Hazrat Ayub Alaihis Salam Par Sonny Ki Makriyo Ki Barish

حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی مکڑیوں کی بارش

آپ علیہ السلام انہیں ہاتھ سے پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ارشاد فرمایا:اے ایوب علیہ السلام!کیا تو سیر نہیں ہوتا۔عرض کیا تیرے فضل اور تیری رحمت سے کون سیر ہوتا ہے۔

hazrat ayub alaihis salam par sonny ki Makriyo ki Barish
حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی مکڑیوں کی بارش:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ۔رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی تو ان پر سونے کی مکڑیوں کی بارش برسائی آپ علیہ السلام انہیں ہاتھ سے پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ارشاد فرمایا:اے ایوب علیہ السلام!کیا تو سیر نہیں ہوتا۔
عرض کیا تیرے فضل اور تیری رحمت سے کون سیر ہوتا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کو مال واولاد اور جسم کی آزمائش میں ڈالا گیا:
حضرت عبدالرحمن بن جبیر رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کے مال اولاد اور جسم میں آزمائش میں ڈالا گیا اور انہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا آپ علیہ السلام کی بیوی جاتی تو اتنا کماتی جتنا آپ علیہ السلام کو کھلاتی شیطان نے اس پر حسد کیا وہ مالدار لوگوں کے پاس آتا جو اس عورت پر صدقہ کرتے اور کہتا اس عورت کو بھگا دو جو تمہارے پاس آتی ہے کیونکہ یہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے اور اسے اپنے ہاتھ سے چھوتی ہے لوگ تمہارے کھانے سے اسی لیے بچتے ہیں کہ یہ عورت تمہارے پاس آتی ہے اب وہ آپ علیہ السلام کی بیوی کو قریب نہ آنے دیتے اور کہتے ہم سے دوررہ ہم تجھے کھانا دیں گے تو ہمارے قریب نہ آیا کر بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب علیہ السلام سے بات کی حضرت ایوب علیہ السلام نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کی جب آپ علیہ السلام کی بیوی آپ علیہ السلام کے پاس سے جاتی تو شیطان اس سے ملتا اور یہ ظاہر کرتا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو جو مصیبت پہنچی اس پر وہ بڑا دکھی ہے اور کہتا تیرے خاوند نے جھگڑا کیا اور انکار کیا مگر اللہ تعالیٰ نے انکار نہیں کیا اگر وہ ایک بات کہہ دیتا تو اس سے ہر تکلیف دورہوجاتی اس کا مال اور اولاد سب واپس آجاتے بیوی حضرت ایو ب علیہ السلام کے پاس آتی اور آپ علیہ السلام کو بتاتی حضرت ایوب علیہ اسے فرماتے تجھے اللہ تعالیٰ کا دشمن ملا ہے اور اس نے یہ بات تجھے سکھائی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے میری مرض سے شفا دی تو میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”تخث سے مراد کھجور کی شاخوں کا گٹھا ہے۔


پاؤں اقداس سے چو چشمے پھوٹ پڑے: امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ روایت کرتے ہیں:حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنا پاؤں زمین پر مارا جس کو حمامہ کہتے ہیں تو دو چشمے پھوٹ پڑتے ہیں آپ علیہ السلام ایک سے پانی پیتے اور دوسرے سے غسل کرتے ہیں۔
چالیس قدم چلنے کے بعد پاؤں مارنے سے دوسرا چشمہ ابلنا: امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ روایت کرتے ہیں:حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ۔
اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام پر جب مصیبت بہت سخت ہوگئی تودعا کی یا دعا کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی کی،تو ایک چشمہ ابلا آپ علیہ السلام نے اس سے غسل کیا تو جو تکلیف تھی وہ دور ہوگئی پھر آپ علیہ السلام چالیس قدم چلے پھر پاؤں مارا تو ایک اور چشمہ ابل پڑا تو آپ علیہ السلام نے اسی سے پیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کو صبر کرنے پر وحی کا نزول: حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ،حضرت ایوب علیہ السلام کو پکارا گیا اے ایوب علیہ السلام اگر ہر بال کی جگہ سے تو نے صبر کو نہ انڈیلا تو تو نے صبر نہیں کیا۔

قرآن مجید میں حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر:
قرآن مجید میں ہے: ”اور ہمارے(خاص) بندے ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب سے ندا کی کہ بے شک مجھے شیطان نے سخت اذیت اور درد پہنچایا ہے(ہم نے انہیں حکم دیا)اپنا پاؤں زمین پر مارو یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا اور ہم نے انہیں ان کے گھر والے عطا فرمادئیے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کی نصیحت کے لئے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ”اور ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب حم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے سو ہم نے ان کی دعا قبول کی پس ان کو جو تکلیف تھی اس کو ہم نے دور کردیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دگنے اہل و عیال عطا فرمائے اور (یہ)عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے“۔

Your Thoughts and Comments