Fitna Dajjal Qist 7

فتنہ ء دجال

ہم سب سے پہلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات پر کلام کریں گے، اس کے بعد یہ واضح کریں گے کہ دجال کو قتل کرنے کیلئے آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کیوں آئیں گے؟

Fitna Dajjal Qist 7
مولانا قاری ظفر اقبال:
قتلِ دجال کیلئے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی حکمت
اس عنوان کی مناسبت سے ہم سب سے پہلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات پر کلام کریں گے، اس کے بعد یہ واضح کریں گے کہ دجال کو قتل کرنے کیلئے آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کیوں آئیں گے؟ چنانچہ علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر نبیﷺ تک جتنے انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور انہیں مقام نبوت سے سرفراز فرمایا، اس مقام نبوت کی مثال ایک دائرے کی سی ہے، جسے ذیل میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس دائرے کو سامنے رکھ کر پہلے اس بات پر غور کیجئے کہ دائرہ بنانے کیلئے پرکار کا ایک سرا کاغذ پر رکھ کر اس کا مرکز متعین کیا جاتا ہے اور دوسرے سرے سے دائرہ بنایا جاتا ہے، اگر مرکز متعین نہ ہو تو دائرہ نہیں بن سکتا اس لیے پہلے مرکز متعین ہونا ضروری ہے اور اگر پرکار اپنے مرکز سے ہٹ جائے تو دائرہ صحیح نہیں بنتا، خراب ہو جاتا ہے، اور یہ بھی اصول ہے کہ اگر دائرہ صحیح بنا ہوا ہو تو اس میں کھینچے جانے والے تمام خطوط آپس میں برابر ہوتے ہیں، کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، اس مثال کو سامنے رکھ کر اب اس بات کو سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا مرکز متعین کر کے جب پرکار کے دوسرے سرے سے دائرہ کھینچنا شروع کیا تو اس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے کیا اور جب دائرہ مکمل ہوا تو اس کا اختتام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیا، گویا نبوت کا دائرہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا، یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سب سے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں، رہی یہ بات کہ نبی ﷺ کی ختم نبوت کہاں گئی تو وہ اپنی جگہ برقرار ہے، کیونکہ نبیﷺ مرکز نبوت ہیں، اور مرکز ہی سے دائرے کی ابتداء ہوتی ہے اور مرکز ہی پر دائرے کا اختتام ہوتا ہے لہٰذا تخلیق کے اعتبار سے نبی ﷺ کو سب سے پہلا نبی اور بعثت کے اعتبار سے سب سے آخری نبی بنا دیا گیا تا کہ مرکز دائرہ کے ساتھ مکمل مناسبت ہو جائے، پھر چونکہ دائرے میں بننے والے تمام خطوط برابر ہوتے ہیں لہٰذا اہل ایمان کے نزدیک تمام انبیاء علیہ السلامبرابر ہیں اور ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔


پھر دائرے کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہونا اور اختتام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہونا بھی اپنے اندر ایک گہری مماثلت رکھتا ہے ، چنانچہ دائرہ نبوت کی ابتدا میں صرف مرد سے عورت کو پیدا کیا گیا اور انتہاء میں صرف عورت سے مرد کو پیدا کیا گیا تا کہ ابتداء اور انتہاء میں مناسبت پیدا ہو جائے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کے مشابہہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے
}اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللَّہِ کَمَثَلِ آدَمَ { (آل عمران:۹۵)
”بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی سی ہے “
غور کیا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام کی ماں اور باپ کوئی بھی نہ تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کوئی نہ تھا، البتہ ظاہری طور پر اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کی پھونک کو ان کی پیدائش کا ذریعہ بنا دیا، گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فطرت میں بشریت بھی ہے اور جبریلیت اور ملکیت بھی، اسی بناء پر انہیں کلیم اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ کلمہ میں ایک لفظ ہوتا ہے اور دوسرا اس کا معنی، چونکہ کلمہ میں معنی نظر نہیں آتا، صرف لفظ ہی نظر آتا ہے، اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی صرف جسم نظر آتا ہے، مَلکیت نظر نہیں آتی اس لیے انہیں کلمہ سے تشبیہ دے کر کلیم اللہ کہا گیا، نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خمیر میں جبریل امین کی پھونک کیوجہ سے چونکہ ملکیت بھی ہے اور جبریل کا اصل ٹھکانہ آسمانوں میں ہے لہٰذا اس مناسبت سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آسمانوں پر لیجایا گیا ، اور حضرت مریم علیہ السلام کی وجہ سے بشریت بھی ہے اور بشر کا ٹھکانہ زمین ہے لہٰذا زمین پر ان کا نزول ہو گا، یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر اْتارا گیا کیونکہ ان کے خمیر میں مٹی تھی اور ہر چیز اپنی فطرت کی طرف لوٹتی ہے لہٰذا انہیں آسمان سے زمین پر اْتارا گیا، پھر چونکہ فرشتوں اور ملائکہ میں شادی بیاہ کا سلسلہ نہیں ہوتا تو جبریل امین کے ساتھ مناسبت کیوجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی شادی نہیں ہوئی، اور انہیں آسمانوں پر اْٹھا لیا گیا لیکن جب وہ بشریت کی مناسبت سے زمین پر اْتریں گے تو شادی بھی فرمائیں گے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہو گی۔

