Juma Tul Wida Ki Ahmiat

جمعتہ الوِداع کی اہمیت

سیّدِاوّلین و آخرین، امام الانبیاء نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ترجمہ :لوگو! بلا شبہ تمہاری زندگیوں کے ایام میں تمہارے لیے رحمتوں اور بخششوں کے کچھ جھونکے تمہارے پروردگار کے ہیں، تم ہوش میں رہو اور اپنے آپ کو ان رحمتوں کے خزینوں کے لیے پیش کر دو اور ان کے لیے تیار رہو۔

Juma tul Wida Ki Ahmiat
سیّد محمد وجیہ السِّیما عرفانی چشتی:
سیّدِاوّلین و آخرین، امام الانبیاء نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ترجمہ :لوگو! بلا شبہ تمہاری زندگیوں کے ایام میں تمہارے لیے رحمتوں اور بخششوں کے کچھ جھونکے تمہارے پروردگار کے ہیں، تم ہوش میں رہو اور اپنے آپ کو ان رحمتوں کے خزینوں کے لیے پیش کر دو اور ان کے لیے تیار رہو۔
یہ تیاری کیا ہے؟ یہ کہ ہر شخص اْس روشِ حیات پر قائم رہے جو اْس کے رحیم و رحمن خالق تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہے اور جس کا ایک ایک گوشہ اْس ذاتِ عالی کے ذریعے سارے آفاقِ عالم میں واضح کر دیا ہوا ہے۔رحیم وکریم اللہ پاک کا قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔(النور24:آیت21):لوگو! یہ سب کچھ اْسی اللہ تعالیٰ کے فضلِ عام اور رحمتِ بے پایاں کے ذریعے ہوا ہے ورنہ اس کا رحم اور اس کا فضل نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی ایک بھی کسی صورت بھی پاک دل اور پاک احوال کبھی نہ ہو سکتا۔

