Hazrat Farid Uddin Masood Ganj Shakar RA

حضرت فریدالدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ

حضور بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد پاک ہیں ۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے دادا حضرت شیخ شہباب ادلدین فرخ شاہ کا بلی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔

Hazrat Farid Uddin Masood Ganj Shakar RA
خاندان عالیہ:
حضور بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد پاک ہیں ۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے دادا حضرت شیخ شہباب ادلدین فرخ شاہ کا بلی رحمتہ اللہ علیہ کابل کے بادشاہ تھے ۔ آپ کی سلطنت کافی وسیع تھی لیکن غزنوی اقتدار کی وجہ سے آپ کی حکومت صرف کابل تک محدود ہوکر رہ گئی۔
بعدازاں گردش زمانہ کے زیر اثر حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے جدامجد حضرت شیخ محمد احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ خلافت بعڈادکے زوال کے بعد کردوں اور ترکوں کی پیدا کردہ طوائف الملوکی میں شہید ہوگئے ۔چنانچہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دادا حضرت شیخ محمد شعیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے اہل وعیال کو ہمراہ لیا اور لاہور تشریف لائے ۔

پھر عازم قصور ہوئے ۔بادشاہ وقت نے بصد عزت واحترام حضرت شیخ محمد شعیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو ملتان کے قریب قصبہ کھوتووال کی جاگیر کی اور اس علاقے مقررکیا ۔ حضرت شیخ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے تین فرزند حضرت خواجہ جمال الدین سلیمان رحمتہ اللہ علیہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے والد بزرگوار ہیں ۔حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بڑے عابد،عالم اور عادل تھے۔
آپ کی شادی حضرت مولانہ وجیہہ الدین خجندی عباسی رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی حضرت بی بی مریم المعروف قرسم خاتون رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی ۔حضرت خواجہ کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے ازازالدین محمود ، فریدالدین مسعود اور نجیب الدین متوکل سطا فرمائے۔
حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے تینوں خاندانی فضائل وخصائل کے حامل عابد، زاہد اور صاحب عرفان تھے۔
حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ صاحبہ بھی انتہائی عابدہ اور عارفہ کامل خاتون تھیں۔اس ضمن میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور آپ کے گھر میں داخل ہوا حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ اس وقت عبادت میں مصروف تھیں ۔قدرت خداوندی سے چور اندھا ہوگیا۔باہر نہ نکل سکا اور گھبراکر بلند آواز سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔
چوری کرنے سے توبہ کی۔بینائی کے لئے التجاکی۔آپ کی والدہ محترمہ کو رحم آگیا اور آپ نے دعا فرمائی ۔چور کی آنکھیں روشن ہوگئیں اور وہ مکان سے چلا گیا۔صبح سویرے وہی چور سر پر دودھ کامٹکا اٹھائے بمعہ اہل وعیال آپ کی والدہ محترمہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر دولت اسلام سے مالا مال ہوا۔اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا گیا اور اس نے اپنی بقیہ عمر اس خاندان کی خدمت میں گزاردی ۔

شجرہ نسب:
سید السالکین شیخ الشیوخ عالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر زہد الانبیاء رحمتہ اللہ علیہ صحیح النسب فاروقی ہیں ۔آپ کا شجرہ نسب حسب ذیل ہے۔
زہدالانبیاء حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ بن، حضرت شیخ جمال الدین سلیمان بن، حضرت شیخ محمد شعیب بن ،حضرت شیخ محمد احمدبن، حضرت شیخ محمد یوسف بن، حضرت شیخ شہاب الدین فرخ شاہ کوبلی بن ، حضرت شیخ نصیر الدین محمود بن ، حضرت شیخ سلیمانی ثانی بن ، حضرت شیخ مسعود بن ، حضرت شیخ عبداللہ واعظالاصغربن ، حضرت شیخ ابوالفتح واعظ الاکبربن ، حضرت شیخ اسحاق بن ،حضرت شیخ ابراہیم بن ،حضرت شیخ ادھم بن ، حضرت شیخ سلیمان اول بن ،حضرت شیخ ناصربن،حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ، امیرالمومین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

