Jahannum Ka Khauf

جہنم کا خوف

حضرت عبداللہ بن واسان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ایک دن میں بصرہ کی گلیوں میں سے گزر رہا تھا کہ میں نے ایک بچے کو گریہ و زاری کرتے دیکھا اور پوچھا اے بیٹے ! تجھے کس چیز نے رُلایااُس نے جواب میں کہا: جہنم کے خوف نے ۔ میں نے کہا اے میرے بیٹے ابھی توچھوٹا ہے ،پھر بھی جہنم سے ڈرتا ہے۔

Jahannum Ka Khauf
حضرت عبداللہ بن واسان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ایک دن میں بصرہ کی گلیوں میں سے گزر رہا تھا کہ میں نے ایک بچے کو گریہ و زاری کرتے دیکھا اور پوچھا اے بیٹے ! تجھے کس چیز نے رُلایااُس نے جواب میں کہا: جہنم کے خوف نے ۔ میں نے کہا اے میرے بیٹے ابھی توچھوٹا ہے ،پھر بھی جہنم سے ڈرتا ہے ۔
وہ کہنے لگا: اے میرے محترم! میں نے اپنی امی جان کو دیکھا کہ وہ آگ جلاتے ہوئے پہلے چھوٹی لکڑیاں جلاتی ہیں پھر بڑی،تو میں نے پوچھا اے امی جان! آپ پہلے چھوٹی لکڑیاں کیوں جلاتی ہیں اور بعد میں بڑی لکڑیاں کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا،اے میرے بچے ! چھوٹی لکڑیاں ہی بڑی لکڑیوں کو جلاتی ہیں۔
بس اسی بات نے مجھے رُلا دیا۔ میں نے اُس لڑکے سے کہا: اے بیٹے ! کیا تو میری صحبت اختیار کرے گا؟ تا کہ توایسا علم سیکھ جائے جو تجھے نفع دے ۔

اُس نے کہا ایک شرط پر اگر آپ وہ شرط قبول فرمالیں تو میں آپ کی صحبت اختیار کر لوں گا اور آپ کی اطاعت بھی کروں گا۔ میں نے کہا: وہ شرط کیا ہے وہ بولا: اگر مجھے بھوک لگے تو آپ مجھے کھانا کھلائیں گے اور اگر میں پیاسا ہو جاوٴں تو آپ مجھے سیراب کریں گے ،اگر مجھ سے خطا ہو جائے تو آپ مجھے معاف فرما دیں گے ،اور اگر میں مر جاوٴں تو آپ مجھے زندہ کریں گے ۔ میں نے اُس سے کہا اے میرے بیٹے ! میں تو ان کاموں پر قادر نہیں۔ اُس نے کہا اے میرے محترم پھر مجھے چھوڑ دیجیے ،اس لیے کہ میں اس کے دروازے پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں جو یہ سارے کام کر سکتا ہو۔

Your Thoughts and Comments