Kun Fayakoon

کن فیکون

اللہ تعالیٰ انہونی کو ہونی کیسے کرتا ہے حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعات

Kun Fayakoon
اللہ تعالیٰ اس کائنات خالق ومالک ہے۔وہ جب اس کا ئنات میں تصرف کا ارادہ فرماتا ہے تو بس اتنا کہتا ہے، کسن “یعنی ہو جاپس وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ العزت کو کوئی کام کرنے کے لیے نہ تو ہماری طرح تگ ودو کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی وہ ہم انسانوں کی طرح ذرائع کا محتاج ہے۔اسی طرح دوپیغمبروں کے واقعات ہی جن کے ہاں اولاد ہونے کے ظاہری اسباب نہیں تھے اور جب وہ پوری طرح سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں کیسے بہترین اولاد سے نوازاان میں سے پہلا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی شادی حضرت سارہ علیہا السلام سے ہوئی تھی اور کئی سال گزرنے کے باوجوان دونوں کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شادی کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں اولاد نرینہ سے نوازا۔


حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور حضرت سارہ علیہ السلام بھی بانجھ تھیں تو ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے ۔

وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے بالکل اجنبی تھے۔مہمان نوازی کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سے نظر بچا کر ایک بچھڑا بھون کر لے آئے اور ان سے کھانے کے لئے اصرار کرنے لگے لیکن انھوں نے کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بات سے بہت پریشان ہوئے تو انھوں نے کہا کہ ہم انسان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ کو بیٹے کی خوشخبری دینے آئیں ہیں۔
حضرت سارہ علیہا السلام دروازے کی اوٹ میں کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں ۔بیٹے کی خوشخبری سن کر بے اختیار اپنے سر کو ہاتھ مار ا اور کہاکہ میں بانجھ ہوں بھلا میرے ہاں اولاد کیسے ہوگی ؟ فرشتوں نے کہا کہ تمھارے رب کا یہی فیصلہ ہے کہ اس عمر اور بانجھ پن کے باوجود تمھارے ہاں بیٹا ہوگا چنانچہ ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت عرصے بعد بیٹا عطا فرمایا جن کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام رکھا گیااور انہی سے بنی اسرائیل کا سلسلہ آگے بڑھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام بھی انہی کے بیٹے تھے۔ دوسرا واقعہ حضرت زکریا علیہ السلام کا ہے جو حضرت مریم علیہاالسلام کے خالو تھے اور جس وقت حضرت علیہ السلام ہیکل میں گوشہ نشین تھیں تو حضرت زکریا علیہ السلام ہی ان کے سارے معاملات کو دیکھتے تھے۔ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہاالسلام کے پاس تشریف لائے اور انھیں بہت سمجھ داری کی باتیں کرتے دیکھاتو ان کے دل میں بھی اولاد کی خواہش جاگی حالانکہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور ان کی بیوی بھی بانجھ تھیں مگر اللہ تعالیٰ کے نبی اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی رب تذرنی فرداوانت خیر الوارثین“ اے اللہ مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث عطا کرنے والا ہے ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام عبادت کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ آیا اور اس نے انھیں بیٹے کی خوشخبری دی۔اس مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام کو لگا جیسے یہ ان کا وہم ہو کیونکہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ ہمیشہ اپنے بندوں پر رہتی ہے اور وہ اپنے بندوں کی ہر دعا کو سنتا ہے۔
جتنے یقین سے کوئی دعا مانگتا ہے اس کی دعا قبول کی قبولیت کے اتنے ہی قوی امکانات ہوتے ہیں۔ان کی بیوی بھی بانجھ ہے تو پھر بھلا اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ فرشتے نے کہا کہ یہ آپ کے اللہ کا فیصلہ ہے اور ایسا ہی ہوگا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ آپ تین دن تک کسی سے بات نہ کرسکو گے سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے چنانچہ ایساہی ہوا ور اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ پن کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں بیٹے کی نعمت سے نوازا جو بعد میں بہت بڑے پیغمبر بنے اور بنی اسرائیل کی اصلاح کرتے رہے۔
ان کا اور حضرت عیسی علیہ السلام کا زمانہ تقریبأٴ ایک ہی ہے۔
ان دونوں واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے وہ ارحم الراحمین ہے ۔اللہ تعالیٰ کی نگاہ ہمیشہ اپنے بندوں پر رہتی ہے اوروہ اپنے بندوں کی ہر دعا کو سنتا ہے ۔ جتنے یقین سے کوئی دعا مانگتا ہے اس کی دعا کی قبولیت کے اتنے ہی قومی امکانات ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا میرے بندے جب میرے بارے میں پوچھیں تو ان سے کہو کہ میں ان سے قریب ہوں ۔ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments