Mujaddad Aeen Mustafa Hazarat Imam Jaffer Sadiq

مجدد آئین مصطفی ؐحضرت امام جعفر صادق

امام جعفر صادق علم حدیث و روایت کے مختلف شعبوں کے موسس قرارپائے جنہیں منظم کرنے کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا ۔چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔

Mujaddad aeen mustafa hazarat imam Jaffer Sadiq

آغا سید حامد علی شاہ موسوی
تاریخ اسلام میں صاحبان علم کا نام آتے ہی جو نام جگمگانے لگتے ہیں ان میں مدینۃ العلم ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،باب مدینۃ العلم حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے بعد نمایاں ترین نام امام جعفر صادق علیہ السلام کا ہے۔عالم اہلسنت ملا جامی ؒ شواہد النبوۃ میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق ؑ کے علوم کا احاطہ فہم و ادراک سے بلند ہے۔


امام جعفر صادق علیہ السلام نے 17ربیع الاول80ہجری میں مدینہ النبی ؐ میں صفحہ ارضی پر قدم رکھا ۔آپ کے والد امام محمد باقر ،دادا امام زین العابدین ؑ ابن امام حسین ؑ تھے ۔آپ کے والد گرامی امام محمد باقر سانحہ کربلا کے عینی شاہدتھے۔ امام جعفر صادق ؑ کی کنیت ابو عبداللہ‘ابو اسماعیل ‘ابو موسیٰ اور القاب صادق‘فاضل ‘طاہر ‘منجی زیادہ مشہور ہیں۔


آپ کی والدہ بزگوار کا نام نامی فاطمہ اور کنیت ام فروہ بنت قاسم بنت محمد بن حضرت ابو بکرؓ تھیں۔آپ اپنے زمانے کی خواتین میںبلند مقام رکھتی تھیں۔اسی لیے امام صادق کا فرما ن ہے کہ میری والدہ با ایمان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ‘اچھے کام کیے اور اللہ اچھے کام کرنیوالوںکو محبوب رکھتا ہے ۔امام جعفر صادق ؑ کے نانا قاسم بن محمد ابن ابوبکر ؓ مدینہ کے سات فقہا میں شامل تھے۔

