Islam Main Gair Muslim K Huqooq

اسلام میں غیر مسلم کے حقوق

اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام دینِ امن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو ، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔

Islam Main Gair Muslim K Huqooq
علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی:
اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام دینِ امن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو ، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔اُن حقوق میں سے پہلا حق جو اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ کی طرف سے انہیں حاصل ہے وہ حقِ حفاظت ہے ،جو انہیں ہر قسم کے خارجی اور داخلی ظلم و زیادتی کے خلاف میسر ہو گا تا کہ وہ مکمل طور پر امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

حضور نبی اکرم نے خطبہ حجة الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت ، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں (مقرر کی گئی) ہے۔

یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔“(بخاری شریف)
لہٰذا کسی بھی انسان کو نا حق قتل کرنا ،اس کا مال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔
غیر مسلم شہریوں کے قتل کی ممانعت:اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم شہری کو قتل کرنا حرام ہے۔کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔”جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین کے (ناحق)قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے ) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔“(المائدہ )اس آیہ کریمہ میں نفساً کا لفظ عام ہے۔لہٰذا اس کا اطلاق بھی عموم پر ہو گا۔ یعنی کسی ایک انسانی جان کے کسی بھی ملک یا علاقے کارہنے والا ہو قطعاً حرام ہے اور اس کا گناہ اتنا ہی ہے جیسے پوری انسانیت کو قتل کرنے کا ہے۔
لہٰذا مسلم ریاست میں آباد غیر مسلم شہریوں کا قتل بھی اسی زمرے میں آئے گا۔
غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے :حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم نے ارشاد فرمایا :”جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو نا حق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اْس پر جنت حرام فرما دے گا۔“(نسائی شریف)
حدیث میں معاہد کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے مراد ایسے غیر مسلم شہری ہیں جو معاہدے کے تحت اسلامی ریاست کے باسی ہوں یا ایسے گروہ اور قوم کے افراد ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدہء امن کیا ہو۔
اسی طرح جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کے شہری جو اْس ریاست کے قانون کی پابندی کرتے ہوں اور آئین کو مانتے ہوں معاہد کے زمرے میں آئیں گے۔ جیسے پاکستان کی غیر مسلم اقلتیں جو آئین پاکستان کے تحت با قاعدہ شہری اور رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ پاکستان کے آئین و قانون کو پاکستان کی مسلم اکثریت کی طرح تسلیم کرتے ہیں یہ سب معاہد ہیں۔پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہریوں کی طرح تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہری تھے اور ہیں۔
اس لئے جدید تناظر میں معاہد کا ترجمہ ہم نے غیر مسلم شہری کیا ہے۔ ( فیض القدیرللمناوی)
غیر مسلم سفارت کاروں کے قتل کی ممانعت:اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن و رواداری کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق بد ترین دشمن قوم کا فرد بھی اگر سفارت کاری کے لئے آئے تو اس کا قتل حرام ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ”میں حضور اکرم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبد اللہ بن نواحہ) اور ایک آدمی مسیلمہ(کذاب) کی طرف سے سفارت کار بن کر آئے تو انہیں حضور اکرم نے فرمایا:کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے (اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے )کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ(معاذ اللہ ) اللہ کا رسول ہے۔
حضور نبی اکرم نے (کمال برداشت و تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے ارشاد )فرمایا:میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ (مگر حضور اکرم نے ایسا نہ کیا اور انہیں جان کی سلامتی دی)۔“(دارمی )غور کیجئے کہ بارگاہ رسالت میں مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں کے اعلانیہ کفر و ارتداد کے باوجود تحمل سے کام لیا گیا ،کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی۔

اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پر امن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزا دے حضور اکرم کا ارشاد گرامی ہے :”کسی امن پسند غیر مسلم شہری کو دوسرے غیر مسلم افراد کے ظلم کے عوض سزا نہیں دی جائے گی۔“(ابو یوسف الخراج)
لہٰذا ایسے دہشت گرد افراد جو انتقاماً دوسری مخالف قوم بے گناہ افراد کو قتل کریں ،ان کا مال لوٹیں اور ان کی املاک تباہ کریں وہ صریحاً قرآنی آیات اور ارشاداتِ نبوی کی مخالفت کرنے والے ہیں۔
اسلام نے دوسروں کا مال لوٹنا بھی حرام قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے :”اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِرشوت “حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم(بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔“ (البقرہ)حضور نبی اکرم نے دوسروں کے مال کو لوٹنا حرام قرار دیا ہے۔
”بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں۔“(بخاری شریف)
غیر مسلم شہریوں کی جانوں کی طرح ان کے اموال کی حفاظت بھی اسلامی ریاست پر لازم ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ دیگر احکام کے یہ بھی درج تھا: ”(تم بحیثیت گورنر شام)مسلمانوں کو ان غیر مسلم شہریوں پر ظلم کرنے ،انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کا مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ غیر مسلم شہری کا مال چرانے والے پر بھی اسلامی حد کا نفاذ ہو گا:اسلام نے مال کی چوری کو حرام قرار دیا ہے اور ا س پر نہایت سزا مقرر کی ہے۔حضور نبی اکرم کے زمانے میں قریش کی ایک مخزومی عورت نے چوری کی تو آپ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا۔
لوگوں نے آپ سے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اُس پر بھی حد جاری کی جاتی۔(بخاری شریف)
حضور سرورِ کائنات نے غیر مسلم شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں کو ظلم و زیادتی سے تحفظ کی ضمانت دے۔ اگر اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم شہری پر ظلم ہو اور ریاست اسے انصاف نہ دلا سکے تو آپ نے قیامت کے روز ایسے مظلوم لوگوں کا وکیل بن کر انہیں ان کا حق دلوانے کا اعلان فرمایا ہے۔
حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:”خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کرو ں گا۔“ (ابو داوٴد ) ان فرامین رسالت مآب کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان معاشرہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن بن جائے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ہر گز تساہل نہ کرے۔

Your Thoughts and Comments