Hazrat Safia RA

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

آپ کا اصل نام زینب تھا لیکن بعد میں اس وجہ سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے نام سے مشہور ہو گئیں۔

پیر فروری

Hazrat Safia RA
عنایت عارف
آپ کا اصل نام زینب تھا لیکن بعد میں اس وجہ سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے نام سے مشہور ہو گئیں۔کہ آپ جنگ خیبر میں خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں آئی تھیں۔اور عرب میں مال غنیمت کے اس حصے کو جو سردار قوم یا امیر ریاست کے لئے علیحدہ کیا جاتا تھا صفیہ کہتے تھے۔آپ بھی اسی نسبت سے صفیہ کے نام سے مشہور ہوئیں۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا عرب کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔آپ کے والد کا نام حی بن اخطب تھا۔وہ قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا کیونکہ اسے حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے سمجھا جاتا تھا۔آپ کی والدہ ضرد بنی قریظہ کے رئیس سموئل کی بیٹی تھی۔یہ دونوں قبیلے بنو اسرائیل میں بہت ممتاز خیال کئے جاتے تھے۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی پہلی شادی سلام بن مشکم سے ہوئی مگر اس نے طلاق دے دی۔

دوسرا نکاح کنا نہ بن ابی الحقیق سے ہوا۔جنگ خیبر میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ،باپ اور بھائی قتل ہوگئے اور انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا جب تمام قیدی جمع کئے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے کہنے پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے خود نکاح کر لیا ۔اور صہبا کے مقام پر رسم عروسی ادا ہوئی۔حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے 50ھ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی ۔
جنت البقیع میں دفن ہوئیں ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ ترکہ چھوڑا اور ایک تہائی رقم اپنے ایک یہودی بھانجے کے لئے وصیت کر گئیں۔
اکثر کتب سیرت میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے فہم وفراست اور دانشمندی کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ان سے بھی کئی احادیث مروی ہیں۔ اور وہ بھی اپنے زمانے میں علم وحکمت کا سر چشمہ خیال کی جاتی تھیں۔مورخین نے لکھا ہے کہ وہ بے حد عقلمند، فاضلہ اور رحمدل تھیں۔
نرم دلی اور حلم ان کا خاص وصف تھا۔ان کے مکان پر ہر وقت مسائل معلوم کرنے والی عورتوں کا جھمگٹار رہتا تھا۔اور وہ سب کو تسلی بخش طریقے کے مسائل دین سمجھاتی تھیں۔ان کے متعلق مشہور ہے کہ جنگ خیبر میں جب وہ اپنی بہن کے ساتھ گرفتار کرکے لائی جارہی تھیں تو ان کی بہن یہودی مقتولوں کو دیکھ کر چیخ رہی تھیں۔لیکن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جب اپنے خاوند کی نعش کے قریب سے گزریں تو کسی نے انہیں آہ وبکا کرتے یاروتے پیٹتے نہیں دیکھا بلکہ وہ بڑے صبرو تحمل اور متانت سے گزر گئیں۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کیا کرتی تھیں کہ وہ اب بھی یوم السبت کو اچھا سمجھتی ہیں اور یہو دیوں کی مدد کرتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کرایا تو جواب دیا کہ یوم السبت کو جمعہ کے مقابلے میں اچھا سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں البتہ میں یہودیوں کے ساتھ مروت سے ضرور پیش آتی ہوں کیونکہ وہ میرے رشتہ دار اور بھائی بند ہیں۔
اس کے بعد آپ نے لونڈی کو آزاد کر دیا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کوبھی دیگر ازواج کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔جب آپ بیمار ہوئے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے بڑی حسرت سے کہا کہ کاش !آپ کی بیماری مجھے ہو جاتی ۔دوسری ازواج مطہرات نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سچ کہتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور ہر ممکن دلجوئی فرماتے تھے ۔
ایک بار دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا تو آپ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے انہیں اونٹ دینے کو کہا لیکن انہوں نے کہا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ کیوں دوں۔یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا نا گوار گزرا کہ وہ دو ماہ تک ان کے پاس نہیں گئے۔جب انہیں حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کوئی یہودیہ ہونے کا طعنہ دیتا تھا تو وہ رو پڑتی تھیں۔
ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ زار وقطار رو رہی ہیں پوچھنے پر بتایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج میں ہیں کیونکہ وہ آپ سے دوسری نسبت بھی رکھتی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جواب کیوں نہ دیا کہ ہارون علیہ السلام میرے باپ ،موسیٰ علیہ السلام میرے چچا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے شوہر ہیں اس لئے تم افضل کس طرح ہو سکتی ہو۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مشہور ہے کہ بہت سخی اور سیر چشم تھیں۔ہر ایک کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آنا ان کی عادت بن چکی تھی۔ وہ بے حد ہمدرد ،غمگسار اور شفیق تھیں۔کسی کو تکلیف میں دیکھ کر بے تاب ہو جاتی تھیں اور اپنی طرف سے ہر ممکن مدد دینے سے گریز نہ کرتی تھیں۔تحمل ،بردباری اور سیر چشمی ان کے خاص اوصاف تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہودی النسل ہونے کے باوجود وہ بڑی فیاض اور دریا دل تھیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صحبت نے ان کی شخصیت کو ایسی جلا نجش دی تھی کہ قدیم مورخین کے الفاظ میں آج بھی ان کی زندگی کی مقدس جھلک دکھائی دیتی ہے تو ہر مسلمان کا دل ادب واحترام سے جھک جاتاہے ۔یہ ان کی سیرت کی دلکشی اور اخلاق کی بلندی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرط محبت سے خودان کے آنسو پونچھ دیا کرتے تھے۔اور انہیں یہ بھی شرف حاصل تھا کہ حضور خودان کی دلجوئی میں مصروف رہتے تھے اور ان کے متعلق کوئی سخت بات سننا پسند نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے قد سے متعلق کوئی طنزیہ جملہ کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر سمندر میں چھوڑ دی جائے تو اس میں مل جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی دانش مندی ،صبروتحمل اور ایثار کیشی کی وجہ سے ان کی بہت قدر کرتے تھے۔
خدا کرے کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں آفتاب نبوت کی ان مقدس کرنوں سے اپنے قلوب اور اذہان کو منور کرنے کے قابل ہو سکیں۔بات بات پر خفا ہو جانے اور لڑنے جھگڑنے والی مسلمان خواتین کو حضرت صفیہ کے تحمل اور بردباری سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔اور سیکھنا چاہیے کہ بڑی سے بڑی مصیبت کے وقت بھی متانت،سنجیدگی اور صبروتحمل کو کیسے بر قرار رکھا جا سکتاہے کیونکہ جو شخص اپنے جذبات پر قابو پانے کی طاقت پیدا کر لیتاہے وہ دنیا میں کسی سے شکست نہیں کھا سکتا۔فتح وکامرانی زندگی میں ہر مقام پر اس کے قدم چومتی ہے۔

Your Thoughts and Comments