امام جعفر صادق نے مدینہ منورہ میںایک عظیم حوزہ علمیہ کی تاسیس فرمائی جس کے مختلف مدارس میں لا تعداد افراد علوم فنون اسلامی کے گونا گوں شعبہ جات میں مصروف درس و تدریس تھے۔صرف کوفہ کی مساجد میں امام جعفر صادق ؑ کے حوزہ علمیہ سے منسلک ہزارہا طلاب فقہ اور معرف علوم اسلامی میں مصروف تھے جو امام کے بیانات ‘فرمودات کی تکرار کرتے اور انکے بارے میں تحقیق اور بحث و تمحیص فرماتے۔
امام جعفر صادق علم حدیث و روایت کے مختلف شعبوں کے موسس قرارپائے جنہیں منظم کرنے کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا ۔چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔جن علوم کی تعلیم آپ کی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔
آپ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی ۔مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں
احادیث و معرف دین و شریعت میںامام جعفر صادق کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربع کا منبع و مدرک ہیں۔امام جعفر صادق کے گراں قدر‘بیانات‘فرمودات‘ارشادات نے جہالت اور گمراہی و ضلالت کے پردوں کو چاک کردیا۔
آپ نے پیغمبر اسلام کے الہامی و آفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگ پھر سے دین و شریعت سے روشنا س ہونا شروع ہوگئے۔اسی بناء پر دنیا امام جعفر صادق کو آئین مصطفوی کا مجدد گردانتی ہے۔فقہ جعفریہ آپ ہی سے نسبت رکھتی ہے۔
امام جعفر صادق علماء دانشوروں اور مورخین کی نظر میں :
امام جعفر صادق علیہ السلام علم و فضل کے جس درجے پر فائز تھے اس حوالے سے دنیا کے بعض دانشوروںمورخین اور علماء کے اعترافات پیش کرتے ہیں
جھک رہی ہیں گردنیں دانشوران خلق کی کتنے ملکوں کتنی قوموں تک ترا پہنچا پیام
شیخ عبدالرحمن سلمی نے کتاب طبقات مشائخ صوفیا میں لکھا ہے ’’ امام جعفر صادق اپنے تمام ہم عصروں سے افضل تھے۔
دین کے لحاظ سے علم کثیر کے حامل اور دنیاوی اعتبار سے زاہد کامل تھے۔خواہشات نفسانی سے رکنے کا آپ کو ملکہ تامہ حاصل تھا اور حکمت و دانائی و کمال ادب کے مالک تھے۔
صاحب ینابیع المودۃ رقم کرتے ہیں کہ ’’ امام جعفرصادق وسیع العلم و کثیر الحلم تھے۔آپ کے فضائل و مناقب و مراتب کا حصارممکن نہیں۔
ڈاکٹر حامد حفنی جو عربی ادب کے استاد گردانے جاتے ہیں ایک کتاب کے مقدمہ میںلکھتے ہیں کہ
’’20سال سے زیادہ زمانہ بیت گیا میں تاریخ ‘فقہ و علوم اسلامی کی ترتیب کررہا ہوںخانوادہ کرامت نبویؐ کے طاہر فرزند حضرت امام جعفر صادق کی نمایاںترین شخصیت نے مجھے خاص طورپر اپنی جانب متوجہ کیا ۔
میں اس نظریے پر پہنچا ہوں کہ آپ علوم اسلامی کے موجد اور موسس رہنمائوں میں سے ایک ہیں۔آپ ؑ اولین متعہدو مسئول و ذمہ دارمتفکرین میں سے ہیں جو ہمیشہ سب دانشمندان تشیع و تسنن کیلئے مورد توجہ رہے اوررہیں گے۔
امام مالک بن انسؒ اہل سنت کے معروف امام الحدیث فرماتے ہیں کہ ’’جس زمانے میں میں امام صادق کے ساتھ آمد و رفت رکھتا تھاحضرت کو تین حالتوں میں سے ایک میں پاتا تھا۔
نماز پڑھ رہے ہوتے یا روزہ کی حالت میں یا تلاوت کلام میں مشغول۔میں نے علم دانش اور بندگی کے لحاظ سے امام جعفر صادق سے بہتر‘بہ صلاحیت اور بہ استعداد کسی شخصیت کو نہیں پایا‘‘(تہذیب ج2)
ہر مفکر تیرے افکار حسین میں کھو گیا تیرے دم سے از سر نو دین زندہ ہوگیا
مکتب اہلسنت کے امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے امام جعفر صادق سے زیادہ فقیہہ کسی کو نہیں دیکھا‘‘(مناقب ابوحنیفہ )
امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول مشہور ہے۔
'' کہ اگر میری زندگی کے وہ دو سال نہ ہوتے جو میں نے امام صادقؑ کیخدمت میں گزارے تو میں ہلاک ہو جاتا۔ ''
علامہ ابن ِ حجر مکی نے صواعق محرقہ میںبیان کیاہے کہ '' تمام بلادِ اسلامیہ میں ان کے علم و حکمت کا شہرہ تھا۔ ''
