Fitna Dajjal Qist 3

فتنہ دجال

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں نبی ﷺنے فرمایا کہ دجال زمین پر جب خروج کرے گا تو اس کا پہلا دن ایک سال یعنی تین سو پینسٹھ دنوں کے برابر ہو گا، دوسرا دن ایک مہینے یعنی تیس دنوں کے برابر ہو گا

Fitna Dajjal Qist 3
مولانا قاری ظفر اقبال:
(7)صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں نبی ﷺنے فرمایا کہ دجال زمین پر جب خروج کرے گا تو اس کا پہلا دن ایک سال یعنی تین سو پینسٹھ دنوں کے برابر ہو گا، دوسرا دن ایک مہینے یعنی تیس دنوں کے برابر ہو گا اور تیسرا دن ایک ہفتے یعنی سات دنوں کے برابر ہو گا اور باقی ایام معمول کے دنوں کی طرح ہوں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ دجال کے ابتدائی تین دن معمول سے زیادہ لمبے ہوں گے، کچھ کم ، کچھ زیادہ اور کچھ اس سے زیادہ، اب یہاں دو باتیں غور طلب ہیں، ایک کا تعلق نظام کائنات سے ہے اور دوسری کا تعلق نظام عبادات سے ہے، نظام کائنات سے دنوں کے لمبا یا چھوٹے ہونے کی مناسبت سے تعلق ہے اس لیے اس کا معنی بھی واضح ہونا ضروری ہے، اور نظام عبادات سے مراد نمازوں کے اوقات اور ایام حج و روزہ کی تعیین وغیرہ ہے کہ اس کیلئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔


جہاں تک نظام کائنات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں علماء کی تین آراء ہیں، بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ اپنے حقیقی معنی پر محمول کیے جائیں گے اور مطلب یہ ہو گا کہ دجال کے خروج پر یہ تین دن حقیقتاً لمبے ہو جائیں گے، اور اس مقصد کیلئے سورج یا زمین کی حرکت نہایت ہلکی کر دی جائے گی، چنانچہ دجال کے خروج کے بعد دن اور رات کا پہلا چکر اس وقت مکمل ہو گا جبکہ عام حالات میں اس عرصے میں پورا سال بیت جاتا ہے ، دوسرا دن عام حالات کی نسبت ایک مہینے کی مدت میں اپنا چکر مکمل کرے گا، تیسرا دن ایک ہفتے میں یہ چکر مکمل کرے گا، بالآخر سورج یا زمین کی حرکت اپنے معمول پر آجائے گی اور چوبیس گھنٹوں میں دن اور رات کا ایک چکر پورا ہو جائے گا، چونکہ اس زمانے میں بہت سارے کام خلافِ عادت رونما ہو رہے ہوں گے اس لیے یہ بھی خلافِ عادت ہی ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے تو یوں بھی کچھ مشکل نہیں ہے، وہ جب چاہے سورج اور زمین کی حرکت کو تیز یا آہستہ کر دے، اس لیے دن لمبا ہو جانا حقیقی طور پر ہو گا۔
اکثر علماء نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور یہی مفہوم حدیث کے قریب تر بھی ہے۔
دوسری رائے یہ ہے کہ خروج دجال کے پہلے دن مسلمانوں پر اتنے شدید غم ، پریشانیاں، مصائب اور تکالیف اتریں گی کہ لوگوں کووہ ایک دن ایک سال کے برابر لگے گا، دوسرے دن ان تکالیف میں کمی واقع ہو جائے گی تو وہ انہیں ایک مہینے کے برابر لگے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ زیر تشریح حدیث میں مصائب اور تکالیف کی شدت یا ضعف کے اعتبار سے دنوں کو لمبا قرار دیا گیا ہے، حقیقت میں یہ دن لمبے نہیں ہوں گے لیکن لوگوں کو وہ لمبے محسوس ہوں گے، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معمولات زندگی واپس آنے لگیں گے اس لیے وہ ان مصائب کے عادی ہو جائیں گے، اسی وجہ سے انہیں وہ دن لمبے محسوس نہیں ہوں گے، لیکن محقق علماء نے اس رائے کو تسلیم نہیں کیا، کیونکہ اگر نبی کا یہی مقصد ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے متعلق نبی سے سوال نہ پوچھتے اور نبی انہیں اندازہ کرنے کا حکم نہ دیتے۔

