Hazrat Umer Farooq RA Ki Zahanat

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ذہانت

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس کپڑوں کے کچھ جوڑے یمن سے آئے ، جن کو آپ نے لوگوں پر تقسیم کرنا چاہا۔ ان میں ایک جوڑا خراب تھا۔ آپ نے سوچا اسے کیا کروں یہ جس کو دوں گا وہ اس کے عیب دیکھ کر لینے سے انکار کر دے گا۔ آپ نے اس کو لیا اور تہہ کر کے اپنی نشست گاہ کے نیچے رکھ لیا اور اس کا تھوڑا سا پلہ باہر نکال دیا۔ دوسرے جوڑوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کو تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

Hazrat Umer Farooq RA Ki Zahanat
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس کپڑوں کے کچھ جوڑے یمن سے آئے ، جن کو آپ نے لوگوں پر تقسیم کرنا چاہا۔ ان میں ایک جوڑا خراب تھا۔ آپ نے سوچا اسے کیا کروں یہ جس کو دوں گا وہ اس کے عیب دیکھ کر لینے سے انکار کر دے گا۔ آپ نے اس کو لیا اور تہہ کر کے اپنی نشست گاہ کے نیچے رکھ لیا اور اس کا تھوڑا سا پلہ باہر نکال دیا۔ دوسرے جوڑوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کو تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

اب زبیربن العوام رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور آپ تقسیم میں لگے ہوئے تھے اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس جوڑے کو دبائے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس جوڑے کو گھورنا شروع کر دیا پھر بولے یہ جوڑا کیسا ہے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اس کو چھوڑ دو۔ وہ پھر بولے یہ کیا ہے ،یہ کیا ہے اس میں کیا وصف ہے ۔

آپ نے فرمایا تم اس کا خیال چھوڑ دو۔

اب انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ مجھے دو۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے پختہ اقرار کرا لیا کہ اسے قبول کرنا ہو گا اور پھر واپسی نہ ہو سکے گا۔ تو آپ نے نیچے سے نکال کر ان پر ڈال دیا جب زبیربن العوام رضی اللہ عنہ نے اس کو لے کر دیکھا تو وہ ردی نکلا تو کہنے لگے میں تو اس کو لینا نہیں چاہتا۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس بس! اب ہم آپ کے حصہ سے فارغ ہو چکے ۔ اس کو ان ہی کے حصہ میں لگایا اور واپس لینے سے انکار کر دیا کہ یہ فروخت کرنے کا معاملہ نہ تھا۔
اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ اگر مال میں کوئی عیب ہو تو خریدار پر اس کو واضح کر دیا جائے یہ تو مفت تقسیم کا معاملہ تھا۔

Your Thoughts and Comments