Hazrat Khadijah Tul Kubra RA

حضرت سیدّہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپﷺ کے ساتھ نکاح حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ نے پڑھایا، آزمائش کی ہرگھڑی میں بڑے صبرواستقامت کے ساتھ آپﷺ کا ساتھ دیا

Hazrat Khadijah tul Kubra RA
مولانا مجیب الرحمن انقلابی:
ام المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ کے بارے میں حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ!جب لوگوں نے مجھ پر ایمان لانے سے انکار کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں،جب لوگوں نے مجھے معاش سے محروم کردیا تو انھوں نے مال سے میری مدد کی،جب خدا نے دوسری سے بیویوں سے مجھے اولاد سے محروم رکھا تو ان سے مجھے اولاد عطا فرمائی۔
حضرت سیدّنا خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو عورتوں میں سب سے پہلے حضورﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی پہلی بیوی ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ام المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ حسن سیرت اعلیٰ اخلاق بلند کردار،عزت وعصمت اور شرافت و مرتبہ کی وجہ سے مکہ مکرمہ اور اردگرد کے علاقوں میں ”طاہرہ“کے خوبصورت اور پاکیزہ لقب سے مشہور تھیں۔


مقررہ تاریخ پر آپﷺ کے چچا ابو طالب نے حضرت خدیجہ کے ساتھ ملت ابراہیمی کے مطابق نکاح پڑھایا۔

نکاح کے وقت حضورﷺ کی عمر مبارک 25 برس تھی اور حضرت خدیجة الکبریٰ کی عمر 40 بر س تھی۔ابن سعد نے مہر کی رقم پانچ سودرہم بتائی ہے جبکہ ابن ہشام نے بیس اونٹنیوں کا ذکر کیا ہے۔دعوت ولیمہ میں گوشت اور روٹی کا انتظام تھا،شادی کے دواڑھائی سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اولاد جیسی نعمت سے نوازتے ہوئے فرزند سعید عطا کیا،جس کا نام قاسم رکھا گیا۔
جس کی نسبت کی وجہ سے حضور ﷺ ابوالقاسم کہلانے لگے اور ام المومنین حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی آپﷺ کو ابو القاسم کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھیں․․․․جب قاسم تھوڑا سا چلنے لگے اچانک بیمار ہو کر وفات پاگئے ․․․․․قاسم رضی اللہ عنہ کی وفات کے اڑھائی سال بعد اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہ جیسی سعادت مند بیٹی سے نوازا ،اس کے بعد یکے بعد دیگر حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا،حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا،حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا آپﷺ کے ہاں پیدا ہوئیں۔
جب حضور ﷺ کی عمر مبارک39 برس سے زائد ہوگی تو حضور ﷺ مکہ مکرمہ سے اڑھائی میل دور غار حرا میں عبادت کے لئے تشریف لے جاتے․․․․ابن ہشام کی ایک روایت کے مطابق ام المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ بھی کبھی کبھی آپﷺ کے ساتھ وہاں عبادت کے لئے جایا کرتی تھیں۔
غار حرا میں آپﷺ پر وحی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے او ر آپﷺ نبوت ورسالت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوجاتے ہیں اور دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع فرماتے ہیں دوسری طرف کفار نے آپﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام کو مختلف انداز میں ستانے اور تکلیفیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔
شعب ابی طالب میں تین سال کا عرصہ مسلمانوں نے انتہائی دکھ،تکلیفوں،اذیتوں اور مصیبتوں میں گزارا۔ان قیامت خیز لمحات اور آزمائش کی گھڑیوں میں ام المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بھی بڑے صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا اور اس دوران ہر ممکن حضورﷺ کی خدمت اور آرام کا خیال کیا،جبکہ اپناتمام مال ودولت پہلے ہی اللہ کے راستے میں قربان کر چکی تھیں۔
شعب ابی طالب میں ہی آپ کی صحت تیزی سے گرنے لگی،ناقص خوراک اور تفکرات کے ہجوم کی وجہ سے آپ کی طبیعت خراب رہنے لگی۔حضورﷺ کے چچاابو طالب کی وفات کے چند روز بعد ہی آپﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون اور رفیقہ حیات سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا10 رمضان المبارک کو 65 برس کی عمر میں وفات پاگئیں۔حضورﷺ نے خود قبر میں اتر کر ام المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو دفن فرمایا۔آپﷺ ہمیشہ ان کو یاد کر کے آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔آپﷺ اپنے چچا ابو طالب کی وفات کہ بعد رفیقہ حیات حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے غمگین رہنے لگے اور صدمے میں آپﷺ نے اس سال کو عام الحزن(غم کا سال)قراردیا․․․․

Your Thoughts and Comments