Hazrat Youns A.S Ki Dua

حضرت یونس علیہ السلام کی دُعا

”اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے پیارے بیٹے!اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک کرنا ضرور سب سے زیادہ ظلم ہے“

اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل!
دلیل نمبر:21 قرآن مجید میں ہے:
”اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے پیارے بیٹے!اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک کرنا ضرور سب سے زیادہ ظلم ہے“
دلیل نمبر:22 قرآن مجید میں ہے:
”اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے(اور یہ کہ تو)میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا (تو نے)میری طرف ہی لوٹنا ہے“
دلیل نمبر:23 قرآن مجید میں ہے:
”اور اگر وہ تجھ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا اور دنیا میں ان کے ساتھ سلوک کرنا اور اس کا طریقہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہو پھر تم سب نے میری طرف ہی لوٹنا ہے سو میں تم کو ان کاموں کی خبردوں گا جو تم کرتے تھے“
دلیل نمبر:24 قرآن مجید میں ہے:
”(لقمان نے کہا)اے میرے پیارے بیٹے اگر ایک رائی کا دانہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں تو اللہ تعالیٰ اس کو لے آئے گا بے شک اللہ تعالیٰ ہر باریکی کا جاننے والا ہے ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے“
دلیل نمبر:25 قرآن مجید میں ہے:
”(اے لوگو)کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور اس نے اپنی تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کردی ہیں اور بعض لوگ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی واضح کتاب کے اللہ تعالیٰ کے متعلق بحث کرتے ہیں“
دلیل نمبر:26 قرآن مجید میں ہے:
”اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا تو یہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے۔

آ پ فرمادیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
دلیل نمبر:27 قرآن مجید میں ہے:
”جو کچھ آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے بے شک اللہ تعالیٰ ہی بے پرواہ حمد کیا ہوا ہے۔“
دلیل نمبر:28 قرآن مجید میں ہے:
”اور اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی ہوں اور اس کے بعد ان میں سات سمندروں کا اور اضافہ ہو تو تب بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے بے شک اللہ تعالیٰ بہت غالب بے حد حکمت والا ہے۔

دلیل نمبر:29 قرآن مجید میں ہے:
”تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو دوبارہ زندہ کرنا(اس کے نزدیک) ایک جان کی مانند ہے بے شک اللہ تعالیٰ خوب سننے والادیکھنے والا ہے۔“
دلیل نمبر:30 قرآن مجید میں ہے:
”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ان میں سے ہر ایک مقرر میعاد تک گردش کررہا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہوبے شک اللہ تعالیٰ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔

دلیل نمبر:31 قرآن مجید میں ہے:
”اس کی وجہ یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے اور اس کے سوایہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی نہایت بلند بزرگ ہے۔“
دلیل نمبر:32 قرآن مجید میں ہے:
”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت سے سمندر میں کشتیاں رواں دواں ہیں تاکہ وہ تم لوگوں کو اپنی بعض نشانیاں دکھائے بے شک اس میں ہر زیادہ صبر کرنے والے بہت شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں۔

دلیل نمبر33 قرآن مجید میں ہے:
”اور جب انہیں کوئی موج سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہے تو وہ اخلاص سے عبادت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ انہیں(طوفان سے)نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو بعض ان میں سے معتدل رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کا صرف وہی شخص انکار کرتا ہے جو بڑا عہد اور سخت ناشکرا ہے۔

دلیل نمبر:34 قرآن مجید میں ہے:
”بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور وہی(ازخود)جانتا ہے کہ (ماؤں کے)رحموں میں کیا ہے اور کوئی(ازخود)نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص(ازخود)نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا بے شک اللہ تعالیٰ بہت جاننے والا سب کی خبر رکھنے والا ہے۔

دلیل نمبر:35 قرآن مجید میں ہے:
”اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمینوں کو اور ان تمام چیزوں کو جوان میں ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا اسے چھوڑنے کے بعد نہ تمہارا کوئی مدد گار ہے نہ شفاعت کرنے والاپس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے۔“
دلیل نمبر:36 قرآن مجید میں ہے:
”وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر وہ کام اس کی طرف اس دن میں چڑھے گا جس کی مقدار تمہارے گننے کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔

دلیل نمبر:37 قرآن مجید میں ہے:
”وہی عالم الغیب ہے اور عالم الظاہر ہے بہت غالب اور بے رحم فرمانے والا ہے۔“
دلیل نمبر:38 قرآن مجید میں ہے:
”اسی نے ہر چیز کو حسین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی پھر ایک حقیر پانی کے نچوڑ سے اس کی نسل بڑھائی پھر اس(کے پتلے)کو ہموار کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔

دلیل نمبر:39 قرآن مجید میں ہے:
”اللہ تعالیٰ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جنہیں موت نہیں آئی ان کو نیند کے وقت قبض کرلیتا ہے پھر جن کی موت کا فیصلہ فرماچکا ہے ان(کی روحوں) کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک میعاد معین تک چھوڑدیتا ہے۔“
دلیل نمبر:40 قرآن مجید میں ہے:
”اور وہی ہے جو رات میں تمہاری روح کو قبض کرلیتا ہے اور اس کوعلم ہے جو کچھ تم دن میں کرتے ہو پھر وہ تم کو دوبارہ اٹھائے گا تاکہ میعاد معین پوری کی جائے۔“

Your Thoughts and Comments