ابن ابی العوجہ معروف و مشہور مناظر اعتراف کرتے ہیں کہ’’ اگر روئے زمین پر کوئی روحانی فرد وجود رکھتی ہے جو کبھی بشر کی صورت میں جلوہ گر ہوجاتی ہے تو وہ جعفر ابن محمد ہی ہیں‘‘۔
(ملل و نحل شہرستانی)
حسن وشاء مشہور اسلامی خطیب کہتا ہے کہ’’ میں نے مسجد کوفہ میں نو سو سے زائد اساتذہ کو دیکھا جو سب کے سب کہہ رہے تھے قال قال امام جعفر الصادق یعنی امام جعفر صادق نے یہ فرمایا یہ فرمایا۔(مجالس سید امین)
مولف کتاب قاموس الاعلام مسٹر ش سامی دائرۃ المعارف ج3میں لکھتے ہیں کہ جعفر ابن محمداہلبیت کے بارہ اماموں میں سے ایک ہیں۔
آپ کی ماد ر گرامی قدر حضرت امام فروہ بنت قاسم بن محمد ابن ابی بکر ہیں۔۔۔۔آپ امام محمدباقرؑ کے بڑے فرزند تھے۔علم و فضل میں یکتائے روزگار تھے۔آپ کے دروس میں امام ابو حنیفہ ؒنے زانوئے ادب تہہ کیا ہے۔‘‘
علامہ شہر ستانی کے بموجب '' امام جعفر صادق علم دین وادب کا سرثمہ ، حکمت کا بحر ذخار ، زہد و تقویٰ میں کامل اور عبادت وریاضت میں بلند پایہ رکھتے تھے۔
''
علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں رقمطراز ہیں کہ’’ حضرت امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد ہی سہی لیکن امام جعفر صادق کے شاگر دتھے۔‘‘
پطرس بوستانی دائرۃ المعارف میں کہتا ہے کہ’’ جعفر ابن محمد الصادق فرزند زین العابدین ؑ ( امام باقر ) کے پسر اور سادات و بزرگان اہلبیت ؐ میں سے تھے۔آپ صادق کے لقب سے اس لیے ملقب تھے کہ صدق گفتارتھے۔
آپ کی فضیلت عظیم تر تھی ۔آپ علم الجبرہ اور کیمیاء میں نظریات رکھتے تھے۔‘‘
مسیح عالم عارف ثامر استاد دانش کدہ مباحث شرقی قاہرہ رقمطراز ہے ’’ جو شخص بے غرض غیر متعصب ہوکر امام جعفر بن محمد الصادق کی شخصیت کے بارے میںجدید علمی اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصبات سے بے نیاز ہوکر علمی و حقیقی تحلیل و تجزیہ میں مشغول ہوگا تو اس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بات کااعتراف کرے کہ امام کی شخصیت ایسا فلسفی مجموعہ ہے جسے اپنے اوپر اعتماد و بھروسہ ہے جو بہت سے نظریات‘خیالات ‘فکریات کا سرچشمہ ہیں جو نئے افکار و خیالات و جدید احکامات کے نہ صرف موسس ہیں بلکہ نئی نئی راہیں دکھائی ہیں‘‘
طلحہ شافعی فرماتے ہیں ’’آپ اہلبیت کے عظیم فرد تھے اور مختلف علوم کے مکمل ماہر تھے قرآنی مطالب کا سرچشمہ تھے بحر علم اور مظہر عجائب تھے ‘‘
کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی نے اپنی کتاب ''مطالب السؤل'' میں امام کے متعلق لکھا ہے۔
''زمین نے کسی فقیہ کو نہ اٹھایا۔ آسمان نے کسی فقیہ پر سایہ نہ کیا جو جعفر (ع) صادق سے بڑھ کر فقیہ ہو انہوں نے اپنے علم دانش سے دوسروں پر فیوض کی بارش کی۔ ان کے علم اور اخلاق سے صفاتِ انبیاء عیاں تھیں۔''
ابن خلکان کہتے ہیں ’’آپ سادات اہلبیت میں سے تھے اور آپ کی فضیلت کسی بیان کی محتاج نہیں ‘‘ اسی طرح بیان کرتے ہیں ’’حضرت امام جعفر صادق کے مقالا ت علم کیمیا اور علم جفر و فال میں موجود ہیں اور جابر بن حیان صوفی طرطوسی آپ کے شاگر تھے جنہوں نے ایک ہزار صفحات کی کتا ب مرتب کی ‘‘
ابن شلبنجی کہتے ہیں ’’آپ سے یحیی بن سعید،ابن جریح ، امام مالک ،امام سفیان ثوری ،سفیان بین عیینیہ ،ابو حنیفہ ،ایوب جیسے آئمہ حدیث نے حدیث اخذ کی ہے ‘‘
انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے ’’ استاد اعظم جابر بن حیان بن عبد اللہ کوفہ میں پیدا ہوا،امام باقر اور امام جعفر صادق کے فیض صحبت سے خود امام ہو گیا‘‘
علامہ فرید وجدی دائر ۃ المعارف القرآن الرابع عشر میں رقم طراز ہیں کہ ’’جابر بن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کو جمع کرکے ایک ہزار صفحہ کی کتاب تالیف کی تھی ‘‘فرید مولف دائرۃ المعارف مزیدلکھتا ہے ’’ جعفر ابن محمد کے علم و دانش کاگھر روزانہ جید علماء سے بھر جاتا تھا ۔
