Kia Gustakh E Rasool Ko Riyasat K Ilawa Koi Aur Qatal Kar Sakta Hai

کیا گستاخ رسول کو ریاست کے علاوہ کوئی فرد قتل کر سکتا ہے؟

مختلف مکاتب فکر کے علماء کی رائے

Kia Gustakh e Rasool Ko Riyasat K Ilawa Koi Aur Qatal Kar Sakta Hai

اس بات پرتمام علماء کا اتفاق ہے کہ گستاخ رسول کو سزا کوئی بھی شخص خود سے نہیں دے سکتا۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کی رائے بھی یہی ہے کہ گستاخ رسول کو کوئی بھی شخص انفرادی طور پر سزا نہیں دے سکتا۔
بریلوی مکتب فکر کے عالم دین مولانا ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کا موقف اُن کے ایک بیان سے واضح ہوتا ہے۔ انہوں نیا پنے بیان میں کہا کہ ”اگر بالفرض میں کہہ رہا ہوں ، اگر ایسا بولا(یعنی گستاخی کی)یہ ثابت ہوجائیاس کے باوجود بھی کسی ایک سویلین اور انفرادی شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔

اسلام اجازت نہیں دیتا۔اگر وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر قتل کرے گا، وہ قاتل تصور کیا جائے گا، اس کی سزا موت ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرائل کرے اور شہادتوں سے جو سزا بنتی ہے وہ دے، یہ انفرادی شخص کو حق نہیں ہے، مگر یہ ایسی صورت بن گئی ہے کہ گویاایک انتہا پسندی ایک پورا نفسیاتی مرض بن گیاہے، جو بدقسمتی سے ہماری پوری قوم پر چھاتا چلا جارہا ہے۔

“ انہوں نے بے شمار لوگوں اور مذہبی عناصر کو لوگوں کو اشتعال دلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
دیو بندی مکتب فکر کے عالم دین مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب کا موقف اس حوالے سے کچھ اس طرح ہے کہ ”کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اس پر سزا جاری کرے ،قتل کی۔قانوکو ن ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی ہے۔ جائز نہیں ہے کسی کے لیے کہ وہ اُس کو قتل کرے۔

اہل حدیث مکتب فکر کے عالم دین شیخ توصیف الرحمنٰ سلفی صاحب اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ ”قاضی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے سامنے اس مجرم کو پیش کیا جائے۔اس گستاخ رسول کو پیش کیا جائے۔اس کی گستاخی ثابت ہو، علماء بیٹھ کر اُس کے جملوں کو سنیں۔اگر وہ واقعی گستاخ ہے تو قاضی اس کا خون، اس کا قتل جائز قرار دے گا اور وقت کا مسلمان حاکم اس کو قتل کرے گا۔
“ انہوں نے مزید کہا کہ”اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ (مسلمان حاکم) قتل نہ کرے تب بھی وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ آپ سے سوال نہیں ہوگا۔“ انہوں نے آج کے دور کے حوالے سے کہا کہ اگر آج افراد کے لیے گستاخ کو سزا دینے کا دروازہ کھول دیا جائے تو یہاں تو گستاخ رسول کا جملہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگوں نے کسی سے پیسے لینے ہوں تو وہ خود ہی قرآن کے اوراق جلا کر دوسرے کے گھر پر رکھ دیتے ہیں اور شور مچا دیتیہیں کہ یہ توہین رسالت کر رہا ہے، یہ گستاخ رسول ہے، اس نے قرآن پاک کو جلایا ہے، اس پر پورا گاوٴں نکلتا ہے اور انہیں مار مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔
انہوں نے سیالکوٹ کے حفاظ بھائیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا اُن کی بات بھول گئی، جن کی لڑائی کسی بات پر ہوئی اور اُن کو رنگ کوئی اور پہنا کر گھسیٹ گھسیٹ کر مار دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر افراد کو گستاخ کو سزا دینے کا حق دے دیا جائے تو اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ بولا جانے والا جملہ گستاخی ہے یا نہیں؟ یہ کس عالم سے فتویٰ لیا گیا ؟ یہ کس عالم کے سامنے پیش ہوا؟ اس پر کس قاضی نے یہ فیصلہ دیا کہ اس کا یہ جملہ توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟
بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور دعوت اسلامی کے امیر مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب کا اس حوالے سے کہا ہے کہ کوئی کیسا ہی جرم کرے، مثلاً کوئی سرکار کی گستاخی ہی کیوں نہ کر لے، معاذ اللہ، تو شریعت اس کو بھی خود قتل کردینے کی اجازت نہیں دیتی۔

انہوں نے بہار شریعت اور فتاویٰ رضویہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاضی اسلام گستاخ کو قید کرے گا، اس پر اسلام پیش کرے گا، اس کو توبہ کے لیے سمجھایا جائے گا۔ علماء اس کو سمجھائیں گے۔جس کے بعد آخری سزا پر عمل درآمد ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تو لوگ بات بات پر گستاخ رسول بول دیتے ہیں، جس کی جو سمجھ میں آتا ہے گستاخ رسول ہے۔

www.youtube.com/watch

Your Thoughts and Comments