Hazrat Abu Bakar Siddique RA Aur Hijrat E Habsha

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ہجرت حبشہ

جب مکہ میں حالات مزید خراب ہونے لگے تو آنحضور ﷺ سے ابو بکر صدیق نے ہجرت حبشہ کیلئے اجازت مانگی ۔ آنحضور ﷺ صورتحال کو دیکھ کر انہیں ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔

Hazrat Abu Bakar Siddique RA Aur Hijrat e Habsha
حافظ زاہد عارف:
جب مکہ میں حالات مزید خراب ہونے لگے تو آنحضور ﷺ سے ابو بکر صدیق نے ہجرت حبشہ کیلئے اجازت مانگی ۔ آنحضور ﷺ صورتحال کو دیکھ کر انہیں ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ سے گئے تو کسی نے ان کو نہ روکا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت اہل مکہ کو گراں تو گزری مگر خاموش رہے ۔ یمن کی راہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو احابیش کا سردار بن الد غنہ مل گیا ۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کیسے سفر پر ہو ؟ اس نے پوچھا ۔ میری قوم نے مکہ میں میری زندگی تنگ کرد ی ہے ۔ اذیت سے نجات کیلئے حبشہ کے سفر پر ہوں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ۔
ابن الد غنہ کو یہ سن کر بہت افسوس ہوا اور کہا “ ابوبکر رضی اللہ عنہ تم تو معاشرے کی زینت ہو خداتعالیٰ کی قسم تمہیں مکہ چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

تم تو مسکینوں کابار اٹھاتے ہوٹیک کاموں میں مدد کرتے ہو صلہ رحمی اورمہمان نوازی کرتے ہو ‘ میں تمہیں حبشہ نہیں جانے دوں گا ۔ اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مکہ واپسی پر آمادہ کر لیا اور منزل بہ منزل ساتھ چلتا ہوا کہ مکہ لے آیا ۔ قریش کے سرداروں کو جمع کر کے اس نے اعلان کیا میں نے ابو قحافہ کے بیٹے کو پناہ دی ہے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے انسان کو مکہ سے نہیں نکالا جاسکتا ۔
اب کوئی ان سے بھلائی کے سوا کچھ اور سلوک نہ کرے ۔
قریش کے سرداروں نے کہا کہ ” ہمیں خطرہ ہے کہ اس سے قرآن سن کر ہمارے بچے اور عورتیں فتنے میں نہ مبتلا ہوجائیں ۔ آپ ان کو کہیں کہ یہ اپنے گھر سے باہر قرآن پڑھ کر ہمیں اذیت نہ دیں ۔ اپنے گھر میں جس طرح چاہیں اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کریں ۔ کفار قرآن اور اسلام سے برافروختہ بھی تھے اور خوفزدہ بھی ۔
ابن الد غنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کے شہر پہنچا کر اور قریش مکہ کو خبردار کر کے واپس اپنے قبیلہ میں چلا گیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں مسجد بنالی ۔ وہ نماز کے دوران بلند آواز سے تلاوت کلام پاک کرتے تو قریش کے بچے ان کے گھر کے سامنے اکٹھے ہوجاتے ۔ قریش کے سرداروں نے مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں قید کر رکھا تھا ‘ اس غم سے بھی آپ قرآن کی تلوات بڑے سوزے کرتے جوکفارمکہ کے دلوں پر بھی اثرانداز ہوتی۔

Your Thoughts and Comments