Hazrat Abu Bakar Siddiqui RA

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا

آپ کا نام عبداللہ ،کنیت ابوبکر اور لقب صدیق ہے۔آپ قریشی کی ایک شاخ بنی تمیم میں سے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا ابتدا ہی سے بڑے سلیم الفطرت اور راست باز تھے۔چنانچہ زمانہ جاہلیت میں بھی انھوں نے اپنا دامن ہر قسم کی آلائشوں سے پاک رکھا تھا

Hazrat Abu Bakar Siddiqui RA
تعارف:
آپ کا نام عبداللہ ،کنیت ابوبکر اور لقب صدیق ہے۔آپ قریشی کی ایک شاخ بنی تمیم میں سے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا ابتدا ہی سے بڑے سلیم الفطرت اور راست باز تھے۔چنانچہ زمانہ جاہلیت میں بھی انھوں نے اپنا دامن ہر قسم کی آلائشوں سے پاک رکھا تھا۔تجارت شغل تھا اور صاحب دولت وحیثیت تھے۔آپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے حضور ﷺ پر ایمان لائے اور آخری دم تک رسول اللہ ﷺ کی دست وبازو بنے رہے۔
اسی وجہ سے صدیق لقب ملا۔اسلام کے لئے آپ نے جان ومال کی بے نظیر قربانیاں پیش کیں۔کئی موقعوں پر گھر کا سارا اثاث دین کی خاطر نثار کردیا۔
صدیقی سیرت اور کارنامے:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نہایت نرم دل متواضع،انکسار پسند اور پرہیز گار تھے۔

عبادت گزار اتنے کہ راتیں قیام میں اور دن روزوں میں گزر جاتے۔دنیا سے کبھی دل نہ لگایا اور آخرت کا خوف ہمیشہ غالب رہا۔

خلیفہ بن جانے کے بعد بھی پوری تندھی سے یتیموں اور بے کسوں کی خدمت کرتے رہے۔کسی کی بکریوں کا دودھ دوھتے، کسی کے اونٹ چرانے چراگاہوں میں لے جاتے۔ طبیعت میں سادگی اور فقر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔حضورﷺ فرمایا کرتے تھے: میں نے ہر شخص کے احسانات کا بدلہ دنیا میں ادا کردیا ہے۔لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہا کے احسانات مجھ پر باقی ہیں۔ ان کا بدلہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ دے گا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت بڑا کارنامہ قرآن مجید کا یک جا کرنا ہے۔ان کے عہد کی لڑائیوں میں بہت سے حافظ قرآن صحابہ شہید ہو گئے۔اس سے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فکر لاحق ہوئی۔ کہ کہیں قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے۔حضرت عمر نے آپ کو مشورہ دیا کہ جلد ازجلد تمام اجزا کو اکٹھا کر لے کتابی شکل میں مرتب کرلیا جائے اگرچہ قرآن کریم کی تنزیل آنحضرت ﷺ کی زندگی میں مکمل ہوچکی تھی۔
لیکن اس کے مختلف حصے صحابہ نے کاغذ کے اوراق،کھجورکے پتوں اور چمڑے یا پتھر کے ٹکڑوں پر لکھ رکھے تھے۔اس طرح چند ایک پاس پورا قرآن جمع تھا اور اکثر کوتمام حفظ تھا۔
حضورﷺ کے زمانے میں سورتوں کی ترتیب بھی ہو چکی تھی اور ان کے نام بھی موجود تھے۔لیکن اسے ایک مکمل کتابی شکل حاصل نہ تھی۔چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہا نے حضرت زید بن ثابت کاتب وحی کو تدوین قرآن کا کام سپرد کیا۔
وہ خود بھی حافظ تھے ۔لیکن بایں ہمہ انہوں نے مسجد نبوی میں اعلان کرا کے جن صحابہ کے پاس مختلف اجزا تھے۔سب اکٹھے کر لیے۔اور پھر حفاظ کی تصدیق کے بعد انتہائی محنت واحتیاط سے پورے قرآن کو سیاروں کی صورت میں کاغذ پر لکھ کر پہلا مکمل کتابی نخسہ تیارکیا۔ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ذاتی تحویل میں تھا۔ان کی وفات کے بعد حضرت عمر کے پاس محفوظ رہا اور انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کردیا۔
اس وقت اسلام عرب کے علاوہ کئی بیرونی ممالک میں پھیل چکا تھا اور بہت سے الفاظ کے تلفظ اور ادائیگی میں مقامی اختلافات ظہور پذیر ہونے لگے تھے۔آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ساتھ اس کی صیح تلاوت کا طریقہ بھی صحابہ کو سکھادیا تھا۔لیکن جب مختلف ممالک اور قبائل کے لوگ اپنے مقامی تحفظ اور طرز تحریر کے مطابق اس کی کتابت کرنے لگے تو اختلافات بڑھنے اور خلل پھیلنے کا اندیشہ ہوا ۔
اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہا نے اپنے عہد خلافت میں قرآن کے اصلی رسم الخط اور تحفظ کی حفاظت کے لیے مزید تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ ایک بار پھر حضرت زید بن ثابت ا س کام پر مامور ہوئے۔اور ان کی مدد کے لیے مقتدر صحابہ کی چھوٹی سی کمیٹی مقرر ہوئی۔آنھوں نے قرآن کے پہلے مکمل نسخہ کو جو عہد صدیقی میں تیار ہوا تھا حاصل کر کے اس کی مزید کاپیاں تیار کرائیں۔
اصل نسخہ مدینہ میں رہا۔اور باقی کاپیاں مکہ ،کوفہ ،بصرہ،دمشق اور اغلباّ دیگر صوبائی مراکز کو بھی روانہ فرمائیں تا کہ صبح تلفظ وتلاوت میں سب کی رہنمائی ہو سکے ۔قرآن مجید کے دیگر نسخہ جات جن میں جایحا اختلافات پائے جاتے تھے منگوا کر یکجا تف کردیے گئے اور اس طرح امت مسلمہ کو ایک قرآن پر مستحد کیا۔عثمانی نسخہ میں اعراب ونقاط وغیرہ نہیں تھے۔
کیو نکہ اہل عرب نے زبان پر پورا عبور ہونے کی وجہ سے کبھی ان کی ضرورت محسوس نہیں کی۔کہا جاتا ہے کہ اموی عہد میں عراق کے گورنر حجاج بن یوسف ثقی ٰ نے تلاوت میں آسانی کے لیے نقاط وعارب کا بھی اضافہ کرا دیا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ بنیادی طور پر قرآن کریم کا اصل نسخہ جسے حضرت ابوبکر نے مرتب کرایا تھا اور جس کی تجدید عہد عثمانی میں وہی آج تک مسلمانوں میں رائج ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے اسلام اور مسلمانوں کی وہ خدمات سر انجام دیں دل اور منکسر المزاج تھے۔اسلام کی حفاظت میں اسی قدر مستقل مزاج اور سر فروش ثابت ہوئے۔مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی آپ کو مستعدد حوصلہ شکن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مدعیان نبوت کی شورشیں،مرتدن کی ہنگانہ آرئیاں ،تارکین زکوةکے بلوے اور سب سے بڑھ کر مدینہ کا محاصرہ ،مگر بڑی سے بڑی مشکل بھی آپ کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ کرسکی۔
حالات کی نزاکت اور وقت کی مصلحت کے زیر اثر آپ کبھی مرعوب نہیں ہوئے اور کسی بھی حالت میں ارکان دین پر آنچ نہ آنے دی۔اپنی اسی اولو العزمی کے باعث بالاخر تمام دشمنوں اور باغیوں پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوئے۔اور ایک دفعہ پھر تمام ملک عرب اسلامی قیادت کے جھنڈے تلے متحد ہوگیا ان حالات کے پیش نظر اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسلامی حکومت کا دوسرا بانی کہہ دیا جائے تو بے جانہ ہوگا۔

آپ نے کل عرب کو دیں حصوں میں تقسیم کر کے پر ایک پر اپنی طرف سے امیر مقرر کیا جو حاکم بھی ہوتا اور قاضی بھی۔فوج کو مختلف دستوں میں تقسیم کر کے ہر ایک دستے کا علیحدہ سالار مقرر کر دیتے اور پھر ان سب کو ایک سپہ سالار اعظم کے ماتحت کر دیا جاتا۔ فوجوں کو حملہ کے وقت خاص ہدایت ہوتی کہ فصلیں کھجور اور پھلدار درخت ویران نہ کریں،بوڑھوں،عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کریں کسی پر ظلم نہ کریں ۔کسی سے دغا نہ کریں ۔گرجاؤں کو تباہ نہ کریں ۔اور جزیہ ادا کرنے والوں کو پوری پوری حفاظت کریں۔

Your Thoughts and Comments