Hazrat Aslam Habshi Razi Allah Anho Kon Thay

حضرت اسلم حبشی رضی اللہ عنہ کون تھے؟

انہوں نے حمیت اور غیرت کے جوش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا․․․․․ ”یہ لوگ تو اس وقت ہم سے ہمارا مال نہ لے سکے جب ہم کافر تھے اور اب تو ہم نور اسلام سے مالامال ہیں اور زیاد ہ قوی ہیں تو کیا اب ہم انہیں اپنا مال اپنے ہاتھ سے سونپ دیں ؟خد ا کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا اور ایسے کسی معاہدہ کو آپ نہ باندھیں ؟“

hazrat aslam Habshi razi Allah anho kon thay

اُمِ ایمان(غزالہ عزیز)
جیسے کہ نام سے ظاہر ہے یہ حبشہ کے رہنے والے تھے کچھ روایات میں ان کا نام اسلم راعی رضی اللہ عنہ بھی لکھا گیا ہے ۔وہ اس لیے کہ وہ راعی یعنی بکریاں چرانے والے تھے ۔
وہ خیبر کے ایک یہودی شخص عامر کے غلام تھے اور اس کی بکریاں چرانے کا کام ان کے سپرد تھا۔
جنگ احد کے بعد شوال 5ھ میں اسلامی ریاست کے خاتمے کے لیے یہودی تمام عرب قبائل کا متحدہ لشکر مدینہ پر چڑھا لائے۔

یہ جنگ مسلم طاقت اور اعصاب کا کڑا امتحان تھا۔اس سے پہلے اگر چہ بدر اور احد کی جنگیں اپنی جگہ انتہائی سخت تھیں ۔
لیکن امتحان کا وقت کم تھا اور جو کچھ ہواتھا ‘وہ صرف ایک دن میں ہی ہو گیا تھا ۔لیکن اب کی بار وقت بھی طویل تھا اور مقابلے میں صرف قریشی مکہ نہیں بلکہ بہت سے مشرکین عناصر تھے ۔


آپ نے اس جنگ سے یہودی قبیلہ بنی عطفان کو علیحدہ رکھنے کے لیے مدینے کی تہائی پیدا وار پر سمجھوتے کی کوشش کیں ‘بنو عطفان کو مالی مفاد زیادہ عزیز تھا۔


لیکن مسودہ پر دستخط سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ اور سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ جو اوس وخزرج کے سردار تھے ‘سے مشورہ لینا ضروری سمجھا۔
انہوں نے حمیت اور غیرت کے جوش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا․․․․․
”یہ لوگ تو اس وقت ہم سے ہمارا مال نہ لے سکے جب ہم کافر تھے اور اب تو ہم نور اسلام سے مالامال ہیں اور زیاد ہ قوی ہیں تو کیا اب ہم انہیں اپنا مال اپنے ہاتھ سے سونپ دیں ؟خد ا کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا اور ایسے کسی معاہدہ کو آپ نہ باندھیں ؟“
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ا ن کا یہ جواب سن کر بہت خوش ہوئے اور وہ تحریر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو دی کہ وہ اس کو خود چاک کردیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عطفان کے ساتھ مصالحتی معاہدہ کی جوراہ سوچی تھی وہ اس وجہ سے تھی کہ کہیں انصار مدینہ یہ محسوس نہ کریں کہ ان کے سر ناقابل برداشت مصیبت آپڑی ہے ۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ان کی طرف سے کسی ایسے اظہار سے پہلے ہی کوئی حل نکال لیا جائے ۔مگر اوس وخزرج کے سرداروں نے مضبوطی دکھائی اور یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہو گئے۔