جہاں تک تعلق ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام میں حکمت کی بات کا ، تو اسے سمجھنے کیلئے پہلے ایک تمہیدی مقدمہ سمجھنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی ہے ، اس کی ضد بھی بنائی ہے، مثلاً ایمان کی ضد کفر ہے ، اور عام طور پر ضدوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے، اس طرح ہر چیز کا ایک مرکز اور معدن بھی ہوتا ہے ، مثلاً ایمان کا منبع ملائکہ اور فرشتے ہیں۔

{لَا یَع?صْو?نَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھْم? وَیَف?عَلْونَ مَا یْو??مَرْو?نَ} (التحریم: ۶)
”وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہو“
اور شیاطین کفر کا مرکز ہیں، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے
{وَکَانَ الشَّیْطٰنْ لِرَبِّہْ کَفْوْراً} (الاسراء:۷۲)
”اور شیطان اپنے رب کا سب سے بڑا نافرمان ہے “
اس کا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ سے بھول کر بھی ”نہ ماننا“ نہیں ہو سکتا، اسی لیے وہ ایمان کا منبع ہیں ، اور شیطان میں ماننے کا جذبہ ہی نہیں ہے، یعنی اس سے بھول کر بھی ”ماننا“ نہیں ہو سکتا، اسی لیے وہ کفر کا منبع ہے، اور ضدوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے، لہٰذا مرکز ایمان اور مرکز کفر کے درمیان مقابلہ ہوا، اس مقابلے میں دونوں ایک دوسرے کی ٹکر کے ہیں، دونوں کو طویل عمر دی گئی ہے ، دونوں مختلف شکلوں میں آسکتے ہیں، ایک ہی آن میں دونوں اوپر بھی جا سکتے ہیں اور نیچے بھی آسکتے ہیں، قلب کی ایک جانب شیطان ہے تو ایک جانب فرشتہ بھی ہے ، گویا مرکزِ ایمان اور مرکزِکفر کا مقابلہ چل رہا ہے، لیکن ہمیں نظر نہیں آ رہا۔

حکمت خداوندی کا تقاضا ہوا کہ شیطان اور ملائکہ کے درمیان ہونے والا یہ مقابلہ عام انسانوں کو بھی دکھایا جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شخصیت کو پیدا کر دیا، جس کی اصل فطرت شیطانی ہے، اور جسم اور ڈھانچہ انسانی ہے، اسی طرح ایک ایسی شخصیت کو پیدا کیا جس کی اصل فطرت میں ملکیت ہے اور جسم اور ڈھانچہ انسانی ہے ، پہلے کو دجال کہتے ہیں اور دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، اب ان دونوں کے درمیان مقابلہ ہونا ہے لہٰذا ان دونوں میں برابر کا جوڑ رکھا، چنانچہ اگر دجال بنی اسرائیل میں سے ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں، اگر دجال کا ظہور ہو گا اور وہ اچانک خروج کرے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اچانک نزول فرمائیں گے، اگر دجال آتے ہی خدائی کا دعویٰ کرے گا تو حضرت عیسی علیہ السلام نے آتے ہی عبدیت کا نعرہ لگایا، دونوں کا لقب ”مسیح“ ہے، ایک کا کام کفر کو مٹانا ہے اور دوسرے کا کام اسلام کو مٹا نا ہے، دجال ملک شام میں ظاہر ہو گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ملک شام میں ظاہر ہوں گے ، دجال کا کام فساد برپا کرنا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کام عدل و انصاف پھیلانا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں میں اتنی زبردست مناسبت ہے کہ دونوں کا مقابلہ بنتا ہے اور دونوں کی جوڑ بنتی ہے۔

اب اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں جتنی زبردست مناسبت پائی جاتی ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ پھر دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہی آتا؟ نبیﷺ کی امت میں اس کا ظہور کیوں ہو گا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ دجال خاتم الدجالین ہے، اس لیے اسے خاتم الانبیاء علیہ السلام ہی کے دور میں آنا چاہیے، لیکن چونکہ رسالت مآب ﷺ آفتاب نبوت ہیں اور دجال سراپا ظلمت و تاریکی ہے ، اور آفتاب نکلتا ہے تو تاریکی اس کے سامنے ٹھہر ہی نہیں سکتی، اس لیے اگر دجال سے مقابلہ کرنے کیلئے سرکار دو عالم ﷺ خود آتے تو وہ ان کے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتا تھا، اس لیے مقابلہ نہ ہو پاتا، لہٰذا لازم ہوا کہ نبیﷺ کی طرف سے ایک نمائندہ آئے جو دجال سے مقابلہ کرے، اور نمائندہ وہ ہونا چاہیے جسے نبیﷺ کے ساتھ مناسبت ہو اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول عقل کی روشنی میں متعین ہو گیا، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ﷺ کے ساتھ خاص مناسبت ہے، اسی وجہ سے نبیﷺ نے فرمایا
”آنا اولی الناس بعیسی ابن مریم، لیس بینی وبینہ نبی“
”میں تمام لوگوں سے زیادہ عیسی ابن مریم کے قریب ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی آیا ہی نہیں۔

(۲۱) زیر تذکرہ حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جس کافر تک ان کا سانس پہنچے گا، وہ مر جائے گا، گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس اور ان کی پھونک میں ایسا اثر ہوگا کہ وہ کفار کی موت کا سبب بن جائے گا، اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ جب اللہ نے انہیں منصب نبوت و رسالت سے سرفراز کیا تو ان کا سانس اور ان کی پھونک مردوں کو زندہ کرنے کا سبب بن جاتی تھی۔

Your Thoughts and Comments