یہ بھی اْس تبارک و تعالیٰ کا کس قدر عظیم فضل اور احسان ہے کہ اْس نے ہمیں اپنی رحمتوں کی وسعت کے احوال اور زمان و مکان سے آگاہی عطا فرمائی ہے۔ کعبةاللہ ہے، حضور اکرم کا حرمِ رحمت ہے، روئے زمین پر ہر جگہ مسجدیں ہیں، اللہ کے مقرب بندوں کی عبادت گاہیں ہیں۔ ان سبھی مقامات پر درجہ بدرجہ حق تعالیٰ کے انوار و انعامات کا نزول ہوتا ہے۔ پھر زمان یعنی اوقات کا تعین ہے تو سال بھر کے بارہ مہینوں میں سے چار کو خاص حرمت بخشی گئی ہے۔
قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے(التوبہ9:آیت36):ان میں سے بھی سب سے زیادہ جس ایک مہینے کو خاص نوازشوں کا وقت بنایا گیا وہ رمضان کا مہینہ ہے۔ قرآن حکیم میں رمضان کی بابرکت وسعادت اوقات کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ واضح فرمائی کہ اُنزِلَ فِیْہ القُرانُ(البقرة 2 آیت185) اسی مہینے کی ساعتوں کے تقدس اور عظمت کا ایک احساس اسی بات سے کرنا چاہیے کہ قرآن کریم جیسی وحی حق اللہ کے آخری نبیﷺپر اللہ کی آخری وحی ہے ․․․ (النحل16:آیت89)“ یعنی ہر بات کو نکھار کر واضح کرنے والا وہ قرآنِ عظیم اسی مہینے میں نازل ہوا۔
اس تقدیس کی فضا میں اہلِ ایمان پر روزے فرض کر دئیے۔ کُتِبَ عَلَیکُمُ لِکُلِ شَئیء ْ (البقرة2:آیت183)
رمضان کا پورا مہینہ شعبان کے ختم ہونے سے لے کر شوال کے آغاز ہونے تک، اس پورے مہینے کے روزے بندہٴ مومن کے اندر جو صفات پیدا کرتے ہیں اْن کا کوئی شمار ہی نہیں۔ اپنے مزاج کی فطری ضروریات سے بھی اللہ کی خاطر خود قابو پائے رہنا ، کھانے پینے سے رُکے رہنے کے علاوہ کسی کو گالی نہ دینا، کسی کو درپے آزار نہ ہونا، یہ سب کچھ اس صورت سے ممکن ہے کہ خود مزاج و ضمیر سراسر پاکیزگی میں ڈھل جاتے ہیں اور انتیس یا تیس دن کا یہ مسلسل عمل پوری زندگی کو خیر وبرکت عطا فرماتا ہے۔
اس کے علاوہ رمضان میں شب بیداری، سحرخیزی، اوقات کی پابندی، رات کو تراویح کی شکل میں زائد نمازوں کا اہتمام، پھر قرآن مجید کی تلاوت، خود قرآن مجید پڑھتے رہنا اور حفاظ سے نماز میں قرآن مجید کا سننا یہ ساری کس قدر برکتیں اور نعمتیں ہیں جو رمضان ہی میں حاصل ہوتی ہیں۔ایک اور برکت اسی رمضان میں ہے جو اس کے آخری عشرے میں صرف چند روز ایسی کیفیت میں گزارنا ہے کہ اس عشرے کی طاق راتوں میں اْن ساعتوں کے لیے روزمرہ کی گھریلو مصروفیات سے صرف چند روز کے لیے کنارہ کش رہ کر لیلةالقدر کیلئے بااہتمام عبادت میں مشغول رہا جائے۔
اَنتُم عَکِفُونَ لا فِی المَسجِدِ(البقرة2:آیت187) اس کا مقصد اللہ کے گھروں میں ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ اس طرح رہنا ہے کہ سارا وقت تسبیح و تہلیل بحضور ِسیّدِ کائنات و آلِ پاک درودوسلام اور تلاوتِ کلامِ پاک میں گزرتا رہے۔ ان صورتوں سے پورا رمضان جہاں بھرپور نعمتوں کی تجلیات لیے ہوتا ہے وہاں خود ہمارے شب و روز، ہماری مصروفیات اور ہمارے احوال و کیفیات کا ایک ایسا اسلوب ہمیں میسر آتا ہے کہ ایمان منور ہو اْٹھتا ہے۔
قلب پْرکیف ہوتا اور جب رمضان کے دن ختم ہونے پر آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کیا انوار کے ہالے تھے، کیا رحمتوں کی ساعتیں تھیں کہ ہم جن سے گزرے، پھر یہ بابرکت ساعتیں ایک سال کے بعد عطا ہوں گی۔
اللہ کی بارگاہ میں دل سے شکرانے کے کلمات ادا ہورہے ہوتے ہیں کہ آئندہ رمضان تک بندہ اپنے رب کے شکرانے کی توفیق سے سرشار رہے۔ نظمِ فطرت میں دن تو سارے ہی آتے ہیں اور گزرتے رہتے ہیں۔
یہ راتیں، یہ سحریں، یہ صْبحیں، یہ شامیں، یہ نمازیں، یہ رکوع وسجود، یہ افطار، یہ سحریاں، یہ تلاوتیں، یہ ہر ایک سے سلامِ محبت، یہ کھانے پینے میں ہر ایک کو شریک بنانے کی خواہشیں یہ فطرہ کے صدقات جو انہی دنوں میں غریبوں مسکینوں کو دینے لازم ہیں، یہ اعزا و اقربا سے محبتوں کی ملاقاتیں، یہ دعائیں، مناجاتیں، یہ اللہ کے حبیبِ ازل و ابد کے حضور عرضِ صلوٰة و سلام یہ کیا نعمتیں ہیں اور کیا احوال ہیں۔
یہ رمضان مبارک میں جمعے کے ایام، وہ ساعتیں جن میں ہر التجائے بندگی قبول ہوتی ہے۔ جمعے کی بابرکت ساعتیں جن کے لیے حضوراکرم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعے میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ بندہٴ مومن اس ساعت میں اپنے اللہ کے حضور جو بھی عرض کرتا ہے وہ اْسے قبول فرماتا ہے۔ پھر یہ رمضان کی بابرکت ساعتیں ان کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ سے قبولیت کی نویدیں، حضوراکرم کے ارشادات کے مطابق جمعے کے اندر وہ ساعتیں جن میں اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے لیے اور تمام اہل ایمان کے لیے دعاؤں کے پر پھیلاتے ہیں اور ان کے لیے برکتوں کی جھولیاں پھیلا کر اللہ تعالیٰ سے استدعائیں کرتے ہیں وہ اِس جمعے میں ہیں۔
یہ جمعہ جس میں اب رمضان ختم ہو رہا ہے، یہ آخری جمعہ جسے ہم جمعةالوداع کے نام سے یاد کرتے ہیں، ساری ساعتیں برکت اور قبولیت کی اس کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یہ جمعہ رمضان کا آخری جمعہ ہے۔ قبولِ درِحق کی ساری مستند ساعتیں جمع ہیں۔ ہمارے لئے لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسولِ برحق سے ہم نے قلب و ایمان کے جو پیمان باندھے ہیں اس موقع پر ان کی تکمیل کے عہد کو تازہ رکھیں۔ اپنے لیے، اپنے اقارب کے لیے، گھربار ، رزق و صحت کے لیے اور اپنے ملک و ملت کیلئے دعاؤں کے ساتھ اپنے سمیع و مجیب اللہ کی بارگاہ میں حاضری دیں کہ اسے وہ قبول فرمائے اور ہمیشہ انوار، برکات اور رحمتِ کاملہ میں ہمیں شادوآباد رکھے۔ آمین۔

Your Thoughts and Comments