Khalifa Soum

خلیفہ سوم

سیدنا حضرت عثمان غنی ؓ بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد ہیں آپ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ کے اس خاندان کو یہ منفرداعزاز حاصل تھا کہ

ہفتہ ستمبر

khalifa soum

زمانہ جاہلیت میں قریش کا قوی علم عقاب بہ وقت جنگ اسی قبیلہ کے پاس ہوتا تھا آپ کا سلسلہ نصب پانچویں پشت میں عبدمناف سے آقائے کریم ؐ تک جا پہنچتا ہے آپ کی والدہ کانام اردی بنت کریز ہے اور والد کا نام عفان ہے ۔آپ کی ولادت عام الفیل کے چھٹے برس میں سن عیسوی کے لحاظ سے ۵۷۶ء میں ہوئی آپ نے ابتدائی زندگی میں ہی پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا اور اسی وجہ سے آپ کا شمار قریش کے چند پڑھے لکھے افراد میں ہوتا تھا ۔

ابن عساکر کی روایت کے مطابق میں نے حضرت عثمان غنی سے بڑھ کر کسی کو خوبصورت نہیں پایا آپ دراز قد اور خوبرو تھے آپ کے رنگ میں سفیدی کے علاوہ سرخی بھی تھی آپ کی ریش مبارک گھنی تھی اور جسم کی ہڈیاں مضبوط اور چوڑی تھیں نبی پاک ؐ کے اعلان نبوت کے بعد صرف تین آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا کہ ایک دن حضرت عثمان اپنی خالہ سعدی بنت کریز کے گھر گئے جہاں اللہ کے رسول پاک ؐ کا ذکر اقدس ہونے لگا آپ کی خالہ نے کہا کہ محمد بن عبداللہ ؐ اللہ کے رسولؐ ہیں آپ کے پاس حضرت جبرائیلؑ آتے ہیں اور آپؐ کا پیغام حق اور روشن ہے آپؐ کے دین میں خیر ہی خیر اور آپ کے خلاف جنگ کرنا دنیا و آخرت کی ذلت ہے۔

حضرت عثمان غنیؓ کہتے ہیں کہ یہ باتیں سن کر جب میں اپنی خالہ کے گھر سے باہر نکلا تو میرے دل میں اسلام کی محبت جگہ بنا چکی تھی۔ ایک دن میرے دوست حضرت ابو بکرؓ نے مجھے متفکرپایا تو اس کی وجہ پوچھی میں نے جو باتیں اپنی خالہ سے سن رکھی تھیں وہ ان کو بتادیں یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فوری طور پر ارشادفرمایا کہ اے عثمان !تم فہم و فراست کے مالک ہو حق و باطل تم سے مشتبہ نہیں رہ سکتا اللہ کی قسم تمہاری خالہ نے سچ کہا ہے محمد بن عبداللہ اللہ کے سچے نبی ہیں جنھیں اللہ نے پوری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے تمہاری کیا مرضی ہے کیا تم ان کے پاس جا کر کلام الہی سنو گے غرض صدیق اکبر حضرت عثمان کو لے کر بارگاہ رسالت ؐمیں پہنچے وہاں حضرت علی پہلے سے ہی موجود تھے اللہ کے نبی ؐ نے حضرت عثمان کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اے عثمان تم نے اللہ کی جنت قبول کر لی میں تمہارا اور تمام مخلوق کا رسول ؐہوں نبی کریم ؐ ابھی ارشاد ہی فرمارہے تھے کہ حضرت عثمان غنی نے اسلام قبول کر لیا اور اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کانام چوتھے نمبر پر آتا ہے دعوت اسلام قبول کرنے کے بعد مشرکین مکہ نے آپ کو بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح بہت ستایا آپ پر بے پناہ ظلم وستم کئے مگر آپ کی ایمانی قوت میں ذرہ بھر بھی کمی نہ آسکی ۔
حضرت عثمان غنیؓ کی سیرت طیبہ کا اگر مطالعہ کیا جائے توآپ کی سیرت و کردار پر رشک آتا ہے وہ کون سا خلق اورکون سی صفت جلیلہ نہیں تھی جو آپ میں موجود نہ ہومحبت رسول ؐ کا یہ عالم تھا کہ تمام غزوات میں رسول کریم ؐ کے ہمرکاب ہو کر جانثاری و قربانی کی مثالیں قائم کیں احترام رسول پاک ؐ کا یہ عالم تھا کہ جس ہاتھ سے رسول اللہ ؐ سے بیعت کی زندگی بھر اس ہاتھ کو آپ نے نجاست یا محل نجاست نہیں لگنے دیا آپ کی اتباع رسول ؐ کی یہ کیفیت تھی کہ ہمیشہ اپنے ہر ہر قول وفعل میں رسول اللہ ؐ کی اتباع کرتے تھے حتیٰ کہ ایک دفعہ وضو کرنے کے بعد مسکرائے تو لوگوں نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک مرتبہ رسول پر نور ؐ کو بعد وضو مسکراتے ہو ئے دیکھا۔

اسلام قبول کرنے سے قبل حضرت عثمان غنی کا شمار مکے کے بڑے تاجروں میں سے ہوتا تھا آپ نے تجارت کے سلسلہ میں شام اور دوسرے ملکوں کے سفر بھی کئے تھے اور خاصی دولت کمائی تھی مگر یہ دولت آپ نے اسلام قبول کرنے سے پہلے اور بعد میں دونوں زمانوں میں غریبوں اور مستحقین پر خرچ کی اور نادار لوگوں کی ہمیشہ مدد فرمائی اور اسلام قبول کرنے کے بعد تو آپ نے اپنی تما م دولت ومال اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دیا جب مسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے گئے تو ان کو قلت آب کا مسئلہ درپیش ہوا اور مدینے میں کنواں کا مالک ایک یہودی تھا جو بہت مہنگے داموں پانی فروخت کرتا تھا حضرت عثمانؓ کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ مسلمان انتہائی غربت کے باوجود پانی جیسی اہم اور بہت ضروری چیز مہنگے داموں پر خریدنے پر مجبور ہیں آپ نے وہ کنواں پینتس ۳۵ ہزار درہم میں یہودی سے خریدا اور عام لوگوں جن میں کافر بھی تھے کے لئے وقف کر دیا۔
ہر ایک کو اجازت تھی کہ وہ بغیر معاوضے کے جتنا چاہے پانی بھر سکتا ۔ اسلامی جنگوں میں اور اسلام کی نشرو اشاعت میں آپ نے بے حد خدمت فرمائی اسی لئے حضور پاک ؐ کی طرف سے آپ کو غنی کا لقب ملا اسی طرح غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان غنی ؓ نے حضور پاک ؐ کی خدمت اقدس میں ۱۰ ہزار درہم پیش کئے تاکہ سامان حرب کے علاوہ دیگر جنگی ضروریات پوری کی جاسکیں اللہ کے محبوبؐ حضرت عثمان کی اس فیاضی اور جذبہ ایمانی پر بہت خوش ہوئے ۔
ہجرت کے بعد جب مدینہ میں سخت قحط پڑا تو حضرت عثمان ؓ نے دل کھول کر ضرورت مندوں کی مدد فرمائی ہجرت مدینہ کے بعد جب لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے اور مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا تو مسجد نبوی مسلمانوں کے لئے چھوٹی پڑنے لگی اس میں گنجائش کم تھی جبکہ نمازی زیادہ تھے اس کے پیش نظر مسجد بنوی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کی توسیع کی مد میں تمام اخراجات حضرت عثمان غنی ؓ نے کئے اور اس کی توسیع کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرایاآپ اسلام کی تبلیغ کو کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

