Hikmat O Danish Aur Falah Ki Batain

حکمت ودانش اور فلاح کی باتیں

قرآن حکیم رب العالمین کاکلام ہے جو خاتم النبیین رحمة اللعالمین سیدنامحمد مصطفی کے پاس اللہ کے حکم سے جبریل امین لیکر آتے رہے۔۔۔

Hikmat o danish aur falah ki batain
حافظ زاہد عارف:
قرآن حکیم رب العالمین کاکلام ہے جو خاتم النبیین رحمة اللعالمین سیدنامحمد مصطفی کے پاس اللہ کے حکم سے جبریل امین لیکر آتے رہے ۔ اس کی تکمیل 23سال میں ہوئی یہ ایک مکمل دستور حیات ہے ۔ معاشی ، سیاسی اور اخلاقی اصولوں کی روشنی فراہم کرتا ہے ۔ اس کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ چند جملوں میں کامیاب زندگی کی نوید سنا دیتا ہے ۔
گویایہ فصاحت وبلاغت سے لبریزدریائے حکمت ودانش ہے ۔ اس کتاب کے متعلق خود باری تعالیٰ فرماتا ہے ”(ترجمعہ) “ یہ ایک بڑی بابرکت کتاب ہے ( اے نبی ﷺ ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔
کتاب پڑھنے کو عربی میں ”قرأت“ کہتے ہیں قرآت کرنے والے کو قاری کہتے ہیں ۔

لفظ قاری اسم فاعل ہے جبکہ تدبراس طرح پڑھنے کو کہتے ہیں کہ کتاب کے الفاظ اور عبارت پر غور وفکرکیا جائے ۔ اسکے معنی اور مطالب کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور اسکے احکام وہدایات کو حرزجان بنانے کی سعی وجستجوکی جائے ۔ اس لئے اس آیت مبارکہ میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ عقلمند اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ قلب وروح کو جلابخشنے اور فردومعاشرہ کو سنوار نے کیلئے جو تصورات اس میں مذکور ہیں ان کو عمل میں لاتے ہیں اور ان کی روشنی میں اپنے لئے نظام حیات وضع کرتے ہیں اسی سے زندگی میں انقلاب آتا ہے اور وہ عزت ورفعت سے ہمکنار ہوتی ہے ۔

قرآن حکیم سے بھر پور حکمت حاصل کرنے کیلئے یہ امر ضروری ہے کہ اس کی تلاوت کے وقت دل اور دماغ کو حاضر رکھا جائے اور سمع وبصر سے کام لیا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ کوئی معمولی کتاب نہیں پڑھی جارہی بلکہ یہ خالق کائنات کا کلام ہے جو اس نے رسول اکرمﷺ کے ذریعے آپ تک پہنچایا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے : ترجمعہ ” بے شک اس میں عربت ہے اس کیلئے جس کے پاس قلب سلیم ہویا جو کان لگا کر بات سنے اور دل سے حاضر ہو ( قرآن کے بیان کردہ واقعات پر غور وفکر کر سکے ) قرآن حکیم کی محض تلاوت کرنا گو کہ ثواب کاکام ہے لیکن اصل منشائے خداوندی یہ ہے کہ انسان اس کتاب میں مذکور حکمت ودانش اور فلاح کی باتیں غور سے پڑھنے سننے کے بعد ان پر خشوع وخضوع سے عمل کرے۔

Your Thoughts and Comments