Hazrat Ali RA Ki Hazrat Abu Bakr RA Se Muhabbat

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت

ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا،اس کی ظاہری شکل وصورت پرہیزگاروں جیسی تھی لیکن خباثت اور شرارت اس کی آنکھوں سے چمک رہی تھی۔اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا”اے امیرالمومنین!اس کی کیا وجہ ہے کہ مہاجرین وانصار ابوبکررضی اللہ عنہ کو آپ پر فوقیت دیتے ہیں جبکہ آپ مقام مرتبہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں۔“

Hazrat Ali RA Ki Hazrat Abu Bakr RA Se Muhabbat
مولانا شیراز اشرف خان:
ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا،اس کی ظاہری شکل وصورت پرہیزگاروں جیسی تھی لیکن خباثت اور شرارت اس کی آنکھوں سے چمک رہی تھی۔اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا”اے امیرالمومنین!اس کی کیا وجہ ہے کہ مہاجرین وانصار ابوبکررضی اللہ عنہ کو آپ پر فوقیت دیتے ہیں جبکہ آپ مقام مرتبہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شرارت سمجھ گئے اور فرمایا:
”تم مجھے قریشی لگتے ہو شاید قبیلہ عائذہ کے ہو۔“
اس نے ہاں میں جواب دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا”تمہارا خانہ خراب ہو!اگر تم ایک مسلمان کی پناہ میں نہ ہوتے تو میں تجھے ضرور قتل کردیتا۔یادرکھو!ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چار امور میں مجھ پر سبقت لے گئے،ایک تو امانت میں دوسرے ہجرت میں تیسرے غارثور میں حضورﷺ کے ساتھی تھے،چوتھے اسلام کی ترویج میں بھی مجھ سے آگے بڑھ گئے ۔


دریائے نیل کے نام خط:
مصر کی فتح کے بعد وہاں کے مقرر کردہ مسلمان گورنر کا ایک دن امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام خط آیا جو کہ مندرجہ ذیل الفاظ پر مشتمل تھا:
”حمدو صلوٰة کے بعد امیرالمومنین۔میں یہاں پر موجود ایک رسم آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔وہ رسم یہ ہے کہ ہر سال دریائے نیل ایک مقرر دن چلنارک جاتا ہے اور پھر مقامی لوگ ایک لڑکی کو سجا سنوار کر دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں جس کے بعد دریا دوبارہ چلنا شروع کردیتا ہے۔
پہلے کی طرح اس سال بھی دریا چلنا رک گیا ہے اور مقامی لوگ میرے پاس لڑکی کی قربانی کی اجازت لینے آئے ہیں اب آپ جو حکم فرمائیں گے اس پر عمل کیا جائے گا۔اوردریا کی صورتحال یہ ہے کہ وہ اس وقت بالکل خشک ہوگیا اور آپ یہ بات تو جانتے ہی ہیں مصر کی ساری زراعت اور معیشت کا دارومدار اسی دریائے نیل پر ہے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کو جب یہ خط ملا تو آپ نے حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو جوابی خط لکھا کہ”آپ نے بالکل ٹھیک کیا کہ ایک غلط رسم سے اہل مصر کو روکا۔
جہاں تک دریائے نیل کا تعلق ہے ۔تو اس میں ایک پرچہ بھیج رہا ہوں اس کو دریائے نیل میں ڈال دو۔“
جب خط عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپ نے وہ پرچہ کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا۔
”اللہ کے بندے!امیر المومنین عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام۔امابعد!اگر تم اپنی مرضی سے چلتے ہو تو مت چلو اور اگر تمہیں اللہ واحد قہارچلاتے ہیں تو ہم اللہ واحد قہار سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تمہیں چلادیں۔

چنانچہ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے وہ پرچہ دریائے نیل میں ڈالا تو دریائے نیل فوراََ چل پڑا اور ایسا چلا کے پھر آج تک نہیں رکا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ۔رسولﷺ نے فرمایا”کہ معراج کی رات میں جنت میں داخل ہوا۔میں نے وہاں ایک انتہائی خوبصورت محل دیکھا اور اس محل کے صحن میں عورت کھڑی دیکھی۔میں نے پوچھا”یہ محل کس کا ہے؟“بتایا گیا کہ یہ محل عمرابن خطاب کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
میں نے ارادہ کی کہ اس محل میں داخل ہو جاؤں مگر اے عمر!تیری غیرت یاد آگئی۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا”یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں،کیا میں نے آپ پر غیرت کھانی تھی۔“
حضرت علی کا عدل وانصاف:
حضرت عبداللہ ہاشمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو عورتیں مانگنے کیلئے آئیں۔ان میں سے ایک عربی عورت تھی اور دوسری اس کی آزاد کردہ باندی تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ان میں سے 36 من غلہ اور چالیس درہم سے دئیے جائے۔باندی اپنا حصہ لے کر چلی گئی۔لیکن عربی عورت نے کہا”اے امیرالمومنین! آپ نے جتنا ایک باندی کو دیا اتنا ہی مجھے بھی دیا حالانکہ میں عربی ہوں اور وہ ایک آزاد کردہ باندی ہے۔“
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا”میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہمیشہ غور دے دیکھا تو اس میں مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام کو اور اولادِاسحاق علیہ السلام پر کوئی فضیلت نظر نہیں آئی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صفات:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ایک دفعہ معاویہ نے ضرار بن خمرہ سے کہا،حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صفات بیان کریں تو انہوں نے ان الفاظ میں صفات کو بیان کیا:
”واللہ!وہ بڑے بلند ہمت اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کی بات قول فیصل او ر آپ کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہوتا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کے ہر پہلو سے علم کا چشمہ ابلتا تھا۔
آپ رضی اللہ عنہ کو دنیا اور اس کی زیب وزینت سے وحشت رہتی تھی،رات کی تاریکی وتنہائی آپ رضی اللہ عنہ کو بہت مانوس تھی۔
خدا قسم!آپ رضی اللہ عنہ بہت ہی رونے والے اور طویل وغوروفکر میں رہنے والے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ اپنی ہتھیلی کو پلٹ کر اپنے آپ سے مخاطب ہوتے اور اپنا محاسبہ کرتے۔آپ رضی اللہ عنہ کو موٹا لباس اور روکھاپھیکا کھانا پسند تھا۔

وہ ہم میں ہماری طرح رہتے اور جب ان سے کچھ پوچھتے تو آپ رضی اللہ عنہ بشاشت سے جواب دیتے۔جب آپ رضی اللہ عنہ کو بلاتے تو آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے لیکن باوجود ان کی شفقت کے ہم ان کے رعب کے مارے زیادہ گفتگو نہ کرتے تھے۔وہ دین داروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت رکھتے تھے۔
میں خدا کو گواہ بناکرکہتا ہوں کہ میں نے ان کو کبھی کبھی اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ رات ڈھل چکی ہے اور ستارے ڈوبنے لگے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ ابھی محراب میں سانپ کاٹے ہوئے شخص کی طرح بے چین ہیں اور کسی غم زدہ کی طرح رورہے ہیں۔
اور میں انہیں یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں۔اے دنیا تو کیا مجھے نشانہ بنانا چاہتی ہے اور میرے لیے سنورکر آتی ہے ۔دور رہو دور رہو۔میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا دے،میں نے بغیر رجعت کے تجھے تین طلاقیں دی۔تیری عمر مختصر اور تیرا عیش حقیر اور تیرا خطرہ بہت بھاری ہے۔اہ زاد سفر کم،سفر لمبا اور راستہ وحشت ناک ہے۔

Your Thoughts and Comments