Mulla Ki Azan Aur Hai Momin Ki Azan Aur

ملا کی اذاں اور ہے، مومن کی اذاں اور

صاحبان بصیرت کے قلبی امام مجدد وقت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی نظر باکمال اس حقیقت کے ادراک تک پہنچ چکی تھی کہ ملا کی اذاں اور ہے اور مومن کی اور۔اسلام میں علماء حق کا مقام بنی اسرائیل کے انبیاء کے برابر ہے۔یعنی روزقیامت یہ اس صف میں کھڑے ہوں گے۔کہ جو انبیائے بنی اسرائیل کے برابر ہوگی۔

Mulla Ki Azan Aur Hai Momin Ki Azan Aur
افشاں ناز:
صاحبان بصیرت کے قلبی امام مجدد وقت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی نظر باکمال اس حقیقت کے ادراک تک پہنچ چکی تھی کہ ملا کی اذاں اور ہے اور مومن کی اور۔اسلام میں علماء حق کا مقام بنی اسرائیل کے انبیاء کے برابر ہے۔یعنی روزقیامت یہ اس صف میں کھڑے ہوں گے۔کہ جو انبیائے بنی اسرائیل کے برابر ہوگی۔یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں علماء حق پیر طریقت،رہبر شریعت اور ولی کامل کا بھیس تو بہت سوں نے اختیار کر رکھا ہے لیکن یہ بھیس اس رخ روشن سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جو امام غزالی اور خواجہ غریب نواز شاہ شمس رکن عالم کا تھا۔سو آج اسلام کو اس حال تک پہنچانے میں ان علماء کے کردار کے باعث لازم ہو گیا کہ ان کی تصویر کے دوسرے رخ سے نقاب الٹا کر کفر کا فتویٰ لگنے کے ڈر سے آزاد ہو کر انھیں حرمت منبر و محراب یاد دلا کر ان کی صحیح سمت کا تعین کیا جائے۔

یہ دوسرارخ واجب الاحترام علمائے کرام کا نہیں قابل اصلاح مولوی اور ملا کا ہے جو از خود یہ گمان کر چکے ہیں کہ وہ علمائے دین ہیں یا پھر مختلف محافل کے نقیب انھیں القابات کی گولہ باری کرکے امراض خود پسندیدگی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

وطن عزیز میں مساجد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔نمازیوں کی تعداد ہر مسجد میں گنی جاسکتی ہے ۔
ضعیف العمر افراد کے علاوہ باقی ماندہ نمازی سلام پھیرتے ہی جیل کے قیدیوں کی طرح بھاگتے ہیں وردپاک بعد میں اور موبائل پہلے آن کرتے ہیں۔لیکن اس تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ یہ مساجد مسالک کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔اور ایک دوسرے کی دل آزاری کرنے میں لگے کہیں نماز ختم ہوتے ہی لاالہٰ کے ورد کے دوران چادریں اٹھانے اور بچے پیسے جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں اور عین آخری صف پر پہنچنے کے بعدذکر تمام کردیا جاتا ہے تو کہیں عبادات کا مغز دعامانگی ہی نہیں جاتی عقائد کا یہ ٹکراؤ اور اختلاف رائے مسلمانوں کا وہ اندرونی معاملہ ہے کہ جو کاش ! نہ اچھالا جاتا اور اسے ہوا نہ ملتی لیکن ہم انے اپنے پیٹ کی خاطر حقوق العباد ،قرآن و سنت عبادات اور اصلاح کی جگہ منبر کو ایک دوسرے کی دل آزاری کی ذریعہ بنالیا۔
کل تک تصویر کے مخالفین کے اپنے T.v چینل ہیں سپیکر کو شیطانی آلہ کہنے والے اسی سپیکر میں خطاب کرتے ہیں یا وہ کل صحیح تھے یا پھر وہ آج صحیح ہیں گوکہ یہ سلسلہ بڑے مدارس میں اب نہیں رہا مگر ہمارے دیہات ،قصبوں میں آج بھی خطیب ممبر کے ذریعے نفاق اور فساد پھیلانے کا کام کررہے ہیں۔اور جیت علماء فرقہ واریت کے خاتمے کی کوششوں میں لگنے کی بجائے اپنی اپنی سیاسی دکانوں میں اپنے دام لگوار ہے ہیں روپ بہروپ کا یہ کھیل علمائے کرام کا ہی نہیں۔
ہمارے حکمران رمضان المبارک کا آخری عشرہ مدینہ شریف میں گزارتے ہیں ۔شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کہ جنہیں یکم رمضان سے کھجور بھی ڈبل ریٹ پر میسر آئے نیا کپڑا پہننا ایک خواب ہوا۔لنڈا جس کا قومی لباس ہو رشوت کو حلال اور سود کو جائز سمجھ کر رمضان میں جسے لوٹنے کیلئے تاجران اپنے منہ کھول لیں اس عوام کے حاکم کا مدینے میں جاکر بیٹھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے جب چھان کے آٹھے سے کھیر بنائی تو آپ نے اس آٹے کی کٹوتی کروا کر اسے بھی خود پر حرام سمجھا تو یہ حکمران جن کے دامن پہ قوم کی بے چارگی اور ماتھے پر بے بسی کے داغ لگے ہیں یہ کس منہ سے شفاعت اور بخشش طلب کرنے جاتے ہیں فضل وکرم یقینا ذات برحق کا استحقاق ہے مگر حکمرانوں پر یہ لازم ہے کہ ان کی حکومت میں کوئی جانور بھی بھوکا نہ مرے اور یہاں بنی گالہ ،بلاول ہاؤس،باچاخان ہاؤس ،رائے ونڈ،زرداری ہاؤس و دیگر محلات کے گردونواح میں کئی بھوک پیاس اور کئی غربت سے لڑتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردیتے ہیں۔
وقت کے امیروں کا یہ گھمنڈ کہ وہ جو بھی کرلیں مریں گے تو شہید ہی ہوں گے۔ایسے ہی کہ جیسے یزیدگمان کرے کہ وہ صحابی رسولﷺ کا فرزند ہونے کے باعث بچ جائے گا کیونکہ یزید کے انجام بد کا یقین کامل محب اہل بیت کے ایمان کی تکمیل ہے اور اسی طرح یہ حقیقت بھی اقبال نے طے کردی تھی کہ ملا کی اذاں میں تاثیر نہ ہونے کے باعث مقتدی راستہ بدل لیتے ہیں مگر مومن کی اذانِ بلالی مانند کشش ثقل مقتدی کو کھینچ کر مسجد تک لے آتی ہے اور وہ امام کی امامت میں پکاراٹھتا ہے
اللہ اکبر۔
اور یقینا اللہ سب سے بڑا ہے اور وہ ہمارے ظاہر اور باطن کو دیکھ رہا ہے یقینا یہ کوئی مولوی یا ملا ہی ہوگا جس کے خیالات اوخطاب سے اللہ کا مقدس گھر کسی مسلک یا فرقے کی نمائندگی کرنے لگے۔
دشمن ایجنسیاں اور اسلام دشمن عناصر ایسے لوگوں کو استعمال کرکے اور کچھ کم علم پبلشرز کے ذریعے ایک طویل عرصہ نفرت انگیز مواد چھپوانے اور تقسیم کرنے کا مذموم ایجنڈا پورا کرتی رہی ہیں۔
اور بے شمار پاکستانی فرقہ واریت کی آگ میں جھلس کر زندگی کی بازی ہار گئے ۔یہ کانٹے دار درخت اتنا بھی گھنا نہیں کہ اسے کاٹا نہ جاسکے اگر جید علماء حق ایسے مولوں اور ملاؤں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں جن کاکام ہی لڑانا اور فتنہ پھیلانا ہے تو یہ ریاست سکون و اطمینان کی جگہ ہو سکتی ہے۔
اگر ایک دوسرے کی اصلاح کی ٹھیکیداری خود قابل اصلاح افراد نے اپنے ہاتھ میں رکھی تو بگاڑ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
آج بھی یہ ریاست علامہ طارق جمیل۔شفیع اوکاڑوی،مفتی نعیم،راغب نعیمی،ابتسام الہٰی،انس نورانی،سرمد اعجاز،کوکب نورانی،ندیم رضا سرور سمیت سینکڑوں قابل فخر ناموں کا ایسا گلستان ہے جہاں ہر پھول اپنی خوشبو پیش کرتا ہے۔اور کہیں بھی نفرت کا تعصب نہیں۔اگر وطن عزیز کے دیہات اور قصبوں میں پیٹ کے پجاری ملا مسجد کو ذریعہ معاش سمجھ کر نفرت پھیلانے کے بجائے ان کی تقلید شروع کردیں تو قوی امید ہے کہ مفکر مستقبل یہ بھی لکھ ڈالے کہ مومن کی اذاں ایک ہے اور ملا کی اذاں ایک۔

Your Thoughts and Comments