Hazrat Abbu Ali Fazeel Ban Ayaz

حضرت ابو علی فضیل بن عیاض

حضرت سیّدنا ابو علی فضیل بن عیاض اہل ِحق کے بادشاہ‘ بارگاہ ِقربِ اِلٰہی کے منتخب ہیں۔ان کا شمار بزرگوں ‘ دُرویشوں اور حقیقی صوفیائے کرام اور کبارِ تیغ تابعین میں ہوتا ہے اور آپ کو طریقت کے معاملات اور حقائق میں بہت بڑا رُتبہ اور نصیب ِکامل حاصل ہے۔

hazrat abbu Ali Fazeel ban ayaz

علامہ منیر احمد یوسفی

حضرت سیّدنا ابو علی فضیل بن عیاض اہل ِحق کے بادشاہ‘ بارگاہ ِقربِ اِلٰہی کے منتخب ہیں۔ان کا شمار بزرگوں ‘ دُرویشوں اور حقیقی صوفیائے کرام اور کبارِ تیغ تابعین میں ہوتا ہے اور آپ کو طریقت کے معاملات اور حقائق میں بہت بڑا رُتبہ اور نصیب ِکامل حاصل ہے اور آپ طریقت کے اُن مشہور بزرگوں میں سے ہوئے ہیںجن کی تمام طبقوں نے تعریف کی ہے اور آپ کے تمام اَحوال صدق و اِخلاص سے معمور ہیں۔

اہل ِطریقت میں آپ کا بہت بڑا درجہ ہے۔ آپ کی زندگی اِنقلابِ حیات کے لئے دوسروں کے واسطے درسِ عظیم ہے۔ مرو کا ایک سوداگر ماورد جارہاتھا‘ اُس نے کوئی حفاظتی دَستہ ساتھ رکھنے کی بجائے ایک قاری صاحب کو اپنے ساتھ لے لیا۔ قافلہ کے سب سے اَگلے اُونٹ پر اُس کو بٹھا دیا اور اُسے تلاوتِ قرآنِ مجید کی اَہم ذِمہ داری دے دی ۔

ربِّ ذوالجلال والاکرام کی شفقت و کرم اور کرشمہ ملاحظہ فرمائیں‘ جب یہ قافلہ اُس مقام پر پہنچا جہاں حضرت ابوعلی فضیل بن عیاض بیٹھے ہوئے تھے اُس وقت قاری صاحب سورۃ الحدید کی تلاوت کر رہے تھے۔

حضرت فضیل بن عیاض کے کان میں تلاوتِ قرآنِ مجید کی اِن حکمات کی آواز پڑی :

ترجمہ’کیا اِیمان والوں کے لئے اَبھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دِل اللہ کی یاد میں جُھک جائیں اور اُس حق کے لئے جو اُترا ہے اور اُن جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر اُن پر مدّت دراز ہوگئی تو اُن کے دِل سخت ہوگئے اور اُن میں بہت فاسق ہیں۔ جان لو اللہ زمین کے مرنے یعنی بنجر ہونے کے بعد اُس کو زندہ یعنی زرخیز فرماتاہے۔

بے شک ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان فرمائی ہیں تاکہ تمہیں سمجھ ہو‘‘۔

حضرت فضیل بن عیاض کے دِل ودماغ میں اِن آیاتِ مبارکہ سے شدید خوف پیدا ہوا۔اور اللہ کے کلام سے بہت متاثر ہوئے یہ سنتے ہی حضرت فضیل بن عیاض کی کایا پلٹ گئی ا ور سچی توبہ کرلی۔ یہاں تک کہ آپ بعد ازیں بہت سے بزرگانِ دِین کی صحبت میں رہے ‘جن میں اِمام ابو حنیفہؓ بھی شامل ہیں۔

اللہ نے آپ کو تصوّف اور معرفت میں بلند مرتبہ عطافر ما یا ۔ آپ بہت سی اَحادیث مقدّسہ کے راوی بھی ہیں۔

فضل بن ربیع نے روایت کی ہے کہ میں خلیفہ ہارون الرشید کے ہمراہ مکہ مکرمہ گیا ۔ جب ہم حج کرچکے تو خلیفہ ہارون الرشید نے مجھ سے فرمایا: کیا اَولیاء اللہ میںسے کوئی یہاں موجود ہیں‘ تاکہ ہم اُن کی زیارت کریں؟ میں نے عرض کیا: ہاں کیوں نہیں۔

حضرت عبدالرزاق صنعانی یہاں موجود ہیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے فرمایا: مجھے اُس کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم اُن کے پاس گئے اور کچھ دیر تک اُن سے گفتگو کرتے رہے۔ جب ہم نے واپسی کا قصد کیا تو خلیفہ ہارون الرشید نے اِشارہ فرمایا کہ اِن سے پوچھو کہ کیا اِن پر کچھ قرضہ تو نہیں ہے؟ میں نے اُن سے پوچھا: تو اُنہوں نے فرمایا: ہاں ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے فرمایا: اُن کا قرضہ اَدا کردینا اور وہاں سے نکل کر فرمایا: اے فضل بن ربیع میرا دِل چاہتا ہے کہ اُن سے زیادہ بزرگ آدمی کو دیکھوں۔
میں نے عرض کیا: حضرت سفیان بن عینیہ بھی یہاں موجود ہیں۔ تو آپ نے فرمایا:چلو! اُن کے پاس چلیں ‘ ہم اُن کے پاس گئے اور کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ جب ہم نے واپس ہونے کا اِرادہ کیا تو خلیفہ ہارون الرشید نے مجھے اِشارہ فرمایا کہ اِن سے اِن کے قرضہ کے بارے میں پوچھو۔ میں نے اُن سے پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا:ہاں! میرے ذمہ قرضہ ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے حکم فرمایا‘ تو اُن کا قرضہ اَدا کردیا گیااور وہاں سے باہر نکل کر فرمایا: اے فضل بن ربیع! ابھی تک میرا مقصود حاصل نہیں ہوا۔
میں نے عرض کیا: مجھے یاد آگیا کہ حضرت سیّدنا فضیل بن عیاض بھی یہاں موجود ہیں۔ چنانچہ میں خلیفہ ہارون الرشید کو اُن کے پاس لے گیا۔ آپ اُس وقت جھروکہ میں بیٹھے قرآنِ مجید پڑھ رہے تھے۔ ہم نے دَروازہ کھٹکھٹایا ‘ تو آپ نے پوچھا:کون ہے؟ میںنے جواب دیا: اَمیرالمؤمنین ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہمیں اَمیرالمؤمنین سے کیا کام ‘ میں نے عرض کیا: سُبْحَانَ اللّٰہِ ! اِما م الانبیاء حضورؐ پاک نے اِرشاد مبارک فرمایا:لَیْسَ لِلْعَبْدَانِ یُذِلَّ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ ’’بندہ کو جائز نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جلَّ شانہٗ کی اِطاعت میںاپنے نفس کو ذَلیل کرے‘‘۔
آپ نے فرمایا: بَلٰی اَمَّاالرَّضَاعُ عِزُّ دَآئِمٌ عِنْدَ اَہْلِہٖ ’’ ہاں! کیوں نہیں‘ لیکن راضی بقضا اَہلِ رضا کے نزدیک رضا ہمیشہ کی عزّت ہے‘‘۔تو اِسے میری ذلت سمجھتا ہے لیکن میں حکمِ اِلٰہی پر راضی ہونے کی وجہ سے اِس کو اپنی عزّت سمجھتاہوں۔ اِس کے بعد نیچے اُتر آئے اور دَروازہ کھولا اور چراغ بجھادیااور ایک کونہ میں کھڑے ہوگئے۔
یہاں تک کہ خلیفہ ہارون الرشید ‘ آپ کو مکان کے اَندر تلاش کرنے لگے۔ خلیفہ ہارون الرشید کا ہاتھ آپ سے ٹکرایا ‘ تو آپ نے فرمایا: کاش وہ ہاتھ جس سے زیادہ نرم میں نے کوئی ہاتھ نہیں دیکھا۔ اگر وہ عذابِ الٰہی سے چھوٹ جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ یہ سُن کر خلیفہ ہارون الرشید رونے لگے اور اِتنے روئے کہ بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے توعرض کیا: اے حضرت فضیل بن عیاض ! مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔
آپ نے فرمایا: اے اَمیر المؤمنین ! آپ کے دادا جان حضورپاکؐ کے چچا تھے۔ اُنہوں نے حضور پاکؐسے دَرخواست کی کہ مجھے ایک قوم پر اَمیر بنا دیجئے ۔ حضور پاکؐ نے فرمایا: میں نے آپ کے نفس کو آپ کے جسم پر اَمیر کردیا۔ یعنی آپ کا ایک سانس عبادتِ الٰہی میں اُس سے بہتر ہے کہ خلقت آپ کی فرمانبرداری کرے ۔ لِاَنَّ الْاَمَارَۃ َ یَوْمَ الْقِیَامَتِہِ النَّدَامَتُہٗ ’’کیونکہ اَمارت قیامت کے روز شرمندگی کا باعث ہوگی‘‘ خلیفہ ہارون الرشید نے عرض کیا:کچھ اور نصیحت فرمادیجئے۔
تو انہوں نے فرمایا: جب حضرت عمر بن عبدالعزیز کو لوگوں نے خلافت پر مقرر کیا تو اُنہوں نے حضرت سالم بن عبداللہ ‘ حضرت جابر بن حیات اور حضرت سیّدنا محمد بن کعب القرظی کو بلا کر فرمایا: میں اِن مصائب میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ اِس سے نجات پانے کے لئے کیا تدبیر ہوسکتی ہے؟ کیونکہ میں تو اِس خلافت کو اپنے لئے ایک بڑی مصیبت سمجھتا ہوں ۔ اگرچہ لوگ اِسے نعمت سمجھتے ہیں۔
چنانچہ اُن میں سے ایک نے عرض کیا: اگر آپ قیامت کے روز عذابِ اِلٰہی سے نجات چاہتے ہیں تو بوڑھے مسلمانوں کو اپنے باپ کی طرح اور اُن کے جوانوں کو بھائیوں کی طرح اور اُن کے لڑکوں کو اپنے بیٹوں کی طرح جانئے۔ پھر اُن سے اَیسا برتاؤ کیجئے کہ گھر میں اپنے باپ‘ بھائی اور بیٹے سے کیا کرتے ہیں۔ یہ سارا اِسلامی ملک آپ کا گھر اور اِس کے رہنے والے آپ کے اَہل وعیال ہیں۔
زُرْ اَبَاکَ وَاَکْرِمْ اَخَاکَ وَاَحْسِنْ عَلٰی وَلَدِکَ ’’اپنے باپ کی خدمت کر اور اپنے بھائی کی عزّت اور اپنے بیٹے سے بھلائی کر‘‘ ۔ اُس کے بعد حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا: اے اَمیرالمؤمنین ! میں ڈرتا ہوں کہ مبادا آپ کا یہ خوبصورت چہرہ آتش ِدوزخ میں گرفتار ہوجائے۔ اِس لئے آپ اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈریئے اور اُس کا حق بہتر طور پر اَدا کیجئے۔
اُس کے بعد خلیفہ ہارون الرشید نے عرض کیا: کیا آپ پر کچھ قرضہ ہے؟ آپ نے جواب اِرشاد فرمایا: ہاں ! اللہ تبارک وتعالیٰ جلَّ شانہٗ کا قرض میری گردن پر ہے اور وہ اُس کی بندگی ہے۔ اگر وہ مجھے اِس کی بابت پکڑے تومجھ پر اَفسوس ہے ۔ خلیفہ ہارون الرشیدنے عرض کیا: لوگوں کا قرض پوچھتا ہوں ‘ آپ نے جواب اِرشاد فرمایا: اللہ کی حمد اور اُس کا شکر ہے کہ اُس کی بہت بہت نعمتیں مل رہی ہیںاور مجھے اُس کی ذات سے کوئی شکوہ نہیں ۔
جس میں اُس کے بندوں سے کچھ مددمانگوں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک ہزار دینار نکالے اور آپ کے سامنے رکھ کر عرض کیا: اپنے کسی مصرف میں لایئے۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا: اے اَمیر المؤمنین ! تو پھر میری یہ سب نصیحتیں آپ کے لئے کچھ بھی سود مند نہ ہوئیں اور یہیں آپ نے بے اِنصافی کو شروع کردیا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے پوچھا: میں نے کیا نااِنصافی کی‘ آپ نے فرمایا: میں تو آپ کو نجات کی طرف بلاتاہوں اور آپ مجھے بَلا میں ڈالتے ہیں۔
یہ نا اِنصافی نہیں تو اورکیا ہے۔ یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید اور فضل بن ربیع دونوں آپ کے پاس سے روتے ہوئے نکلے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے فرمایا: اے فضل بن ربیع! بادشاہ درحقیقت حضرت فضیل بن عیاض ہے اور اِس کی دلیل یہ ہے کہ آپ دُنیااور اَہلِ دُنیا سے اِعراض کرتے ہیں۔ دُنیا کی زیب و زینت کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دُنیاداروں کی محض دُنیا کی و جہ سے کوئی خاطر تواضع نہیںکرتے آپ کے مناقب اِس سے زیادہ ہیں کہ تحریرمیں آسکیں۔

Your Thoughts and Comments