وہ علماء و دانشمند علم حدیث‘تفسیر‘کلام و فلسفہ کے حصول کے خواہشمند تھے۔ آپ کے حلقہ دروس میں مشہورومعرف علماء میں سے اکثر و اغلب اوقات میں تین ہزار اور کبھی کبھی چار ہزار افراد تک شرکت فرماتے تھے۔‘‘
امام جعفر صادق ؑ کی کرامات بھی لاتعداد ہیں جن سے شیعہ سنی کتب بھری پڑی ہیں ۔سائنسی انکشافات کے علاوہ بیماریوں کے حوالے سے امام جعفر صادق ؑ کے انکشافات کو سائنس آج تسلیم کر چکی ہے ۔
امام جعفر صادق ؑ نے سب سے پہلے یہ انکشاف کیا کہ بعض روشنیوں کے ذریعے بیمار انسانوں سے بیماری صحت مند انسانوں میں منتقل ہوتی ہے ۔سوویت یونین میں 20ہزار تجربات کے بعد اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ بغیر کسی کو مس کئے روشنی کے ذریعے بھی بیماریاں منتقل ہو سکتی ہیں ۔روشنی کے حوالے سے جو نظریہ امام جعفر صادق ؑ نے پیش کیا کہ بہت دور موجود چیز سے منعکس ہونے والے روشنی کا بہت کم حصہ آنکھ تک پہنچتا ہے اگر کسی آلہ کی مدد سے تمام روشنی کو آنکھ تک پہنچایا جائے تو دور کی چیز نزدیک نظر آئے گی اسی نظریہ کو امام کے شاگردوں نے دنیا بھر میں پھیلایا اور صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں پہنچ گیا ۔
یورپی محقق بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر امام جعفر صادق یہ نظریہ پیش نہ کرتے تو گلیلیو اور لپرشی فلکی دوربینیں ایجاد نہ کر پاتے ۔
امام جعفر صادق ؑ ہی وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی اشیا سے آنکھوں میں آتی ہے نہ کہ آنکھوں سے اشیا کی طرف ۔کسی چیز کے نظر آنے کیلئے اس کا روشن ہونا ضروری ہے یا اس پر کسی دوسری چیز کی روشنی کا پڑنا۔
امام جعفر صادق ؑ نے ہی اپنے ایک درس میں فرمایا تھا کہ طاقتور نو ر سے بھاری چیزوں کو حرکت میں لا سکتا ہے جیسا طور سینا پر اللہ کی مشیت سے موسی ٰ ؑپرظاہر ہواتھا‘آج لیزر کی صورت دنیا نور یعنی روشنی کی اس طاقت کو تسلیم کر چکی ہے ۔
امام جعفر صادق کی شہادت 25شوال اوربعض روایات میں 15شوال148ہجری کو منصورعباس خلیفہ کے دورمیںواقعہ ہوئی جو ظلم و بربریت کا دور تھا۔
جہاں کلمہ حق کہنا مشکل تھا جسے فتنوں کا دورکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔آپ ؑ نے جام شہادت نوش کرنا قبول کرلیا مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا ۔آپ کی قبراطہر جنت البقیع میں اپنی جدہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرا ؐ اور اپنے اجداد امام حسن ؑ ‘امام زین العابدینؑ اورامام باقر ؑکے پہلومیں واقع ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے جس علمی تحریک کی بنیاد رکھی اس کے سبب اسلامی دنیا علم کا گہواہ بن گئی ۔
فلکیات ریاضی کیمسٹری فزکس تمام سائنسی علوم میں مسلمانوں نے قابل رشک ترقی کی ۔لیکن جب مسلمانوں نے علم سے ناطہ توڑا تو آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ مسلمان ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔کشمیرفلسطین میانمار عراق شام میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور مسلم ممالک کا کوئی پرسان حال نہیں۔غزہ میں اسرائیل نے وحشیانہ جارحیت کا مظاہرہ کرتا رہا لیکن کوئی اس کاہاتھ ر وک نہ سکا۔

اگر مسلمان دنیا میں مقام حا صل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں باہمی اختلا فات مٹا کر متحد ہونا ہوگا، جنت البقیع جنت المعلی سمیت مشاہیر اسلام کے آثار کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہوگا ،امام جعفر صادق کی علمی تحریک سے ٹو ٹا ہوا ناطہ جوڑ کر سائنس ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے اقدامات کر نا ہوں گے خدا وند عالم اپنے وعدہ کے مطابق عالم اسلام کے درجات دنیا میں بلند کردے گا۔

Your Thoughts and Comments