جنگ خندق میں جب کفار کی متحدہ قوتوں نے محاصرہ کررکھا تھا اور یہی وہ وقت تھا کہ جس کے بارے میں قرآن میں اللہ نے فرمایا․․․․․”آنکھیں پتھر اگئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے ۔“
تب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے راتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ محاصرین ناکام ونا مراد واپس چلے جائیں گے ۔اور اللہ کے طوفانی لشکر عنقریب ان پر چھوڑ دیے جائیں گے ۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری اپنے اصحاب رضی اللہ عنہ کو بھی سنائی اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اظہار تشکر کے لیے بار بار ’شکر اشکرا ‘کے الفاظ دہرائے۔
6ھ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا اور یوں قریش سے مصالحتی معاہدہ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوایک بہت بڑے حریف سے فارغ کردیا۔
حدیبیہ کے معاہدے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ آئے اور چند روز قیام کے بعد 7ھ میں خیبر کو روانہ ہوئے ۔
خیبراب تک اسلامی ریاست کے لیے ایک نہایت فعال جنگی سازشوں کااڈہ چابت ہوا تھا۔
جنگ احزاب میں انہوں نے نہایت مکاری کے ساتھ مسلمانوں کے لیے بڑی تشویش ناک صورت حال پیدا کر دی تھی ۔
مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو قائم مقام بنا کر چودہ سوسپاہ کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے ۔
رجیع کے مقام پر پڑا ؤ ڈالا۔
خیبر والوں نے جب مسلم افواج کو اپنے سامنے دیکھا تو بھاگ کر اپنے قلعوں میں پناہ گزریں ہو گئے ۔سب سے پہلے ‘قلعہ مظاہ ‘پر حملہ کیا گیا ۔ان قلعوں کے اندر یہودیوں نے مزاحمت کے لیے طویل عرصے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی ۔
حضرت اسلم حبشی رضی اللہ عنہ اس حملے کے وقت قلعے کے باہر اپنے یہودی آقا کی بکریاں چرارہے تھے ۔غائبانہ طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سن رکھا تھا اور دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا تھا ۔

لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ بارگاہ بنوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا۔
”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں “حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
”اس چیز کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہ بناؤ اور مجھے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مانو۔“
حضرت اسلم رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فوراً تائید کی اور کلمہ شہادت ادا کرکے اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوگئے ۔
اب ان کو اس بات کی فکر تھی کہ ان بکریوں کا کیا کیا جائے جوان ک پاس امانت ہیں ۔لہٰذا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں ان بکریوں کو ان کے مالک کے پاس پہنچا آؤں ۔“
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔“تم ان بکریوں کو لشکر سے باہر لے جا کر ہانک دو اور تھوڑی سی کنکریاں ان کے پیچھے پھینک دو ۔اللہ تجھ کو اس امانت سے بری الذمہ کر دے گا۔

حضرت اسلم رضی اللہ عنہ نے اس ہدایت پر عمل کیا اور بکریاں واپس چلی گئیں ۔اب جب لڑائی شروع ہوئی تو حضرت اسلم رضی اللہ عنہ نے مسلمان فوجوں کے ساتھ مل کر جنگ کا ارادہ کیا۔
پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔
”اگر میں اس جنگ میں مارا جاؤں تو آخرت میں میرا کیا بنے گا؟“
حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت کی خوش خبری سنائی ۔

اب حضرت اسلم رضی اللہ عنہ نے میدان جنگ کا رخ کیا اور مردانہ وار شجاعت کے جو ہر دکھائے اور شہید ہوگئے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا۔
”ترجمعہ:”اس نے تھوڑا عمل کیا اور کثیر اجر پایا۔“
پھر ان کی لاش ایک خیمہ میں رکھ دی گئی ۔سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاش کو دیکھنے خیمہ میں گئے تو فوراً پلٹ آئے اور فرمایا۔

”اللہ نے بندئہ حبشی کو عزت واکرام کے ساتھ جنت میں پہنچا دیا ہے میں نے دیکھا کہ وہ حوریں اس کے سرہانے بیٹھی ہیں ۔
اللہ کی قدرت کہ ایک حبشی چرواہے کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ اگر چہ ایک وقت کی نماز بھی و ہ نہ پڑ ھ سکے ۔
لیکن اجراعظیم حاصل کیا اور جنت کے وارث بنا دیے گئے ۔اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے خوش․․․․

Your Thoughts and Comments