ولادت وابتدائی تربیت:
حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت مسعود29شعبان المعظم 569کو قصبہ کھوتوال میں ہوئی ۔آپ کا اسم گرامی مسعود رکھا گیا۔فرید الدین آپ کالقب ہے۔عقیدت مندوں کی غالب اکثریت آپ کو بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے اسم گرامی سے یاد کرتی ہے ۔ سیدالسالکین ، گنج شکر ، شیخ الشیوخ عالم، سلطان العارفین ، غیاث ہند ، شیخ المساجدین ، سلطان الاتقیاء اور زہدالانبیاء بھی آپ کے القاب ہیں ۔
آپ کے والد محترمہ کی ولادت باسعادت کے چند سال بعد وصال فرماگئے ۔حضرت بابا صاحب پیدائشی ولی تھے۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنی شب بیدار اور عارفہ کامل والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو بچپن میں شیرینی سے کافی شغف تھا ۔آپ کے اسی شغف کے پیش نظر آپ کی والدہ ماجدہ روزانہ فجر کے وقت آپ کے مصلے کے نیچے شیرینی یا شکر کی پڑیا رکھ دیا کرتی تھی اور آپ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ شکر نوش فرمالیا کرتے تھے ۔
ایک روز آپ کی والدہ ماجدہ کوبسبب مشغولیت شکر رکھنی یاد نہ رہی اور جب آپ شکر دینے کے لئے تشریف لائیں تو دیکھا کہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ شکر نوش فرمارہے ہیں ۔ آپ فوراََ سمجھ گئیں کہ آج اللہ تعالیٰ نے خزانہ غیب سے یہ شکر عطا فرمائی ہے ۔اسی وقت بارگاہ الٰہی میں اپنے پیارے بیٹے کے لئے دعافرمائی اور ارشاد فرمایا تو (مسعود) شکر کی طرح شریں ہوگا۔
یہ آپ کی والدہ ماجدہ کی اعلیٰ تربیت اور دعاؤں کا ثمر ہے کہ آپ کو وہ شان اور عظمت عطا ہوئی کہ آپ اقلیم روحانیت کے شہنشاہ بنے۔
سیرت عالیہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ:
حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تمام زندگی قرآن اور سنت اللہ کی پیروی میں گذار دی۔ تمام عمر آقائے نامدا ﷺ کی حیات اقدس کو مشعل راہ بنایا۔
طبیعت میں سادگی بے حد اور بے حدانکسار تھا۔ساری عمر اختیاری فقروفاقہ میں گذاری ۔ دنیا کی تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجود کریر اور پیلو کے پھل کھا کر گذرا اوقات کی ۔دل انتہائی نرم اور سوزو گذازکا مرقع تھا۔تمام عمر عبادت وریاضت اور مجاہدات میں بسر ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو زُہد الانبیاء کا لقب دیا گیا ہے ۔
حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ علوم باطینی کے ساتھ ساتھ علوم ظاہری میں بھی یکتائے روزگار تھے۔
آپ کا حلقہ فکروذکر بڑے بڑے عالموں ، فاضلوں اور درویشوں کے لئے ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔تفسیر ، حدیث علم کلام اور تجدید قرآن کے بہت بڑے ماہرتھے ۔دقیق سے دقیق مسئلے چند ساعتوں میں حل فرمادیا کرتے تھے۔آپ کے لنگر خانے کا دروازہ ہمہ وقت مساکین ومحتاج اور دور دراز سے آنے والے تمام عام وخاص کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ جوکچھ آتا فوراََ درویشوں اور غریبوں میں تقسیم فرمادیتے ۔
پاکیزگی قلب کا یہ عالم تھا کہ آپ کا معدہ خالص رزق حلال کے سوا کچھ بھی نہ برداشت کر سکتاتھا۔ایک بار حضرت محبوب الٰہی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک آدمی نے نمک لے کر ڈیلے پکائے ۔ یہ ڈیلے جب آپ کی خدمت میں پیش ہوئے تو آپ نے لقمہ منہ سے لگاتے ہی ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا ۔
ایک بار ارشاد فرمایا کہ یکم محرم سے دس محرم تک جو شخص ستربار یہ آیت پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی تمام مشکلات دورفرمائے گا نیزاس کو بخش دے گا اور اُس کا شمار اولیا ئے کرام کے زمرہ میں ہوگا۔

ازواج کرام واولاد:
بیویاں:
حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تین شادیاں کیں۔پہلی شادی آپ نے حضرت بی بی خاتون بیگم رحمتہ اللہ علیہا دختر فرخندہ اختر سلطان غیاث الدین بلبن سے کی ۔یہ شادی اس وقت ہوئی جب سلطان غیاث الدین بلبن الغ خان کے نام سے سلطان ناصرالدین محمود کا نائب السلطنت تھا۔
دوسری شادی آپ نے حضرت بی بی مجیب النساء رحمتہ علیہا خواہر محترم حضرت شیخ ذکریا سندھی رحمتہ اللہ علیہ اور تیسری شادی حضرت غوث الاعظم جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی بیوہ پوتی حضرت بی بی اُم کلثوم رحمتہ اللہ علیہا سے کی۔ آپ کے صاحبزادوں کی تعداد پانچ اور صاحبزادیوں کی تعداد تین ہے ۔اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں ۔
صاحبزادے:
(1) حضرت شیخ شہاب الدین المعروف گنج عالم رحمتہ اللہ علیہ
( 2) حضرت خواجہ بدرالدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ
(3) حضرت خواجہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ
(4) حضرت خواجہ محمد یعقوب رحمتہ اللہ علیہ
(5) حضرت خواجہ نصرالدین اللہ رحمتہ اللہ علیہ
صاحبزادیاں:
(1) حضرت بی بی مستورہ رحمتہ اللہ علیہا
(2) حضرت بی بی شریفہ رحمتہ اللہ علیہا
(3) حضرت بی بی فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا
وصال:
ایک دن وقت بھی آپہنچا جب حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی حقیقی منزل پر پہنچنے کے لئے بے قرار ہوئے اور اسی تقریب میں قدرت نے بیماری کابہانہ بنادیا۔
وسال سے چند روز قبل آپ کے مرید شاعر حضرت شمس دبیر نے آپ کو نظامی کی مثنوی کے وہ اشعار پڑھ کر سنائے جن میں دنیائے دوں کی بے ثباتی انسان کی اس میں چندروز اقامت اور دل نہ لگانے کا حال مئوثر انداز میں بنان کیا گیا ہے۔ یہ شعر سن کر آپ پر عالم استغراق طاری ہوگیا مگر دوران استغراق نماز باقاعدگی سے ادا فرماتے رہے ۔ محرم الحرام کا چاند نظر آنے پر غم شہادت امام الشہد اسیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام تازہ ہوگیا ور شہیدائے کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی یاد میں بے اختیار روتے رہے ۔
اسی حال میں 5محرم الحرم 664کو بے خودی اور زیادہ گہری ہوگئی۔آپ نے نماز عشاء ادا کیا اور بے خبر ہوگئے۔ کچھ دیر بعد عالمِ ہوش میں آئے تو دریافت فرمایا کہ کیا میں نے عشاء کی نماز ادا کر لی ہے عرض کیا جی ہاں ! لیکن آپ نے دوبارہ نماز ادا کی ۔اس طرح تین مرتبہ دریافت فرمایا اور تینوں بار نماز اداکی ۔ تیسری نماز کے آخری سجدے میں گئے تو یاحی یاقیوم کہہ کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئے اس وقت غیب سے یوصل الحبیب الی الحبیب ویوصل العذیز الی العذیز کی آواز آئی ۔

وقت وصال سے قبل حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بار بار اپنے بیٹے حضرت خواجہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ کویاد فرمایا اور حاضرین کو اس کی رائے پر چلنے کی ہدایت فرمائی۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے یہ صاحبزادے آپ کے وصال کے وقت اجودھن (پاکپتن شریف) میں موجود نہ تھے۔ وصال کے وقت آپ کی عمر پچانوے سال تھی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت مولانا بدالدین اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے پڑھائی۔