تیسری رائے یہ ہے کہ حقیقت میں تو اس دن کا دورانیہ لمبا ہو گا اور نہ ہی سورج یا زمین کی حرکت میں کوئی فرق آئے گا، بلکہ سورج اور زمین اپنی معمول کی حرکت پر چلتے رہیں گے، ہاں! ایسا ہو گا کہ دجال کے سحر اور جادو میں گرفتار ہو کر لوگوں کو وقت گذرنے کا احساس ہی نہ ہوگا، چنانچہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ دن اپنے معمول کے وقت سے زیادہ ہی لمبا ہو گیا ہے ، اور دن رات کا ایک چکر اس وقت مکمل ہوا ہے جس میں عام طور پر پورا سال گذر جاتا ہے ، انہیں یہ خیال ہو گا کہ جیسے زمانہ ایک جگہ پر پہنچ کر رک گیا ہے، حالانکہ یہ محض سحر اور تخیل ہو گا، بعض علماء نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے، لیکن اس ناکارہ کے نزدیک اس سلسلے کی پہلی رائے ہی کو ترجیح حاصل ہے، الفاظِ حدیث کے ساتھ اس میں مطابقت بھی بہت زیادہ ہے اور ذہن بھی اسی معنی کو قبول کرتا ہے کہ حقیقی طور پر اس زمانے میں دن لمبے ہو جائیں گے۔

جہاں تک تعلق نظامِ عبادات کا ہے تو اس میں سب سے زیادہ اہم چیز نماز ہے کہ وہ دن میں پانچ مرتبہ ادا کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ دجال کا وہ دن جو پورے سال ،مہینے اور ہفتے کے برابر ہو گا، اس میں ایک دن رات کی نمازیں ادا کی جائیں گی یا اس کی کوئی اور ترتیب ہو گی؟ بظاہر دن لمبا ہو یا چھوٹا، اس کے لمبا اور چھوٹا ہونے کا تعلق تو اللہ کی قدر ت سے ہے، اس لیے چاہے وہ ایک سال کا ہو یا ایک مہینے اور ایک ہفتے کا اس میں اتنی ہی نمازیں کافی ہونی چاہئیں جو دن رات کے ایک چکر میں ادا کی جاتی ہیں، یہی چیز صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذہن میں بھی تھی چنانچہ جب انہوں نے نبی سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی نے فرمایا نہیں، اس کے لیے تمہیں اندازے سے کام لینا ہو گا، مطلب یہ ہے کہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد جب تم دیکھو کہ اتنا وقت گذر گیا ہے جتنا عام دنوں میں فجر اور ظہر کے درمیان ہوتا ہے تو تم ظہر کی نماز پڑھ لینا ، ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد جب تم دیکھو کہ اتنا وقت گذر گیا ہے جتنا عام دنوں میں ظہر اور عصر کے درمیان ہوتا ہے تو تم عصر کی نماز پڑھ لینا، اسی طرح اندازے سے نمازیں پڑھتے رہنا یہاں تک کہ وہ دن پورا ہو جائے، یہی اندازہ اس دن میں بھی کر لینا جو ایک مہینے یا ہفتے کے برابرہو گا، یہی اندازہ ”گو کہ حدیث میں اس کا تذکرہ نہیں ہے “رمضان کے روزوں اور ایام حج کی تعیین اور مناسک حج کی ادائیگی میں کام دے گا، اور اسی کے ذریعے نظامِ عبادت کو برقرار رکھا جائے گا۔
یہیں سے علماء نے روئے زمین پر بسنے والے ان علاقوں اور ملکوں میں اوقات نماز کا حکم معلوم کیا ہے جن میں دن اور رات کا چکر عام معتدل دنیا سے بالکل مختلف ہے، مثلاً بعض علاقے ایسے ہیں جہاں پر عشاء کا وقت ہی نہیں آتا، بعض علاقے ایسے ہیں جہاں چھ مہینے تک مسلسل دن کا راج ہوتا ہے اور چھ مہینے تک مسلسل رات ہوتی ہے، ایسے علاقوں میں نماز اور روزے کے تفصیلی احکام ہمارے قدیم اور جدید تمام علماء نے بیان فرمائے ہیں، گو کہ اس کا اصل موقع تو کتاب الصلوة ہے جہاں اوقاتِ نماز بیان کیے جائیں گے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے ہماری زندگی کس حد تک ہمارا ساتھ دے گی ، اس لیے ہم اس کا حکم یہیں بیان کیے دیتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments