Jannat Ka Sathi

جنت کا ساتھی

حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا یااللہ ! میرا جنت کا ساتھی کون ہے تو فرمایا فلاں قصائی ․․․․ قصائی کا بتایا نہ کسی ابدال کانہ کسی قطب کا نہ کسی شہید کا نہ محدث کا کہا کہ فلاں قصائی حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوگئے۔

Jannat Ka Sathi
حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا یااللہ ! میرا جنت کا ساتھی کون ہے تو فرمایا فلاں قصائی ․․․․ قصائی کا بتایا نہ کسی ابدال کانہ کسی قطب کا نہ کسی شہید کا نہ محدث کا کہا کہ فلاں قصائی حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوگئے ۔ پھر اس قصائی کو دیکھنے چلے گئے قصائی بازار میں بیٹھا گوشت بیچ رہا تھا شام ڈھلی اس نے دکان بندکی اور گوشت کا ٹکڑا تھیلے میں ڈالا اور گھر چل دیا۔
موسیٰ علیہ السلام بھی ساتھ ہوگئے کہنے لگے بھائی تیرے ساتھ جاؤں گا اس کو پتہ نہیں تھا کہ موسی علیہ السلام ہیں ۔ کہنے لگا آجاؤ گھر گئے اس نے بوٹیاں بنا کر سالن چڑھایا آٹا گونڈھا روٹی پکائی سالن تیار کیا پھر ایک بڑھیا تھی اسے اٹھا کر کندھے کا سہارا دیا۔ سیدھے ہاتھ سے لقمے بنا بنا کر اسے کھلائے اس کا منہ صاف کیا اس کو لٹایا ، وہ کچھ بڑبڑائی موسی علیہ السلام نے پوچھا یہ کون ہے ؟
اس نے کہا کہ میری ماں ہے صبح کو اس کی ساری خدمت کرکے جاتا ہوں اور رات کو آکر پہلے اس کی خدمت کرتا ہوں اب اپنے بچوں کو دیکھوں گا موسی علیہ السلام نے فرمایا یہ کچھ کہہ رہی تھی کہا ہاں جی روز کہتی ہے ، عجیب بات ہے میں روز اس کی خدمت کرتا ہوں تو کہتی ہے اللہ تجھے موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی بنائے ۔

میں قصائی اور موسی علیہ السلام نبی کہاں ؟ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں کی خدمت سے انسان عظمت کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments