Islami Saal Aur Is Ke Takazey

اسلامی سال اور اس کے تقاضے

دنیا میں جتنے بھی سنین جاری ہیں‘ اکثر شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ اگر سن عیسوی ‘عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی سے شروع ہوتاہے توبکرمی سن ہندو حکمران بکرما جیت کی پیدائش سے تعلق رکھتا ہے۔

islami saal aur is ke takazey

محمدامین الرحمن
دنیا میں جتنے بھی سنین جاری ہیں‘ اکثر شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ اگر سن عیسوی ‘عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی سے شروع ہوتاہے توبکرمی سن ہندو حکمران بکرما جیت کی پیدائش سے تعلق رکھتا ہے۔ علیٰ ھذاالقیاس دیگرسن شخصی یا علاقائی ہیں۔ اسلام کے نزدیک کسی کا کمال پیدا ہونے اورفوت ہونے میں نہیں بلکہ کمال تو اس کے عمل سے واضح ہوتا ہے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی سن کا آغاز ہی نبی کی ہجرت ایسے عظیم عمل کی ہمیشہ کے لئے یاد تازہ کرتے رہنے کی غرض سے کیا تاکہ امت مسلمہ عروج واقبال کے سبق پڑھتی اور زینے چڑھتی چلی جائے۔ حیرت کا مقام ہے کہ ہم نے اسلام کے نام پہ ملک لے لیا لیکن قوم کو جرات سے اتنا بھی نہ بتاسکے کہ ہمارا ملک لیلة القدر کی رات 27ویں رمضان کو منصئہ شہود پر آیا۔