بہشتی دروازہ اہل طریقت کی نظر میں
بہشتی دروازے کے متعلق اکثر احباب اور علمائے کرام تذبذب اور مختلف شکوک میں مبتلا دیکھے ہیں ۔ان کی تسکین علمیت اور تشفی قلب کے لئے کچھ بزرگان دین کے ملفوظات پیش خدمت ہیں ۔
شہباز طریقت حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضور یہ بہشتی دروازہ ہے کہ آپ بھی ہمیشہ اس دروازے سے گزرتے ہیں ، اس کا کیا فائدہ ہے ؟ حضور خواجہ صاحب نے کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا کہ جس وقت جنتی دروازہ کھلے اس وقت میرے پاس آنا ۔
جب سجادہ نشین وقت دربار عالیہ نے دروازہ کھولا اور لوگ دروازے سے گزرنے لگے تو عالم مذکور خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو وعدہ یاد دلایا ۔حضرت خواجہ صاحب نے اپنی ٹوپی سرمبارک اُتار کر مولوی صاحب کے سر پر رکھ دی اورفرمایا کہ اب جا کر بہشتی دروازہ گزرنے والوں کو دیکھ۔مولوی صاحب نے بچشم ظاہر سے دیکھا کہ بہت سے انسان پاکیزہ اور نوارنی اشکال کے قطاروں میں کھڑے ہیں اور ان کے درمیان کچھ انسان حیوانی اشکال ( مثلاََ بندر، کُتا ،ریچھ وغیر) میں بھی کھڑے ہیں جب یہ حیوانی اشکال والے باب جنت سے گزر کر نوری دروازے سے باہر آتے ہیں تو ان کے چہرے نہایت پاکیزہ اور نورانی ہوتے ہیں ۔
مولوی صاحب نے تمام ماجرا حضرت خواجہ صاحب سے عرض کیا تو آ پ نے فرمایا اس دروازے سے گزرنے کا اول فائدہ یہ کہ انسان کاباطن پاک ہوجاتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آخرت میں مغفرت ہوگی۔چونکہ صدقہ سرکار دوعالم ﷺاس وقت کے گنہگاروں کا چہرہ سابق امتوں کی طرح مسخ نہیں ہوتا ، اس لئے گنہگار افراد کا باطن مسخ اور تبدیل شدہ نظر آتا ہے اور یہ مسخ شدہ باطنی چہرے حضور گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے صدقے میں اپنی نورانی شکل میں واپس ہوجاتے ہیں۔
مولوی صاحب نے فوری طور پر معافی مانگی اور توبہ تائب ہو کر حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کے مرید ہوگئے اور تازیست نوری دروازہ کے سامنے اسی موضوع پر خطاب کرتے رہے ۔اسی ضمن میں حضرت خواجہ محکم الدین سیانی ، اویسی قادری رحمتہ اللہ علیہ سے یہی سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ فقیر کا اعتقاد تو اس سے زیادہ ہے میں تویہ کہتا ہوں کہ جواس ٹیلے سے گزرجائے وہ بہشتی ہے ۔

اس سلسلے میں حضرت پیر مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات بحوالہ کتاب مہر نمبر صفحہ نمبر 430پیش خدمت ہیں ۔
حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے عرس پر حاضر ہوتے تھے ،قصور اور ریاست بہاولپور کے غیرمقلد علما متواتر کئی سال وہاں پہنچ کر آپ سے سوال کرتے رہے کہ کیا آپ عالم ہو کر اس بات کودرست مانتے ہیں کہ جو شخص باباصاحب رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ کے بہشتی دروازے سے گزر جائے وہ جنت کا سزاوار ہوجاتا ہے ؟حضرت جواب میں ہر سال نیا ستدلال پیش فرماتے ۔

مولوی غلام قادر چکوکہ تحصیل منچن آباد نے یہی سوال کیا کہ فرمایا کیا یہ حدیث صحیح نہیں کہ مومن کی قبر روضہ ریاض الجنت ؟ اس نے کہا صحیح ہے ۔فرمایاجب لفظ جنت کا اطلاق مومن کی قبر پر صحیح ٹھہرا تو اس کے دروازے کو بہشتی دروازہ کہنے پر کیا اعتراض ہے ؟مولوی صاحب نے کہا اس لفظ کا جوازتودرست ہوا۔مگر یہ فرمائے کہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مقبرہ کے اس ایک دروازے میں کیا خصوصیت ہے کہ اسے بہشتی دروازہ کہاجائے ۔

آپ نے فرمایا کہ حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیا محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ میں نے بچشم سرعالم ظاہر میں حضور سرورکائنات ﷺ کوبحسم اطہر بمعہ چہار یار کبار 6۔7محرم کی درمیانی رات کو اس دروازے سے گزر کر مقبرہ کے اندر تشریف لے جاتے دیکھا ہے اور حضور کا یہ ارشاد سنا ہے کہ من دخل ھذالا لباب فقد امن ( جو اس دروازے میں داخل ہوا وہ امن میں آگیا)مامون ہواکہ مشائخ عظام کا بھی اس پر اتفاق رہا ہے ۔

