Hazrat Ayesha RA Kay Tohmat Se Bari Honay Par

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے تہمت سے بری ہونے پر

ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ جب لوگوں نے مجھے پر تہمت لگادی تو مجھے دیر تک اس کی خبر نہ ہوئی۔مجھے اُم مسطح کے بتانے سے اس کا پتہ چلا۔

Hazrat Ayesha RA Kay Tohmat Se Bari Honay Par
ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ جب لوگوں نے مجھے پر تہمت لگادی تو مجھے دیر تک اس کی خبر نہ ہوئی۔مجھے اُم مسطح کے بتانے سے اس کا پتہ چلا۔
اس دوران میں نبیﷺ لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کرتے رہے اور وہ مختلف مشورے دیتے تھے۔
ایک روز نبیﷺ خود ہمارے گھر تشریف لائے اور یہ فرمایہ:
”اگر تم اس تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بری کردے گا۔

لیکن اگر تجھ سے خطا ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفارکر،وہ تجھے معاف فرمادے گا۔“
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ اس سے پہلے کئی دن ایسے گزر چکے تھے اور میں روتی رہی تھی۔مجھے نیند بھی نہیں آتی تھی۔
نبیﷺ کی اس گفتگو کا نہ میرے والد نے کوئی جواب دیا اور نہ میری ماں نے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ ابھی اس مجلس سے الگ نہیں ہوئے تھے کہ آپﷺ پر وحی نازل ہوگئی۔جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپﷺ ہنس رہے تھے۔آپﷺ نے سب سے پہلے یہ فرمایا کہ
”اے عائشہ رضی اللہ عنہ!تجھے اللہ نے بری کردیاہے۔“

Your Thoughts and Comments