Jab Tak Rasta Darust Na Ho

جب تک راستہ درست نہ ہو

بنی اسرائیل میں ایک بہت مال دار یہودی تھا‘ اس زمانے میں لوگ اپنی دولت زیر زمین خزانے بنا کر اس میں رکھا کرتے تھے اس یہودی نے خزانے میں سونے چاندی کے انبار اور ڈھیر جمع کئے ہوتے تھے ایک مرتبہ وہ یہودی اپنے خزانوں کا خفیہ طور پر معائنہ کرنے کے لئے گیا اور

Jab Tak Rasta Darust Na Ho
بنی اسرائیل میں ایک بہت مال دار یہودی تھا‘ اس زمانے میں لوگ اپنی دولت زیر زمین خزانے بنا کر اس میں رکھا کرتے تھے اس یہودی نے خزانے میں سونے چاندی کے انبار اور ڈھیر جمع کئے ہوتے تھے ایک مرتبہ وہ یہودی اپنے خزانوں کا خفیہ طور پر معائنہ کرنے کے لئے گیا اور جب اندر گیا تو اس چوکیدار کو بھی اطلاع نہیں کی جس کو وہاں خزانے پر اس نے مقرر کیا تھا تاکہ یہ دیکھے کہ وہ چوکیدار کہیں خیانت تو نہیں کر رہااس خزانے کے دروازے کا سسٹم ایسا تھا کہ وہ اندر سے بند تو ہوتا تھا لیکن اندر سے کھل نہیں سکتا ۔
صرف باہر سے کھل سکتا تھا اب اس نے بے خیالی میں دروازہ اندر سے بند کر لیا اب کھولنے کا کوئی راستہ نہیں تھا باہر چوکیدار تھا وہ یہ سمجھتا رہا کہ خزانہ بند ہے اور اس کے ذہن میں یہ تصور بھی نہیں تھا کہ خزانے کا مالک اندر ہے اب یہ مالک اندر جا کر خزانہ کی تفتیش کرتا را اور جب دیکھ بھال کر تفتیش سے فارغ ہو کر واپس باہر نکلنا چاہا تو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔


اب وہاں پر قید ہے بھوک لگ رہی ہے اور خزانہ سارا موجود ہے لیکن بھوک نہیں مٹا سکتا پیاس ہے اور خزانہ سارا موجود ہے لیکن پیاس نہیں بجھا سکتا رات کو نیند آ رہی ہے اور خزانہ سارا موجود ہے لیکن بستر فراہم نہیں کرسکتا حتیٰ کہ جتنے دن بغیر کھائے پیئے زندہ رہ سکتاتھا زندہ رہا اور پھر اسی خزانے میں اس کا انتقال ہو گیا۔
یہ روپیہ پیسہ اپنی ذات میں انسان کو نفع پہنچانے والی چیز نہیں ہے جب تک کہ نظام درست نہ ہو اور جب تک راستہ درست نہ ہو۔

Your Thoughts and Comments