Hazrat Sale Allah Aleh Wasallam Ki Taraf Se Mazloomon Ki Imdaad Ka Faisla

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مظلوموں کی امداد کا فیصلہ

ابو جہل اسلام کی مخالفت کرتا تھا ،بہت سے موقعوں پر اس نے ایسے موقف اختیار کئے جن سے اس کی بد طینتی کا اندازہ ہوتاہے ،اس کی مردانگی میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں

Hazrat sale Allah aleh wasallam ki taraf se mazloomon ki imdaad ka faisla

ابو جہل اسلام کی مخالفت کرتا تھا ،بہت سے موقعوں پر اس نے ایسے موقف اختیار کئے جن سے اس کی بد طینتی کا اندازہ ہوتاہے ،اس کی مردانگی میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں ،ابوجہل کی خباثت کا دائرہ مکہ میں مسلمانوں تک محدود نہیں تھا،بلکہ وہ ہر اُس شخص کو ایذا پہنچاتا تھا جومکہ میں زیارت ،عمرہ یاتجارت وغیرہ کی نیت سے آتا تھا ۔چنانچہ ایک حدیث ہے کہ ایک مرتبہ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک قبیلہ زبید کا ایک شخص آیا تھا ۔

وہاں اس وقت قریشی سردار بھی مجمع لگائے بیٹھے تھے اس شخص نے آکر قریشیوں کے حلقے کے گرد گھومنا شروع کردیا اوروہ یہ کہتا جاتا تھا :
”اے گروہ قریش ! کوئی راہ گیر کیسے تمہارے علاقے میں داخل ہو سکتا ہے اور کوئی تاجر کیسے تمہارے سر زمین میں آسکتا ہے جب کہ تم ہر آنے والے کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہو۔


یہ کہتا ہوا جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا۔


”تم پر کس نے ظلم کیا ہے؟“
اس نے بتلایا کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے تین بہترین اونٹ بیچنے کے لئے لے کر آیا تھا مگر یہاں ابوجہل نے ان تینوں اونٹوں کی اصل قیمت کی صرف ایک تہائی قیمت لگا دی (یعنی ان کی اصل قیمت سے دوتہائی کم قیمت لگا دی اور ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی بستی کا ایک معزز سردار ہے اس کی قیمت پر بڑھ کر کوئی دوسرا شخص اب قیمت نہیں لگائے گا اوراس طرح وہ ان اونٹوں کو بہت کم قیمت میں خریدے گا ۔
چنانچہ ایسا ہی ہو ا کہ )اس کی وجہ سے پھر کسی دوسرے نے ان اونٹوں کا بالکل سودا نہیں کیا۔اس زبیدی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس طرح ابوجہل نے میری تجارت خراب کرکے مجھ پر ظلم کیا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:
”تمہارے اونٹ کہاں ہیں ؟“
اس نے کہا:”یہیں خزورہ کے مقام پر ہیں ۔“
یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحابہ اٹھے اور وہا ں پہنچے ۔
آپ نے دیکھا کہ اونٹ واقعی بہت عمدہ تھے ۔آپ نے اس شخص سے بھاؤ تاؤ کیا اور آخر دونوں میں خوش دلی سے رضامندی ہو گئی۔ اس کے بعد آپ نے وہ اونٹ لے لئے۔
پھر آپ نے ان میں سے دو زیادہ عمدہ اونٹ فروخت کردےئے اور ان کی قیمت بنی عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں کو تقسیم فرمادی۔یہ سب کچھ ہوا اور وہیں بازار میں ایک طرف ابوجہل بیٹھا ہوا یہ سب دیکھتا رہا مگر ایک لفظ نہیں بو ل سکا ۔
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل کے پاس آئے اور اس سے فرمایا:
”خبر دار عمرو(!ابوجہل کا اصل نام عمرو تھا )اگر تم نے آئندہ ایسی حرکت کی تو بہت سختی سے پیش آؤ ں گا ۔“
یہ سن کر ابوجہل جلدی سے بولا:
”محمد۔میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا ۔محمد میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔“
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوٹ آئے ۔
ادھر ابوجہل کو راستے میں امیہ بن خلف اور اس کے دوسرے ساتھی مل گئے ۔ان لوگوں نے ابوجہل سے کہا:
”تم تو محمد کے ہاتھوں بہت رسوا ہو کر آرہے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو تم ان کا اتباع اور پیروی کرنا چاہتے ہو اور یا تم ان سے بہت مرعوب اور خوفزدہ ہو گئے ہو۔“
ابوجہل بولا:
”میں ہر گزکبھی محمد کی پیروی نہیں کر سکتا ۔میری جو کمزوری تم نے دیکھی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے محمد کو دیکھا تو مجھے ان کے ساتھ دائیں بائیں بہت سارے آدمی نظر آئے جن کے ہاتھوں میں نیزے اور بھالے تھے اور وہ ان کو میری طرف لہرا رہے تھے ۔
اگر میں اس وقت محمد کی بات نہ مانتا تو وہ سب لوگ مجھ پر آپڑتے۔“
ایسا ہی ایک دوسرا واقعہ
ایسا ہی ایک واقعہ اور پیش آیا ہے ۔ابوجہل ایک یتیم لڑکے کا سر پر ست بنا اور پھر اس نے اس کا سارا مال غصب کرکے اس یتیم کو نکال باہر کیا ۔وہ یتیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوجہل کے خلاف فریاد لے کر آیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس یتیم کو ساتھ لے کر ابوجہل کے پاس آئے اور اس کا مال ابوجہل سے واپس دلوایا ۔
مشرکوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ابوجہل (کو برابھلا کہا اور اس )سے اس کی وجہ پوچھی ۔ابوجہل نے جواب دیا:
”مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں بڑے خوفناک ہتھیار نظر آئے جن سے میں ڈر گیا۔اگر میں اس یتیم کا مال دینے سے انکار کردیتا تووہاں ہتھیاروں سے مجھے مارڈالتے۔“
ایسے ہی کچھ وہ واقعات ہیں کہ مشرکوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق بنانے کی کوشش کی ۔
چنانچہ روایت ہے کہ ایک اراشی شخص تھا یعنی قبیلہ حشعم کی ایک شاخ اراشہ کا ایک آدمی تھا جس سے ابوجہل نے کچھ اونٹ خریدے مگر پھر ان اونٹوں کی قیمت دینے میں ابوجہل نے ٹال مٹول کردی ۔اس پر (جب اس شخص نے قریشیوں سے فریاد کی تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق بنانے کے خیال سے اس کو مشورہ دیا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر فریاد کرو۔ایسا انہوں نے اس لئے کیا کہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل کا کچھ نہیں کرسکتے۔

Your Thoughts and Comments