اس کے بعد مولوی صاحب نے اعتراض کیا کہ زائرین فرید فرید کیوں پکارتے ہیں ؟ اللہ اللہ کیوں نہیں کہتے؟ حضرت نے فرمایا کہ عرس کے موقعہ پر زائرین کاپورا نعرہ ہوتا ہے ۔اللہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید
وہ لفظ فرید کو مسلسل تین بار کہتے ہیں اور اس چیز کے جواز میں قرآن مجید کی ایک آیت موجود ہے مولوی صاحب نے چونک کر کہا، وہ کون سی آیت ہے؟آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
”فاذکرونی اذکرکم واشکرولی ولاتکفرون“
پس تم مجھے یادکرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میراشکر ادا کرو اور کفرنہ کرو۔
اور فرمایا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم میراز کر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آخری دم تک اللہ کا ذکر کیا۔اب اللہ اپنی مخلوق کی زبان سے اپنے پیارے بندے فرید کاذکر کر رہاہے۔
آج سات سوسال سے اذکرکم کا وعدہ پورا ہورہاہے اور قیامت رک انشاء اللہ یونہی ہوتا رہے گا کہ ہرسال ہزار در ہزار مخلوق یہاں جمع ہو کر فرید فرید کے نعرے لگاتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ جسم اور مکان سے پاک ہے اور یہ اس کے ذکر کرنے کی ایک صورت ہے۔
قصور کے ایک مولوی صاحب سے بھی قبلہ عالم رحمتہ اللہ علیہ نے یہی فرمایا تھا کہ میں تو یہاں (یعنی پاکپتن شریف میں) فاذکرونی اذکرکم کانقشہ دیکھنے آتا ہوں۔

ایک روایت میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور حضرت باوافضل دین صاحب رحمتہ اللہ علیہ کلیام شریف والے سلسلہ صابر یہ چشتیہ کے مشہور مجذوب بزرگ پاکپتن شریف کے عرس پر اکٹھے گئے تھے ۔جب بہشتی دورازے کا کھلنے کا وقت قریب آیا تو باوا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کہا پیر صاحب دیکھنا جب بہشتی دروازہ کھلے گا تو حضرت گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ پر جوکلس ہے وہ گھوم جائے گا۔
چنانچہ میں نے دیکھا تو واقع کلس گھوم گیا۔حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے دروازہ کھلنے سے پہلے ایک مجمع کے سامنے یہ راز ظاہر فرمایا۔چنانچہ بے شمار لوگوں نے جن میں نواب محمد حیات صاحب قریشی اور حضرت شیخ الجامعہ صاحب بھی شامل تھے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس قول کی تصدیق کی۔ روز حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے کلس کے گھوم جانے کی حکمت یہ بیان فرمائی تھی کہ اس وقت حضور سرور انبیا  اور صحاب کبار اور مشائخ عظام تشریف لاتے ہیں اور یہ سلامی ہے۔

بس یا فرید رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی جنت ہمیں ملی
اللہ بھی ڈھونڈتا ہے بہانہ فریدرحمتہ اللہ علیہ کا
بہشتی دروازے کی وجہ تسمیہ
بہشتی دروازے کہ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد گرامی قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کا کی اوشی رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی فاتحہ کے لئے شرینی خریدنے کے لئے دہلی کے ایک بازار میں تشریف لے گئے ۔
حلوائی کی دکان پر پہنچے تو شوروغل کے ساتھ مجمع کثیر آتا ہوا دکھائی دیا۔آپ نے حلوائی سے دریافت فرمایاتو معلوم ہوا کہ حضرت خواجہ نجم الدین صغریٰ رحمتہ اللہ علیہ پر حال وجدطارہے اور انہوں نے فرمان جاری کیا ہے کہ آج جوان کی صورت دیکھ لے گا،وہ بہشتی ہوگا اور اس پر آتش دوزخ حرام ہوگی۔لوگ پہلے تو خود ان کے پاس جا کر زیارت کرتے رہے پھر انہوں نے خود حکم دیا کہ مجھے ڈولی میں اٹھا کر شہر کے ہر کوچے اور گلی میں پھراؤ تا کہ کوئی معذور مستفید ہونے سے رہ نہ جائے۔
ان کی سواری آرہی ہے ۔حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ بات سنتے ہی حلوائی کی دوکان میں چھپ گئے ۔ جب وہ جلوس وہاں سے گزرگیا تب آپ شیرینی خرید کر مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چونکہ آپ کوکچھ دیر ہوگئی تھی اس لئے حضرت خواجہ قطب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تاخیر کی وجہ دریافت فرمائی۔آپ نے سارا واقعہ من وعن عرض کیا۔جس کوسن کرحضرت خواجہ قطب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کیاتمہیں کوئی شک ہوا تھا کہ حلوائی کی دکان کے اندر چھپ گئے۔

