Hazrat Yahya Alaihi Salam Ki Shahadat

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے متعلق بھی کئی اقول ملتے ہیں ۔ان میں سب سے مشہور یہ ہے کہ دمشق کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی کسی محرم ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا یا پھر ایک ایسی عورت سے شادی کا ارادہ کیا جو کہ شریعت کے لحاظ سے ممنوع تھی ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اس بادشاہ کو اس کے ارادے سے منع رکھنے کی کوشش کی ۔

ہفتہ نومبر

hazrat yahya alaihi salam ki shahadat

(حافظ عمادالدین )

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے متعلق بھی کئی اقول ملتے ہیں ۔ان میں سب سے مشہور یہ ہے کہ دمشق کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی کسی محرم ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا یا پھر ایک ایسی عورت سے شادی کا ارادہ کیا جو کہ شریعت کے لحاظ سے ممنوع تھی ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اس بادشاہ کو اس کے ارادے سے منع رکھنے کی کوشش کی ۔


وہ عورت بھی اس بادشاہ سے محبت کرتی تھی اس کے دل میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق رنجش پیدا ہو گئی۔ شیطان نے اس عورت اور بادشاہ کو ملا دیا۔ ا س عورت نے بادشا ہ سے کہا کہ مجھے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون چاہئے۔بادشاہ نے حامی بھرلی اور اپنے کچھ سپاہیوں کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے بھیجا۔وہ بد بخت آپ علیہ السلام کا سر اور خون ایک تھال میں لے کر آئے ۔

اس عورت نے جب سر مبارک کو دیکھا تو اسی وقت مرگئی اور جہنم واصل ہوئی۔
یہ بھی مشہور ہے کہ بادشاہ کی ملکہ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام سے عشق ہو گیا تھا اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بلا بھیجا اور آپ علیہ السلام نے انکار کر دیا۔اس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خون کا مطالبہ کیا۔بادشاہ پہلے تو انکار کرتا رہا پھر جب مطالبہ بڑھ گیا تو اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کے لئے اپنے کارندے بھیجے جو آپ علیہ السلام کا سر مبارک اور خون ایک تھال میں لے کر واپس آئے ۔
بادشاہ نے وہ سر مبارک اور خون اپنی ملکہ کے پاس بھیج دیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات حضرت زکر یا علیہ السلام کو آسمان پر دیکھا تو انہیں سلام کیا اور دریافت کیا کہ اے یحییٰ علیہ السلام کے والد ! مجھے بتائیے کہ آپ علیہ السلام کو کیسے شہید کیا گیا ؟اور بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کوکیوں قتل کیا؟انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم یحییٰ (علیہ السلام)! اپنے دور میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب سے زیادہ وجیہہ نظر آتے تھے اور پھر جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا کہ انہیں عورتوں کی حاجت نہ تھی ۔

اس دور کے بادشاہ کی بیوی ان پر عاشق ہو گئی اور وہ عورت بدکار تھی ۔اس نے یحییٰ(علیہ السلام)کی جانب پیغام بھیجا لیکن اللہ عزوجل نے انہیں محفوظ رکھا۔چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اسے انکار کر دیا۔اس عورت نے ان کے قتل کی ٹھان لی اور بنی اسرائیل کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا۔اس دن بادشاہ کا دستور تھا کہ وہ جو عہد کر لیتا تھا اسے پورا کرتا تھا۔
بادشاہ جب عید کے لئے روانہ ہونے لگا تو ملکہ نے اسے رخصت کیا۔
بادشاہ نے ملکہ سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے ؟ملکہ نے کہا کہ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون چاہتی ہوں ۔بادشاہ نے کہا کہ اس کے علاوہ کچھ مانگ لے مگر وہ عورت اپنی بات پر قائم رہی ۔بادشاہ نے اپنے سپاہی روانہ کئے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام اس وقت اپنے حجرئہ خاص میں عبادت میں مصروف تھے ۔
میں بھی ان کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا ۔ پھر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایک طشت میں ذبح کردیاگیا اور ان کا خون اوع سر مبارک اس عورت کے پاس لے جایاگیا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زکریا علیہ السلام سے پوچھا کہ اس وقت آپ علیہ السلام کے صبر کا پیمانہ کیسا تھا ؟حضرت زکریا علیہ السلام نے کہا کہ میں اس وقت نماز میں ہی مصروف رہا۔
جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر مبارک اور خون اس عورت کے پاس پہنچا تو شام ہونے والی تھی ۔اللہ عزوجل نے اس عورت ‘بادشاہ اور اس کے تمام اہل خانہ کو خدام سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
بنی اسرائیل کہنے لگے کہ یہ سب حضرت زکریا علیہ السلام کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ان کا رب ناراض ہو گیا ہے ۔ا ب ہم اس بادشا ہ کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے اور اسے قتل کریں گے ۔
پھر وہ لوگ میری تلاش میں نکلے تا کہ مجھے قتل کر سکیں ۔مجھے ایک شخص نے بتادیا کہ بنی اسرائیل میرے قتل کے درپے ہیں ۔میں وہاں سے نکلا۔شیطان بنی اسرائیل کی رہنمائی کررہاتھا ۔جب مجھے خطرہ لاحق ہوا تو میں نے اپنے سامنے ایک درخت کو دیکھا۔
اس درخت نے مجھے اپنی جانب بلایا اورمیں اس کے پاس گیاتووہ پھٹ گیا اور میں اس میں داخل ہوگیا۔شیطان آیا اوراس نے میری چادر کے پلو کو اس وقت پکڑ لیا جب درخت باہم مل رہا تھا۔
چنانچہ میری چادر کا پلو باہر رہ گیا اور بنی اسرائیل جب وہاں پہنچے تو شیطان نے انہیں کہا کہ وہ درخت دیکھو جس میں تمہیں پلو نظر آرہا ہے یہ پلوز کریا (علیہ السلام ) کی چادر کا ہے ۔
بنی اسرائیل نے اس درخت کو جلانے کا ارادہ کیا تو شیطان نے کہا کہ اسے آرے سے چیر دو۔چنانچہ انہوں نے اس درخت کو آرے سے چیر دیا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس وقت آپ علیہ السلام کو کچھ تکلیف ہوئی؟حضرت زکریا علیہ السلام نے کہا کہ نہیں تکلیف تو اس درخت کوہوئی جس میں اللہ عزوجل نے میری روح کو رکھ دیا تھا ۔

یہ روایت غریب معلوم ہوتی ہے اور اس میں موجود کئی باتوں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔اس روایت میں موجود کئی باتیں صحیحین میں موجود واقعہ معراج کے مطابق نہیں ہیں اور واقعہ معراج میں ان کا نام چند الفاظ میں محفوظ ہے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں معراج کی رات دو خالہ زاد بھائیوں حضرت یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔
جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے کہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اشیاع بنت عمران ِ اور حضرت مریم صلی اللہ علیہ وسلم بنت عمران آپس میں بہنیں تھیں ۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اشیاع حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی تھیں اور حضرت مریم علیہ السلام کی والد عمرا ن کی بیوی حنہ کی بہن تھیں اس طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام ‘حضرت مریم علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے واللہ اَعلم
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو کہاں شہید کیا گیا اس کے متعلق بھی بے شمار قول ہیں ۔

