Hazrat Umar Farooq RA

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ایران شام اور مصر کی فتوحات۔۔۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبلیہ قریشی کی شاخ بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتداء میں اسلام کے سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کو بڑی اذیتیں دیا کرتے تھے۔

Hazrat Umar Farooq RA
تعارف:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبلیہ قریشی کی شاخ بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتداء میں اسلام کے سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کو بڑی اذیتیں دیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ایک دن حضورﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔راستے میں معلوم ہوا کہ ان کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں۔چنانچہ فورأٴان کے گھر پہنچے اس وقت وہ دونوں میاں بیوی قرآن شریف پڑھ رہے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ کیفیت دیکھی تو آپے سے باہر ہوگئے اور انہیں جان سے مار مار کر لہو لہان کر دیا مگر وہ بھی کہتے رہے کہ خواہ تم ہمیں جان سے مار دو ہم اس دین سے باز نہیں آئیں گے۔ بہن اور بہنوئی کا یہ استقلال دیکھ کر ان کا دل بھی پسیج گیا۔قرآن کے اوراق مانگ کر پڑھے اتنا ائر ہوا کہ فورأٴ ایمان لے آئے اور حضور ﷺ کے پاس پہنچ کر بیعت کرلی۔


مکہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دبدبے اور رعب کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو ساتھ لے کر علی الا علان کعبہ میں نماز پڑھی اور کسی کو جرات نہ ہوئی کہ مزاحمت کرے۔ہجرت مدینہ شروع ہوئی تو مسلمان چوری چھپے گھروں کو خیرباد کہہ کر مدینہ جاتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیس مسلمانوں کو ساتھ لے کر علانیہ نکلے اور قریشی کو مخاطب کر کے کہا کہ جسے جان عزیز نہیں وہ آئے اور مجھے روکے کسی کو سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی۔

ہجرت کے بعد تمام غذوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک رہے اکثر اوقات حضور ﷺ ان سے مشورہ بھی لیا کرتے تھے۔خلیفہ اول کے زمانے میں بھی بطور مشیر اعلیٰ کے کام کرتے رہے۔طبیعت میں عجلت اور جوش اعتدال سے زیادہ تھا اس لئے جذبات کی رو میں بہہ کر صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلعم سے گستاخی کر بیٹھے ۔ جس کے ازالہ میں تمام رات گڑگڑا کر خدا سے معافی مانگتے رہے۔
شہادت:
23 5 کے آخر میں ابو لذلو ایک غیر مسلم عجمی غلام نے کسی ذاتی رنجش کی بنا پر فجر کی نمازمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر حملہ کر دیا اور چھ مہلک زخم لگائے۔جن سے آپ جانبر نہ ہوسکے اور تیسرے روز عالم بقا کو رحلت فرما گئے۔

Your Thoughts and Comments