آپ کے عقد میں اللہ کے محبوب ؐکی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آئیں اسی لئے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کا لقب ملا ۔آپ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جن کو اللہ کے رسول ؐ نے کامل الحیاء قرار دیا ۔آپ کی شرم وحیاء نہ صرف آپ کو صحابہ کرام جیسی قدسی صفات پاکیزہ جماعت سے ممتاز کرتی ہے بلکہ آپ کی شخصیت کے دیگر نمایاں پہلو بھی ایمانی خصوصیات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں فیاضی تو حضرت عثمان غنی ؓ کی شخصیت کا اتنا نمایاں اور معروف ترین پہلو ہے کہ غنی کالفظ آپ کے نام کا حصہ بن گیا اور آپ عثمان غنی کے نام سے مشہور ہوگئے آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ۶ ہجری میں جب آپ حضور پاک ؐ کے سفیر بن کر مکہ گئے تو کفار نے آپ کو عمرہ وطواف کی پیش کش کی لیکن حضرت عثمان ؓنے حضورپاک ؐ کے بغیر عمرہ وطواف کرنے سے انکار کر دیا آپ نے کفار کے اصرار پر فرمایا کہ ادھر بیت اللہ ہے تو ادہر حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ہیں اور بیت اللہ کے طواف کا لطف رسول اللہؐ کے بغیر نا ممکن ہے۔
حضرت عثمان غنی ؓ کو رسول پاکؐ سے بہت ہی محبت تھی ایک مرتبہ سرکار ؐ کے گھر میں چار دن سے پے در پے فاقے آگئے آپ ؐ اور آپکے اہل بیت کی بھوک سے حالت عجیب ہو گئی جب حضرت عثمان ؓ کو خبر ملی تو آپ نے کئی آٹے کے بورے ،چھوارے ،بکری کا گوشت ،ور تین سو درہم بھیجے ساتھ ہی بہت سا بھنا ہوا گوشت اور روٹی تیار کروائی اور بھجوائی اس موقع پر اللہ کے محبوب کریم ؐ نے ان کو جو دعائیں دیں وہ بے مثال ہیں اسکے علاوہ آپ نے مسلمان فوجیوں کے لئے بھی رسد اور سازوسامان پیش کیا ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے اور ایک ہزار دینار بھی نقد دئیے آپ نے مدینے کے قریب تھوڑے فاصلے پر مدری کے مقام پر ایک بند بھی بنوایا جس سے خیبرکی جانب نشیب کے باعث شہر میں داخل ہونے والے سیلاب کے پانی سے مدینے کی آبادی محفوظ ہو گئی حضرت عثمان غنی کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کو قرآن مجید کی ایک قرات پر جمع کرنا ہے اگرچہ حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں قرآن مجید کی کتابی شکل میں تدوین ہو چکی تھی لیکن اس کی اشاعت نہیں ہو سکی تھی حضرت عثمان کے زمانہ میں الفاظ کے تلفظ میں کچھ اختلافات سامنے آئے جو بعد میں شدید ہو گئے آپ نے صحابہ کرامؓ کے مشورے اس کو حل کرا یا آپ نے عہد صدیقی کا مدون شدہ قرآنی نسخہ جو ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس موجود تھا جسے حضور پاکؐ نے خود مرتب کرایا تھا منگوایا اور اس اصول پر قرآن جمع کیا ۔
اس کی سورتوں کی ترتیب نسخے کے مطابق مسلّم قرارپائی آپ نے اس نسخے کی نقول تیار کروا کے اسلامی ملکوں میں بھجوادیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ دن کے وقت کار خلافت میں مصروف رہتے تھے اور پوری رات عبادت میں بسر فرماتے حتی ٰ کہ آپ ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرمادیتے تھے۔ زہد وتقویٰ کا یہ عالم تھا کہ غیر معمولی دولت مند اور خلیفہ ہونے کے باوجود کبھی امیرانہ طرز زندگی اختیار نہ فرمایا اور نہ ہی کبھی زیب و زینت کی چیزیں استعمال کیں حتیٰ کہ اپنے دور خلافت میں مقررہ شدہ وظیفہ بھی بیت المال کے لئے وقف فرمادیا اور آپ کی تواضع اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ اتنے غلام اور لونڈیاں ہونے کے باوجود اپنا کام خود کیا کرتے۔

Your Thoughts and Comments