Khana Kaba

خانہ کعبہ

اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا

Khana Kaba
کاشفہ ناز:
یمن وحبشہ کابادشاہ ” ابرہہ “ نے شہر صنعاء میں ایک گرجا گھر بنایاتھا اور اس کی خواہش تھی کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ کے بجائے صنعاء میں آئیں اور اسی گرجا گھر کا طواف کریں اور یہیں حج کامیلہ ہوا کرے۔ عرب خصوصاََ قریشیوں کو یہ بات بہت شاق گزری ۔ چنانچہ قریش کے قبیلہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے آپے سے باہر ہوکر صنعاء کاسفر کیا اور ابراہہ کے گرجا گھر کے درودیوار کونجاست سے آلودہ کر ڈالا۔
اس حرکت پرابرہہ بادشاہ کو بہت طیش آیاا ور اس نے کعبہ کو ڈھادینے کی قسم کھالی اور اس ارادہ سے اپنا لشکر لے کر روزانہ ہوگیا۔ اس لشکر میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش روایک بہت بڑا پیکر ہاتھی تھا ابرہہ نے اپنی فوج لے کرمکہ مکرمہ پرچڑھائی کردی اور اہل مکہ کے سب جانوروں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

جس میں عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے۔ عبدالمطلب حضور ﷺ کے دادا ہیں۔

خانہ کعبہ کے متولی اور اہل مکہ کے سردار اور نہایت رعب دار شخصیت کے مالک تھے ۔
حضرت عبدالمطلب ابراہہ کے پا س آئے تو ابراہہ نے ان کی بہت تعظیم کی اور آنے کا مقصد پوچھا تو آپ نے فرمایا۔تم میرے اونٹوں کو واپس کردو۔ یہ سن کر ابراہہ نے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ میں تو تمہارے خانہ کعبہ کو ڈھانے کیلئے فوج لے کرآیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا نہایت مقدس ومحترم مقام ہے ۔
آپ نے اس کے بارے میں تومجھے کچھ نہیں کیا۔ صرف اپنے اونٹوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنے اونٹوں کا ہی مالک ہوں اس لئے اونٹوں کا کہہ رہا ہوں اور کعبہ کا جومالک ہے وہ خود اس کی حفا ظت فرمائے گا مجھے اس کی کوئی فکر نہیں۔ ابرہہ نے آپ کے اونٹوں کو واپس کردیا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے قریش سے فرمایا کہ تم لوگ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں پر پناہ گزین ہو جاؤ۔
چنانچہ قریش نے آپ کے مشورہ پرعمل کیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کا دروازہ پکڑکر بار گاہ الٰہی میں کعبہ کی حفاظت کیلئے خوب رورد کردعا مانگی اور دعا سے فارغ ہو کر آپ بھی اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے ۔
ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکروں کو لیکر کعبہ مقدمہ پر دھا وابول دیا۔ اور ہاتھیوں کو چلنے کا حکم دیا۔ لیکن ہاتھیوں کا پیش روکعبہ کی طرف نہ چلاجس طرف اس کو چلاتے تھے چلتا تھا۔
مگر خانہ کعبہ کی طرف جب اس کو چلانے کی کوشش کرتے تو وہ بیٹھ جاتا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے ابابیلوں کا لشکر بھیج دیا اور ہرپرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں۔ ابابیلوں کے اس لشکر نے ابرہہ کی فوجوں پر اس قدر سنگباری کی کہ ابراہہ کی فوج بدحواس ہو کر بھاگنے لگی۔ حالانکہ کنکریاں تو چھوٹی چھوٹی سی تھیں لیکن دراصل وہ قہرالٰہی کے پتھر تھے کہ جب پرندے ان کنکریوں کو گراتے تو وہ سنگریزے سواروں کے جسم کو چیر کر ہاتھی کے بدن کو چھیدتے ہوئے زمین پر گرتے تھے ۔
اس طرح ابراہہ کا پورالشکر ہلاک وبرباد ہوگیا۔
یہ واقعہ جس سال وقوع پذیر ہو ااس سال کو اہل عرب ” عام الفیل “ یعنی ہاتھی والا سال کہنے لگے اور واقعہ سے پچاس روز بعد حضور ﷺ کی ولادت ہوئی۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرماتے ہوئے ” سواة الفیل “ نازل فرمائی ۔

Your Thoughts and Comments