آپ نے عرض کیا کہ یہ فقیر تو آپ کو دیکھنے والاہے کسی اور کی زیارت کی اس کوکیا ضرورت ہے۔ہ سن کر حضرت خواجہ قطب الاقاب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تھوڑی دیر مراقبہ کرنے کے بعد بڑے جوش سے فرمایا کہ فرید بابا! خواجہ نجم الدین صغریٰ پر تو کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد آج یہ حال کھلا کہ جوان کی شکل دیکھ لے گا بہشتی ہوگا، تیرے مرقد پائے انداز ایک ایسا دروازہ ہوگا کہ تاقیامت جواس سے گزر جائے گا اس پر آتش دوزخ حرام ہوگی ۔
سبحان اللہ۔
جب روضہ پاک کی تعمیر مکمل ہوگئی تو حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ نے بچشم باطن ملا حظہ کیا کہ جناب سرور کونین سرتاج الانبیاء سرکاردوجہان  بمعہ اصحاب کبار رضی اللہ عنہ وآل اطہار رضی اللہ عنہ اولیائے کرام رحمتہ اللہ علیہ روضہ پاک کے شرقی دروازے سے باہر نکل کر روضہ پاک کے متصل جنوب مشرقی گوشہ میں جہاں اب حجرہ قدم مبارک ہے(آقائے نامدارسرورعالم  کے قدمبارک کے نشانات کو بے ادبی سے بچانے کے لئے چھوٹا ساحجرہ تعمیر کردیا گیا ،جوآج کل حجرہ قدم مبارک کے نام شے مشہور ہے اور اب بھی موجود ہے) تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اے نظام تو بلند آواز سے کہہ دے اور بشارت مغفرت سب جن وانس کو سنادے کہ جو شخص اس دروازے فرید فرد سے گزرجائے گا امان پائے گا اور فرمایا۔
من دخل ھذہ الباب امن (داخل ہوا جو اس دروازے سے اس نے امان پائی)
بموجب ارشاد سرور کائنات حضرت محبوب الٰہی صاحب نے ایسا ہی کیا اور مینار مسجد پر چڑھ کرتین دفعہ دستک دی (جیسا کہ آپ کی پیروی میں بہشتی دروازہ کھلنے کے وقت اب بھی تالیاں بجائی جاتی ہیں) اور بلند آواز سے حکم سرورکائنات  سنادیا۔ارشاد عالیہ سنانے کی دیر تھی کہ موجود اولیائے کرام اور دیگر لوگ فرید فرید کے نعرے لگاتے اور دوڑتے ہوئے بہشتی دروازے سے داخل ہو کر نوری دروازے سے باہر نکلنے لگے۔
اس کے مطابق تب سے لوگ گزرتے وقت سلطان الشعراء حضرت امیر خسرو دہلوی (خلیفہ حضرت محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ) کا نعرہ اللہ محمد چاریار حاجی قطب فرید شاہ گنج شکر فرید فرید ،دہراتے ہوئے بہشتی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
چنانچہ فرمان سرور دوعالم وحضرت خواجہ قطب صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہر سال بہشتی دروازہ صرف دو شب کھلتا ہے۔تقریباََ سواسات سوال سے یہ عمل جاری ہے۔
لاکھوں افراد امت محمد  فیضیاب ہورہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ تاقیامت تک ہوتے رہیں گے ۔
پچھلے کئی سالوں سے بہشتی دروازہ ‘ زیرنگرانی محکمہ اوقاف “ مزید راتوں کے لئے کھلا رہتا ہے۔5 محرم الحرام کی شب سے لے کردس محرم الحرام کی صبح تک لاکھوں افراد اس دروازے سے گزرکر دل ونگاہ کو تجلیات الٰہی سے منور کرتے ہیں۔
فقیر کا ایمان ہے کہ بہشتی دروازے سے صدق دل کے ساتھ گزرنے والا ہر شخص جنتی ہے ۔

Your Thoughts and Comments