ایک قول کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ میں شہید کیا گیا۔
ایک قول کے مطابق آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کے علاوہ کسی اور جگہ شہید کیا گیا۔
حضرت ثوری اعمش رحمتہ اللہ علیہ کی روایت کے مطابق آپ علیہ السلام کو ا س پتھر پر شہید کیا گیا جہاں ستر انبیاء کرام علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا۔
حضرت سعید بن مسیّت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخت نصردمشق آیا تو اس نے ایک جگہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون اُبلتے دیکھا۔
اس نے جب لوگوں سے اس خون کے متعلق دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون ہے اور سارا واقعہ اسے بیان کیا۔بخت نصر نے آپ علیہ السلام کے خون کا بدلہ لیتے ہوئے ستر ہزار اسرائیلیوں کو قتل کیا۔یہ حدیث حضرت سعید بن مسیّت کی جانب سے صحیح ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو دمشق میں شہید کیا گیا اور بخت نصر کا واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پیش آیا جیسا کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کا قول ہے واللہ اَعلم
حضرت زیدبن واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب دمشق میں مسجد بنانے کا اراد ہ کیا تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر مبارک محراب کے نزدیک ستونوں میں سے نکلا ۔
میں نے آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی زیارت کی۔آپ علیہ السلام کے چہرے کی جلد اور سر کے بالوں میں کوئی فرق نہ آیا تھا کہ حضرت یحییٰ کو ابھی شہید کیا گیا ہے۔
یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے سر مبارک کو جامع مسجد دمشق کے سکا سکہ نامی ستون کے نیچے مد فون کیا گیا ۔واللہ اَعلم
ابن عسا کرنے ”المستقضی فی فضائل الاقصیٰ “میں عباس بن صبح سے اور انہوں نے مروان سے اور انہوں نے سعید بن عبدالعزیز سے اور انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام قاسم سے روایت کیا ہے کہ دمشق کے بادشاہ کا نام حدادبن ہداد تھا اور اس نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی بھتیجی اریل سے کی جو صید کی شہزادی تھی ۔
دمشق میں واقع”سوک الملوک “بازار اریل کا ذاتی تھا اور وہاں سونا وغیرہ ڈھالنے کاکام ہوتاتھا۔حداد کے بیٹے نے کسی وجہ سے اسے تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس سے رجوع کا ارادہ کیا ۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام سے جب اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ عورت تجھ پر ا س وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک وہ حلالہ نہ کر لے یعنی کسی دوسرے شخص سے شادی کرے اور پھر وہ اسے طلاق دے اور اس کی شادی تیرے ساتھ ہو۔
اس عورت نے جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بات سنی تووہ آپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئی ۔اس نے حداد سے آپ علیہ السلام کا سر مبارک اور خون طلب کیا ۔حداد نے پہلے تو انکار کیا پھر اس کی بات مان لی۔
چنانچہ آپ علیہ السلام کے پاس اس کے سپاہی آئے اور انہوں نے آپ علیہ السلام کا سر مبارک کاٹ کر تھال میں رکھا اور اس عورت کے پاس لے گئے ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام اس وقت جبرون کی مسجد میں نماز ادا کررہے تھے اور آپ علیہ السلام کے سر مبارک میں سے یہ آواز آرہی تھی کہ اس عورت کے لئے حلال نہیں جب تک کہ یہ کسی اور کے ساتھ ہم بستر نہ ہوجائے ۔

اس عورت نے وہ تھال لیا اور آپ علیہ السلام کا سر مبارک اس میں موجود تھا ۔وہ اس تھال کو لے کر اپنی ماں کے پاس آئی اور جب اس نے وہ تھال ماں کے سامنے رکھا تو زمین میں دھنسنا شروع ہو گئی یہاں تک کہ اس کے پاؤں زمین میں غائب ہوگئے ۔پھروہ پہلوؤں تک دھنسا دی گئی۔ماں نے شرور مچانا شروع کیا اور ا س دوران وہ کندھوں تک زمین میں دھنس چکی تھی ۔
ماں نے جلادوں کو حکم دیا کہ وہ ا س کا سرکاٹ دیں تاکہ وہ اس کے سر سے اپنے دل کو تسلی دے سکے۔
چنانچہ اس عورت کا سرتن سے جدا کردیا گیا اور باقی تمام جسم ز مین نے نگل لیا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون ابلتا رہا یہاں تک کہ بخت نصر نے دمشق پر حملہ کیا اور ستر ہزار اسرائیلیوں کوقتل کیا۔حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی نبی کا خون تھا جو ابلتا رہا یہاں تک کہ حضرت ارمیا علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اے خون ! تو نے بنی اسرائیل کو فنا کروادیا اب تورک جا۔

چنانچہ اللہ عزوجل کے حکم سے وہ خون ابلنا بند ہو گیا۔اہل دمشق میں سے کئی لوگ بیت المقدس کی جانب بھاگ گئے ۔بادشاہ نے ان کا پیچھا کیا اور بے شمار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ان کی تعداد کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور بے شمار لوگ قیدی بنائے گئے اور بے شمار لوگ ذلت کی زندگی گزارے پر مجبور ہوئے ۔واللہ اَعلم

Your Thoughts and Comments