Hazrat Ikrima RA Kay Islam Lanay Par

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر

فتح مکہ کے موقع پر جب کفار قریش کی کمر ٹوٹ گئی تو سب لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ۔ لیکن میں چند ایسے کٹر اور متعصب تھے جو اسلام نہیں لائے بلکہ مکے سے دور بھاگ گئے ۔

Hazrat Ikrima RA Kay Islam Lanay Par
فتح مکہ کے موقع پر جب کفار قریش کی کمر ٹوٹ گئی تو سب لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ۔ لیکن میں چند ایسے کٹر اور متعصب تھے جو اسلام نہیں لائے بلکہ مکے سے دور بھاگ گئے ۔
انہی بھاگنے والوں میں سے ایک عکرمہ بھی تھے جنہوں نے یمن کی طرف بھاگنے کا ارادہ کیا۔ ان کی بیوی مسلمان ہوچکی تھیں اور وہ نبی ﷺ سے اپنے شوہر کی جان کی امان لے کر اس کی تلاش میں نکلیں ۔

جب عکرمہ یمن کے لیے کشتی پر سوار ہوئے تو سلامتی مانگنے کے لیے لات اور عزیٰ کا نعرہ لگایا ۔
اس کے ساتھیوں نے کہا :
یہاں لات اور عزیٰ کام نہیں دیتے ۔ یہاں صرف ایک اللہ کو پکارنا چاہیے ۔
عکرمہ پر ساتھیوں کی اس بات کا بڑا اثر ہوا اور وہ کہنے لگا کہ اگر سمندر میں ایک ہی اللہ ہے تو خشکی پر بھی وہی ایک ہے ۔

پھر میں کیوں نہ محمد ﷺ کے پاس لوٹ جاؤں۔


اس موقع پر عکرمہ کی بیوی بھی وہاں پہنچ گئی ۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا : میں ایسے آدمی کے پاس سے آئی ہوں جو سب سے نیک ، شریف اور بہتر ہے ۔ میں اس سے تمہاری جان کی امان لے کر آئی ہوں ۔
بیوی کی یہ بات سن کر عکرمہ مکے واپس لوٹ آئے ۔ نبی ﷺ ابھی مکے ہی میں تھے ۔ عکرمہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ۔ ترجمعہ :” (اے مہاجر سوار تجھے خوش آمدید )“ کہہ کر استقبال کیا ۔

عکرمہ نے عرض کیا :
”کیا آپ ﷺ نے مجھے امان دی ہے “۔
آپ ﷺ نے فرمایا ؛
ہاں تجھے امان حاصل ہے ۔
عکرمہ نے یہ شفقت اور رحمددلی دیکھی تو ندامت سے اپنا سر جھکا دیااور کہنے لگا :
ترجمعہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ (صحیح بخاری )

Your Thoughts and Comments