Jazeera Numa Arab Per Musalmanoon Ki Dhaak Beth Gaye

جزیرہ نما عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی

مکہ کے مشرکین متواتر خطرہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ مکہ چھوڑ کر مدینہ میں جا بسے ہیں تو وہاں کے حکمران بن گئے ہیں۔ اپنے لوگوں کو جنگ کیلئے تیار رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے جو قافلے تجارت کیلئے شام جاتے ہیں‘

Jazeera Numa Arab Per Musalmanoon Ki Dhaak Beth Gaye
مولانا امیر حمزہ
مکہ کے مشرکین متواتر خطرہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ مکہ چھوڑ کر مدینہ میں جا بسے ہیں تو وہاں کے حکمران بن گئے ہیں۔ اپنے لوگوں کو جنگ کیلئے تیار رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے جو قافلے تجارت کیلئے شام جاتے ہیں‘ راستے میں مدینہ پڑتا ہے وہاں حضرت محمدﷺ کے صحابہ دستوں کی صورت میں گشت کرتے ہیں لہٰذا ہماری تجارت بھی خطرے میں ہے اور مستقبل میں میں بھی ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے۔

چنانچہ اس مقصد کیلئے انہوں نے پروگرام بنایا کہ بہت بڑا تجارتی قافلہ نکالا جائے اور حاصل ہونے والی رقم سے مدینہ کی سٹیٹ کو ختم کر دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے ایک ہزار اونٹ تیار کیا گیا۔ ہر اونٹ اور اونٹنی پر سونے کی ایک ہزار اشرفیوں کا مال لادا گیا۔

یہ قافلہ شام گیا اور شام میں تجارت کرکے اتنا ہی مال لیکر واپس آرہا تھا۔ اس قافلے میں مکہ اور گردونواح کے بڑے بڑے تاجروں کا مال لدا ہوا تھا۔

ابو سفیان اس قافلے کا سربراہ تھا۔
بدر اس زمانے میں ایک بڑی منڈی تھی۔ میں ایک ماہ قبل بدر میں تھا۔ وہاں میں نے اس منڈی کے کھنڈرت دیکھے۔ یہ کوئی دو تین سو دکانیں ہیں جن کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔ ابو سفیان نے اس منڈی میں قافلے کو لیکر آنا تھا اور یہاں بزنس کرکے واپس مکہ کو جانا تھا‘ لیکن اسے بھنک پڑگئی تھی کہ مدینے سے ایک لشکر حضرت محمدﷺ کی قیادت میں چل پڑا ہے جن سے اس قافلے کو خطرہ ہے لہٰذا اس نے اپنے ایلچی مکہ روانہ کئے کہ وہاں سے قافلے کی حفاظت کیلئے فوج روانہ کر دی جائے۔
دوسرا اس نے یہ کیا کہ قافلے کو بحراحمر کے کنارے کنارے چلنے لگا اور ”ارائس“ کے مقام پر آکر قافلے کو ٹھہرا دیا۔
ابوسفیان جب ارائس سے بدر میں آیا تو وہ اس جگہ پہنچا جہاں حضورﷺ کا لشکر پڑاؤ کرکے آگے بڑھ گیا تھا۔ یہاں اونٹوں کے لیدوں میں سے ایک لید ابوسفیان نے اٹھایا۔ اسے دو ٹکڑے کیا تو کھجور کی کٹھلی نکلی۔ اس زمانے میں بدر کے اندر کھجور کے درخت نہ تھے لہٰذا اس نے فوراً کہا کہ یہ یثرب کی کھجور کی گٹھلی ہے اور یہ محمدﷺ کا ہی لشکر ہے۔
یہیں سے واپس ارائس روانہ ہوگیا اور قافلے کو بحفاظت مکہ لے گیا۔
مکہ کے لوگ جو ایک ہزار کا لشکر لیکر قافلے کی حفاظت اور لڑائی کیلئے نکلے تھے‘ انہیں جب معلوم ہوا کہ قافلہ تو بحفاظت مکہ میں پہنچ گیا تو اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اب مسلمانوں کو ختم کرکے دم لیں گے۔چنانچ وہ چلتے رہے۔
ادھر اللہ کے رسولﷺاور صحابہ کو بھی معلوم ہو گیا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے اور یہ کہ مشرکین مکہ جاہلانہ تکبر کا شکار ہوکر مدینہ میں طرف بڑھ رہے ہیں تو اللہ کے رسولﷺ خم ٹھونک کر بدر کے میدان میں جم گئے۔

قرآن نے جسے ”المعدو الدنیا“ کہا ہے‘ اس کا مطلب قریب کا ٹیلہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کا لشکر تھا۔ میں اس جگہ ریت کا ایک پہاڑ دکھ رہا ہوں۔ پتہ چلا کہ 1400 سال سے ریت کا یہ پہاڑ اسی طرح ہے۔ ’العدو القصویٰ“کا معنی دور کا ٹیلہ ہے۔ یہاں مشرکین جمع ہو گئے تھے۔ ریت کے پہاڑ کو ”روی الریحان“ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہے۔
جب ہوا چلتی ہے تو اس پہاڑ سے ایسی ہی آواز آتی ہے۔ محققین بتاتے ہیں کہ اس پہاڑ کے خاتمے پر جو درہ ہے اس جگہ فرشتے نازل ہوتے تھے۔ قرآ ن نے ان کی تعداد ایک ہزار بتلائی ہے۔
بدر شہر میں اب ہم ”مسجد العریش“ میں پہنچے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے رسولﷺ کیلئے ایک چھپر بنایا گیا تھا۔ یہیں اللہ کے رسولﷺ نے دونوں لشکروں پر نظر ڈالی تھی اور ایک ہزار کا جو لشکر تھا وہ ہر طرح کے وسائل سے لیس تھا۔
جب اپنے تین سو تیرہ پر نظرڈالی تو کئی صحابہ بدن سے ننگے اور پاؤں میں جوتے نہ تھے۔ پیٹ روٹی سے خالی تھے۔ ایسی حالت میں حضورﷺ نے اللہ سے دعا کی ”اے اللہ! جومجھ سے وعدہ کیا تھا وہ کہاں گیا۔اپنا وعد پورا کر دے۔ اس آہ و زاری کے بعد حضرت جبریل حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور ایک ہزار فرشتوں کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔
ابوجہل جو بڑے تکبرسے آیا تھا‘ اسے انصار کے دو بچوں معاذ اور معوذ نے گھائل کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو مفسر قرآن ہیں‘ اللہ کے رسولﷺ نے ان کیلئے دعا کی تھی۔ انہوں نے ابوجہل کا سر تن سے جدا کیا اور حضورﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ یہاں کئی گڑھے تھے۔ ایک جو گہرا گڑھا تھا اسے قلیب بدر کہا جاتا تھا۔ اس میں مشرکین کی لاشیں پھینک دی گئیں۔حضورﷺ نے تین دن یہاں قیام فرمایا۔اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا کہ اے مسلمانو! تم تو صرف قافلے کیلئے آئے تھے سپلائی لائن ختم کرنے آئے تھے مگر ہم نے چاہا کہ حق کو اجاگر کر دیا جائے اور باطل کو سرنگوں کر دیا جائے اور کافروں کی جڑ اکھاڑ کر رکھ دی جائے۔ چنانچہ اللہ کا فیصلہ ہوکر رہا۔ یہ پہلا معرکہ تھا جو اس نے مسلمانوں کی دھاک سارے جزیرہ العرب میں بٹھا دی۔

Your Thoughts and Comments