، حضور نبی پاک ﷺ کر پروردہ تھے اور آپ ﷺ کی بارگاہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل کرتے تھے۔
ایک ایک فرمان نبوی ﷺ پر دل وجان سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے اور اس میں کامیاب بھی ہوتے ۔ رسول اللہ نے انھیں فکرآخرت کی جو تعلیم عطا فرمائی ، انھوں نے اسے اپنے سینوں میں بسا لیا ۔ معلوم ہوا کہ یہ عارضی قیام گاہ ہے اور آخرت ایک ابدی اور دائمی جگہ ہے ۔ ہمیں دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنی ہے ، تاکہ ہمیشہ کی زندگی اور انعامات حاصل ہوں ۔ اگر عقیدہ ٴ فکر آخرت ہمارے ذہنوں میں نقش ہوجائے تو ہمارے گناہوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی آسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فکر آخرت سے اپنے اعمال سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Your Thoughts and Comments