Hazrat Younus A.s Ka Name Or Nasb

حضرت یونس علیہ السلام کا نام و نسب

جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ لیے تو وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئے

Hazrat Younus a.s Ka Name or Nasb
حضرت یونس علیہ السلام کا نام و نسب
حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مقدس اور برگزیدہ نبی ہے آپ علیہ السلام کو رب تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف معبوث فرمایا جو شرک جیسے بڑے افعال کرتے تھے۔جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ لیے تو وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور ان کا ایمان لانا نفع آور ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان سے عذاب کو اٹھالیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا نام و نسب: حضرت یونس علیہ السلام لاویٰ بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کے نواسے ہیں۔امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عسا کر متوفی 571 لکھتے ہیں:حضرت یونس علیہ السلام لاویٰ بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کے نواسے تھے۔

(مختصر تاریخ دمشق:ج 28 ص105 مطبوعہ دارالفکربیروت)
حضرت یونس علیہ السلام شام کے رہنے والے تھے
حضرت یونس علیہ السلام شام کے رہنے والے تھے،امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی 571 لکتے ہیں: حضرت یونس علیہ السلام شام کے رہنے والے تھے۔

(مختصر تاریخ دمشق 28 ص105 مطبوعہ دارالفکریت بیروت)
حضرت یونس علیہ السلام بعلبک کے عمال میں سے تھے
حضرت یونس علیہ السلام بعلبک کے عمال میں سے تھے۔امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی 571 لکھتے ہیں: حضرت یونس علیہ السلام بعلبک کے عمال میں سے تھے(مختصر تاریخ دمشق ج28 ص 105 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
حضرت یونس علیہ السلام کے بچپن میں وصال فرمانے کا قول۔

حضرت یونس علیہ السلام کے بچپن میں وصال فرمانے کا قول بھی ملتا ہے جب آپ علیہ السلام وصال فرماگئے تو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام سے سوال کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو زندہ فرمادیا امام ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی 571 لکھتے ہیں:
ایک قول یہ ہے کہ: آپ علیہ السلام بچپن میں فوت ہوگئے تھے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے اللہ تعالیٰ نبی حضرت الیاس علیہ السلام سے سوال کیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو زندہ فرمادیا(مختصر تاریخ دمشق ج 28 ص105 مطبوعہ دارالفکربیروت)

Your Thoughts and Comments