اسلامی کیلنڈر ہمیں تاریخ اسلام کی یادیں تازہ کرنے اورجہاد کے مراحل کی طرف لے جاتا ہے مگر افسوس ! ہم نے اس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ تاریخِ اسلام کے اسباق یاد رکھنا ضروری ہیں۔ ہمارے اسلاف نے جو غلبہ حاصل کیا‘ وہ پیٹ بھرنے سے نہیں بلکہ ایمان و تقویٰ کی اعلیٰ منازل کو پاکر ہی حاصل کیاتھا۔ انہوں نے معیشت کی بجائے دین کو ترجیح دی تو اللہ نے ان کے سارے معاملات ہی درست کردئیے تھے۔
صحابہ رضی اللہ عنھم کا تقویٰ دیکھ لیں کہ ہجرت کرنے والے ہی سرداری کے اہل ٹھہرے۔ ہجرت جہاد کی بنیاد ہے اورجہاد غلبے اور فتح کی ضمانت ہے۔
نبی ﷺ ہجرت کی رات کعبے کے پاس سے گزرتے ہوئے کعبے کو مخاطب کرکے کہتے ہیں ”بیت اللہ مجھے تجھ سے بڑا پیا ر ہے مگر کیا کیاجائے‘ یہاں کے رہنے والے لوگ مسلمانوں کی جان و مال اور عزت کے درپے ہیں۔
“ جب دین کی دعوت کے پھیلا کے سارے امکانات ختم ہوتے نظر آئیں تو پھر ہجرت کا مرحلہ آتاہے۔ہجرت نبوی ہو یا ہجرت صحابہؓ ‘ ہندوستان و افغانستان کے مسلمانوں کی ہجرت ہو یا فلسطین وکشمیر کے ‘ سبھی کا مقصد مسلمان کی جان و مال اورعزت کا دفاع تھا اور ہے۔
محرم کامہینہ۔۔۔۔صبر،ہجرت،عزم،استقامت،اتحاد اورقربانی کاسبق اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔
آیئے اسلامی ہجری سال کے آغازکے موقع پرہم اس بات کا عزم کریں کہ ہم آپس کی لڑائیاں ختم کرکے مکمل اتحاد و اتفاق کامظاہرہ کریں گے،جس طرح رسول اللہﷺ اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم نے ہجرت کرکے یہ بتادیاہے کہ ایک مسلمان کی اولین ترجیح دین ہے ۔جب دین کی بات ہو،اسلامی ریاست کے قیام واستحکام کامعاملہ ہوتومسلمان اپنے گھر،دروالدین عزیزواقارب سب کچھ چھوڑدیتاہے ایسے ہی ہماری اولین ترجیح بھی دین اوردین کے نام پرقائم ہوانے والاپیاروطن پاکستان ہی ہوناچاہئے۔
اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کوسمجھیں،ان پرعمل کریں اوردنیابھرکے مسلمانوں کا درد اپنے اندر پیدا کریں۔ دنیا کے ہر مسلمان کو اپنا بھائی سمجھیں،اس کے دکھ درداورپریشانی میں اس کاہاتھ بٹانے کی کوشش کریں گفتار کے غازی بننے کی بجائے عمل وکردار کے غازی بن کر پوری دنیا سے ظلم کا خاتمہ کردیں کہ پوری زمین اس وقت خون مسلم سے رنگین ہے۔
مقبوضہ جموں کشمیر،فلسطین،برما،افغانستان اوردیگرخطے مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوچکے ہیں۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم غیروں کی غلامی کا جوا اپنے گلے سے اتار پھینکیں۔ مسلمانوں کی اجتماعیت کا خاتمہ ہورہاہے،وجودمٹ رہاہے جبکہ اللہ کو تفرقہ بازی جوکہ مومنین کو کمزور کرنے کا باعث ہے‘ سخت ناپسند ہے۔اللہ فرماتے ہیں ۔”اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو(اس صورت میں) پس تم کمزور ہوجاو گے اورتمہاری ہوا اکھڑجائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
“ اس آیت کی سیدھی سادی تشریح یہ ہے کہ ہم اپنے اندراتحادواتفاق پیداکریں اور انتشارواختلاف سے بچیں۔یہ بات معلوم ہے کہ امت مسلمہ کواگرعروج نصیب ہواتواتحادکی بدولت ہواہے اورآج اگرامت زبوں حالی شکارہے تواس کی وجہ اتحادواتفاق سے اعراض ہے۔پس اسلامی ہجری سال کاآغازہمیں اتحادواتفاق کاسبق بھی دیتاہے۔
قرآن مجیدکی متذکرہ بالاآیت ہمیں واضح طورپرحکم دے رہی ہے کہ ہم آپس میں جھگڑا نہ کریں۔
اس آیت میں صبر کی تلقین کے ساتھ اللہ کی معیت کی خوشخبری ہے۔ قرآن مجید میں 99آیات اس عمل کی عظمت کو واضح کررہی ہیں۔ حرمت والے چار مہینے ازل سے تا قیامت قرار دیئے گئے ہیں۔رجب‘ذوالقعدہ‘ذوالحجہ اور محرم۔ ان میں لڑائی منع ہے البتہ اگر دشمن حملہ کردیں توپھر جواب دینا ضروری ہوجاتاہے۔
محرم میں نو تاریخ کا روزہ ثابت ہے۔ اس سے گناہوں کی معافی ملتی ہے۔
نبی ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہود10محرم کو بنی اسرائیل کی فرعون سے نجات کی خوشی میں روزہ رکھتے ہیں تو آپ ﷺ نے آئندہ سال 9محرم کو روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ اس آزادی کا شکریہ بھی ادا ہوجائے اور یہودکی مخالفت بھی ہوجائے۔ افسوس کہ آج ہمیں آزادی کی کوئی قدر نہیں۔ مسلمان کی مساجد‘ قرآن ‘قبلہ اول اور بیت اللہ کافروں کی دست بُرد کا شکار ہیں ‘ہمیں ان کا کچھ خیال نہیں۔
مسلمان کی عزت اجتماعی زیادتیوں کے نیچے دفن ہورہی ہے۔ آپس کی لڑائی سے سختی کے ساتھ اللہ کے منع کرنے کے باوجود بھی ہم بازنہیں آرہے ایسا کرکے اللہ کے عذاب کو دعوت نہیں دے رہے ہیں ۔ایک ایسے وقت میں جب امت مسلمہ کاپیراہن تارتاراورہرپیراہن کاہربندخون آلودہے ایسے وقت میں ازحدضروری ہے کہ ہم اس راستے پرچلیں جس راستے کاتعین ہمارے لئے اللہ اوراس کے رسول ﷺ نے کیاہے۔
یہ راستہ اختلاف وانتشارسے اعراض اور اتحاواتفاق کاہے ۔اسی میں ہماری کامیابی،عزت اورنجات ہے۔یہ ہماراآزمودہ راستہ ہے ۔اسلام کی ساڑھے چودہ سال کی تاریخ میں مسلمان جب بھی اتحادکے راستے پرچلے کامیابی نے ان کے قدم چومے ہیں ۔خودبرصغیرکے مسلمان1947ءکے موقع پراتحادکی عملی برکات دیکھ چکے ہیں ۔آج جبکہ اسلامی ہجری سال کاآغازہورہاہے اورپاکستان مصائب ومشکلات میں گھراہواہے وقت کاتقاضہ ہے ہم متحدہوجائیں یہی اسلامی ہجری سال کے آغازکاسبق ہے ۔

Your Thoughts and Comments