Fitna Dajjal Qist 2

فتنہ دجال

نبی کریم ﷺکا فرمان ہے جس وقت دجال کا خروج ہو گا تو دو میں سے کوئی ایک صورت ضرور ہو گی، یا تو میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا یا نہیں، اگر میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو پھر تمہیں گھبرانے اور فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے

Fitna Dajjal Qist 2
قاری ظفر اقبال:
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے جس وقت دجال کا خروج ہو گا تو دو میں سے کوئی ایک صورت ضرور ہو گی، یا تو میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا یا نہیں، اگر میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو پھر تمہیں گھبرانے اور فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا تب بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہبانی کرے گا، اس طرح نبیﷺ نے لوگوں کو تسلی دی اور یہ بھی واضح فرما دیا کہ جس طرح تم فتنہ دجال سے خوف زدہ ہو رہے ہو، اس سے کہیں زیادہ تمہیں فتنہء دنیا سے خوف زدہ ہونا چاہیے، کیونکہ دجال سے خطرہ تو صرف ان لوگوں کو ہو گا جو اس کے زمانے کو دیکھیں گے اور دنیا سے ہر شخص کو خطرہ ہے، جو شخص اس کے فتنے میں گرفتار ہو جاتا ہے وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔


(3) بعض حضرات کے ذہن میں اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ بات نبیﷺ نے خود ہی متعین فرما دی ہے کہ دجال کا خروج آخر زمانے میں ہو گا اور اسے حضرت عیسی علیہ السلام قتل فرمائیں گے تو پھر اس جملے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے کہ اگر وہ میری موجودگی میں نکل آیا، ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع تو نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی اس احتمال کا کوئی مطلب بنتا ہے؟ سو اس کا جواب ہمارے محدثین نے یہ دیا ہے کہ نبیﷺ نے اس احتمال کا ذکر علی سبیل الفرض کیا ہے، یعنی یہ تو طے ہے کہ دجال آخر زمانے میں ہی آئے گا لیکن اگر تم خوف زدہ ہو گئے ہو اور تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ درختوں کے اس جھنڈ سے نکل کر تم پر حملہ نہ کردے، تو اولاً یہ بات سمجھ لو کہ وہ ابھی نہیں آئے گا لیکن اگر بالفرض وہ بھی آجائے تب بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں تمہارے درمیان موجود ہوں، میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا۔
یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ احتمال نفس الامر میں بھی موجود ہے، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے اردو زبان میں کسی ناممکن چیز کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ فرض کرو، اگر ایسا ہو بھی گیا تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس جملے کو بھی اسی طرح سمجھنا چاہیے۔
(4) نبیﷺ نے دجال کا حلیہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نوجوان ہو گا یعنی بوڑھا یا ادھیڑ عمر نہ ہو گا اور اس کے سر کے بال گھنگھریالے ہوں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گنجا نہ ہو گا، اور اس کی ایک آنکھ بھینگی ہو گی۔
نبیﷺ نے اسے زمانہء جاہلیت میں مر جانے والے عبدالعزی نامی ایک مشرک آدمی کے ساتھ تشبیہ دی، مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں نے عبدالعزی کو دیکھا ہے، وہ سمجھ لیں کہ دجال بھی اسی کے قریب قریب ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ مجموعی طور پر دی گئی ہے، یہ مقصد نہیں ہے کہ دجال مکمل طور پر عبدالعزی کی فوٹو کاپی ہو گا کیونکہ دجال کی بدصورتی ہر قسم کی بدصورتی پر غالب ہو گی، تاہم وہ عبدالعزی سے بہت حد تک مشابہت رکھتا ہو گا۔

(5) نبیﷺ نے فتنہء دجال سے بچنے کیلئے حفاظتی تدبیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ اگر کسی شخص کی زندگی میں دجال کا خروج ہو جائے اور وہ اس کے فتنے سے بچنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات اس کے سامنے پڑھنا شروع کر دے، دجال اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، اسی وجہ سے عام حالات میں بھی سورہ کہف پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے کیونکہ فتنہء دجال سے حفاظت کیلئے یہ نہایت مجرب نسخہ قرار دیا گیا ہے۔
البتہ روایات میں سورہء کہف کی ابتدائی آیات کی تعیین میں اختلاف نظر آتا ہے، چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی تین آیات کی تلاوت کر لیا کرے، وہ فتنہء دجال سے محفوظ رہے گا اور بعض روایات میں دس آیات کا ذکر آتا ہے ، ملا علی قاری نے ان دونوں باتوں میں تطبیق دیتے ہوئے کہا ہے کہ دس آیتوں والی روایات بعد کے زمانے کی ہیں اور جو شخص دس آیتوں پر عمل کرے گا، اس میں تین پر عمل خود بخود ہو جائے گا لیکن تین پر عمل کرنے کی صورت میں دس پر عمل نہیں ہوتا، یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تین آیتوں کا تعلق پڑھنے کے ساتھ ہے اور دس آیتوں کا تعلق حفظ کرنے کے ساتھ ہے، اور زیادہ صحیح جواب یہ ہے کہ سورہ کہف کی تین آیتوں کی تلاوت بھی انسان کو فتنہء دجال سے محفوظ کر دینے کیلئے کافی ہے۔
تاہم دس آیات کی تلاوت میں احتیاط زیادہ ہے، اور احتیاط کے پہلو کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
(6) اس حدیث کے مطابق دجال کا خروج شام اورعراق کے درمیان کسی جگہ سے ہو گا، اس کی مکمل تفصیل حضرت تمیم داری کی روایت میں اپنے موقع پر آئے گی۔ خروج کے بعد دجال دائیں بائیں فساد پھیلانا شروع کر دے گا، یاد رہنا چاہیے کہ دجال کے فساد پھیلانے سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ وہ امن عامہ کو تباہ کر دے گا، بلکہ اس میں وہ تمام خرابیاں شامل ہیں جو دینی یا دنیوی اعتبار سے نقصان دہ ہوں، مثلاً لوگوں کا ایمان خراب کرنا، نبوت کا اور پھر خدائی کا دعوی کرنا، خلق خدا کو گمراہ کرنا، اپنے ماننے والوں کو نوازنا اور نہ ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کردینا، یہ تمام چیزیں اس ”فساد“ کے مفہوم میں شامل ہیں، اسی لیے نبیﷺ نے لوگوں کی نصیحت فرمائی ہے کہ اس موقع پر ثابت قدم رہنا، اپنے ایمان میں ڈگمگا ہٹ پیدا نہ ہونے دینا، خواہ دجال سے تمہارا آمنا سامنا ہو یا نہ ہو، اپنے ایمان کی حفاظت کرنا، اگر اس سے آمنا سامنا ہو جائے تو اپنے دین و ایمان پر ڈٹ جانا ،کیونکہ اس کا فتنہ زیادہ عرصہ تک باقی نہ رہ سکے گا اور بہت جلد وہ اپنے بدترین انجام کو پہنچے گا، اور اگر تم اس سے دور ہو تو دور ہی رہنا، اس کے قریب جانے کی کوشش نہ کرنا ، کیونکہ جب کوئی شخص اس کے پاس جائے گا تو موٴمن ہو گا اور واپس آئے گا تو اس کے دل میں طرح طرح کے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہوں گے اور وہ مختلف قسم کے وساوس کا شکار ہو چکا ہو گا۔
(جاری ہے)

Your Thoughts and Comments