Hazrat Moose Alaihi Salam Aur Charwaha

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور چرواہا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک چروا ہے کی آواز سنی وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا ”اے میرے جان سے پیارے خدا! تو کہاں ہے؟

بدھ اکتوبر

hazrat moose alaihi salam aur charwaha

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک چروا ہے کی آواز سنی وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا ”اے میرے جان سے پیارے خدا! تو کہاں ہے؟میرے پاس آمیں تیرے سر میں کنگھی کروں جوئیں چنوں ،تیرا لباس میلا ہو گیا ہے تو اسے دھوؤں نئے نئے کپڑے سی کر تجھے پہناؤں تیرے موزے پھٹ گئے ہوں تو وہ بھی سیوں تجھے تازہ تازہ دودھ پلا یا کروں اور اگر تو بیمار ہو جائے تو تیرے رشتے داروں سے بڑھ چڑھ کر تیری تیمار داری کروں ،تجھے دوا پلاؤں ہاتھ پیروں کی مالش کروں اور جب تیرے آرام کا وقت ہوتو تیرا بستر خوب جھاڑ پونچھ کر صاف کروں اگر مجھے معلوم ہو کہ تیرا گھر کہاں ہے تو بلاناغہ صبح شام گھی اور دودھ تیرے واسطے لے آیا کروں ،پنیر ،روغنی ،روٹیاں اور خوشبودار دہی کی لسی،یہ سب چیزیں لاؤں غرض میرا کام ہر طرح تجھے خوش رکھنا اور تیری خدمت کرنا ہو ،میری ساری بکریاں تجھ پر قربان ہوں اب تو آجا،تیرے فراق میں میری بے قراری حد سے بڑھ گئی ہے۔

“وہ چرواہا دنیا وما فیہا سے بے خبر ایسی ہی باتیں کررہا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے قریب گئے اور کہنے لگے ”ارے احمق ،تو یہ باتیں کس سے کر رہا ہے ؟“
چرواہے نے جواب دیا”’اس سے کر رہاہوں جس نے مجھے اور تجھے پیدا کیا اور یہ زمین آسمان بنائے یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غضب ناک ہو کر کہا”اے بد بخت ! تو اس بے ہو دہ بکواس سے کہیں کا نہ رہا بجائے مومن ہونے کے کافر ہو گیا خبر دار آئندہ ایسی لایعنی اور فضول بکواس منہ سے نہ نکالو اپنے حلق میں روئی ٹھونس لے تیرے اس کفر کی بدبو ساری دنیا میں پھیل گئی ارے بے وقوف ! یہ دودھ لسی اور روگنی روٹیاں ہم مخلوق کے لیے ہیں کپڑوں کے محتاج ہم ہیں ،حق تعالیٰ ان حاجتوں سے بے نیاز ہے اگر تو نے اپنی زبان بند نہ کی تو یاد رکھ غیرتِ حق آتش بن کر کائنات کو جلا ڈالے گی خدا ایسی خدمتوں سے بے پرواہے وہ نہ بیمار پڑتا ہے نہ اسے تیمارداری کی ضرورت ہے نہ اس کا کوئی رشتے دار ہے دودھ تو وہ ہے جس کا بدن اور عمر بڑھنے والی ہو اور ضعف محسوس کرتا ہو اور موزے وہ پہنے جو پاؤں کا محتاج ہو حق تعالیٰ ان باتوں سے بری ہے تو بہ کر اور اس سے ڈر۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غیظ وغضب میں بھرے ہوئے یہ الفاظ سن کر چرواہے کے اوسان خطا ہو گئے خو سے تھرتھر کا نپنے لگا چہرہ زرد پڑگیا بولا:
”اے خدا کے جلیل القدر نبی تو نے ایسی بات کہی کہ میرے منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور مارے ندامت کے میری جان ہلاکت میں پڑگئی یہ کہتے ہی چروا ہے نے آہ سرد کھینچی اپنا گریبان تار تار کیا اور دیوانوں کی طرح سر پر خاک اڑاتا غائب ہو گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام حق تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہ طور پر گئے تو خدا نے ان سے فرمایا ”اے موسیٰ ،تو نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کیوں کیا؟تو دنیا میں فصل (جدائی)کے لیے آیا ہے یاوصل (ملاپ)کے لیے؟خبردار ! اس کا م میں احتیاط رکھ اور جہاں تک تجھ سے ہو سکے فراق کی حد میں قدم مت دھرہم نے اپنی مخلوق میں سے ہر شخص کی فطرت الگ بنائی ہے اور ہر فرد کو دوسروں سے جدا عقل بخشی ہے جو بات ایک کے حق میں اچھی ہے ،وہ دوسرے کے لیے بری ہے اور جو ایک کے حق میں تریاق کا اثر رکھتی ہے وہی دوسرے کے لے زہر کا حکم رکھتی ہے ،ایک کے حق میں نور،دوسرے کے حق میں نار ،ایک کے لیے گلاب کا پھول ،دوسرے کے لیے کانٹا ،ہماری ذات پاکی وناپا کی سے بری ہے اور اے موسیٰ علیہ السلام یہ مخلوق ہم نے اس لیے پیدا نہیں فرمائی کہ اس سے ہماری ذات کوکوئی فائدہ پہنچتا ہے اسے پیدا کرنے کا مقصود صرف یہ ہے کہ اس پر ہم اپنے کمالات کی بارش برسائیں جو شخص جس زبان میں ہماری حمد وثنا کرتا ہے اس سے ہماری ذات میں کچھ کمی بیشی واقع نہیں ہوتی بلکہ جوموتی اس کے منہ نکلتے ہیں ،اس سے مداح کرنے والا خود ہی پاک صاف ہوتا ہے ،ہم کسی کے قول اور ظاہر پر نگاہ نہیں کرتے ہم تو باطن اور حال کو دیکھتے ہیں اے موسیٰ خردمندوں کے آداب اور ہیں ،دل جلوں اور جان ہاروں کے آداب اور ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب خدا کایہ عتاب آمیز خطا سنا تو سخت پشیمان ہوئے اور بارگاہ الٰہی میں نہایت ندامت اور شرم ساری سے عفو کی درخواست کی پھر اسی اضطراب اور بے چینی کی حالت میں اس چروا ہے کو ڈھونڈ نے جنگل میں گئے اس کے قدموں کے نشان دیکھتے دیکھتے اس قدر چلے کہ پیروں میں چھالے پڑگئے ،صحراوبیابان کی خاک چھان ماری لیکن چرواہے کا کہیں پتا نہ پایا کہتے ہیں دیوانوں کا نقش پاخرد کے نقش پاک سے الگ ہوتا ہے اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی تلاش جاری رکھی ۔
جہاں تک کہ آپ اسے پالینے میں کامیاب ہوئے۔
چرواہے نے انہیں دیکھ کر کہا”اے موسیٰ علیہ السلام ! اب مجھ سے کیا خطا ہوئی کہ یہاں بھی آن پہنچا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا”اے چرواہے میں تجھے مبارک باد دینے آیا ہوں تجھے حق اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ فرمایا اور اجازت عطا کی کہ جو تیرے جی میں آئے بلا تکلف کہا کر تجھے کسی ادب آداب اور قاعدے ضابطے کی ضرورت نہیں تیرا کفر اصل دین ہے اور دین نور جان تجھے سب کچھ معاف ہے بلکہ تیرے صدقے میں تمام دنیا کی حفاظت ہوتی ہے ۔

چروا ہے نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا”اے پیغمبر خدا! اب ان باتوں کے قابل ہی کہاں رہا ہوں جو کچھ کہوں ؟میرے دل کا توکون ہو چکا اور اب میری منزل سدرة المنتہیٰ سے بھی آگے ہیں جب سے اب تک ہزاروں لاکھوں برس کی راہ طے کر چکا ہوں تو نے میرے اسپ تازی کو ایسی مہمیز لگائی کہ ایک ہی جست میں ہفت آسمان سے آگے نکل گیا میر احال بیان کے قابل نہیں اور کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے بھی میرا احوال مت جان۔

اے شخص تو جو حق تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتا ہے کیا سمجھتا ہے کہ تیرا حال اس چرواہے سے کچھ مختلف ہے ؟نہیں ،نہیں تو اس سے ہر گز بہتر نہیں ہے تو ابتدا سے انتہا تک ناقص اور تیرا حال وقال بھی ناقص ،یہ محض اس پرور دگار رحمن ورحیم کا کرم ہے کہ وہ تیرے ناقص اور گندے تحفے قبول فرماتا ہے ۔( حکایاتِ رومی)

Your Thoughts and Comments